بیونس آئرس// روس اور یوکرائن کے درمیان جاری کشیدگی کے بادل جی 20 ممالک کے اجلاس پر منڈلانے لگے۔ یوکرائنی بحریہ کی جنگی کشتی اور جہازوں پر روسی قبضے کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ روسی صدر نے ملاقات نہیں کریں گے کیوں کہ روس نے یوکرائنی بحریہ کی کشتیاں، جہاز اور 24 اہلکاروں کو ابھی تک واپس نہیں کیا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک کے سالانہ سربراہی اجلاس دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں عالمی امور ہر ہونی تھی۔ دوسری جانب جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے حالیہ دنوں پیدا ہونے والے بحران کا سارا الزام روس پر عائد کیا ہے۔ یاد رہے کہ یوکرائن اور روس کے درمیان کشیدگی جاری ہے، یوکرائن کے صدر پورشنکوف کا کہنا ہے کہ روسی صدر یوکرائن کو اپنی کالونی سمجھتے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یوکرائنی صدر نے روس کے ساتھ حالیہ دنوں کشیدگی میں اضافہ ہونے کے بعد حالات سے نمٹنے کے لیے روس سے ملحقہ علاقوں میں 30 دنوں کے لیے مارشل لاء نافذ کردیا ہے۔ صدر پیٹرو کا کہنا تھا کہ روس کی جارحانہ پالیسی انتہائی ناپسند ہے، پہلے روس نے کریمیا پھر مشرقی یوکرائن اور اب بحیرہ ازوف میں جارحیت دکھا رہا ہے۔