عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//انسدادِ بدعنوانی عدالت سری نگر نے پیر کو ایک سابق تحصیلدار کو 2010 کے رشوت کے جال کیس میں مجرم قرار دیا۔خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی عدالت سری نگر، ڈاکٹر تسلیم عارف گنی نے محمد اکرم خان، جو اس وقت چاڈورہ میں تعینات تھے، کو بدعنوانی کے کیس میں سزا سنائی۔ یہ کیس وِجیلنس آرگنائزیشن کشمیر (اب انسدادِ بدعنوانی بیورو) نے درج کیا تھا۔ خان ضلع پلوامہ کے آری پل ترال کے رہائشی ہیں اور اس وقت سری نگر کے جواہر نگر میں مقیم ہیں۔
اے سی بی کے مطابق یہ کیس 13 مئی 2010 کو درج شکایت سے شروع ہوا، جس میں الزام تھا کہ ملزم نے ایک جائیداد کے تنازعے کو شکایت کنندہ کے حق میں حل کرنے کے لیے 20,000 روپے رشوت طلب کی۔ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے وِجیلنس آرگنائزیشن نے جال بچھایا اور ملزم کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔اس کے بعد ایف آئی آر نمبر 20/2010 پولیس اسٹیشن وِجیلنس آرگنائزیشن کشمیر میں درج کی گئی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 22 اکتوبر 2010 کو چارج شیٹ عدالت میں داخل کی گئی اور مقدمہ سماعت کے لیے آگے بڑھا۔عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے اور دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2) بمع دفعہ 5(1)(ڈی) اور رنبیر پینل کوڈ کی دفعہ 161 کے تحت غیر قانونی فائدہ لینے کا مجرم پایا۔عدالت نے پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ایک سال کی سادہ قید اور 20,000 روپے جرمانے کی سزا دی۔ عدالت نے مزید ہدایت دی کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو ملزم کو ایک ماہ کی اضافی سادہ قید کاٹنی ہوگی۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ملزم نے زیرِ سماعت قیدی کے طور پر جو وقت پہلے ہی جیل میں گزارا ہے، اسے کل سزا میں شامل کیا جائے۔ ضمانت کے بانڈ منسوخ کر دیے گئے اور عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو حراست میں لے کر سینٹرل جیل سری نگر بھیجا جائے تاکہ باقی سزا کاٹی جاسکے۔