محمد تسکین
بانہال // رامسو بلاک کے مختلف دیہات کے رہائشیوں نے بدھ کے روز بلاک ڈیولپمنٹ آفس رامسو کے باہر احتجاج کرتے ہوئے دیہی ترقیاتی محکمہ پر عوامی مطالبات کو نظر انداز کرنے اور مختلف فلاحی اسکیموں، خصوصاً پردھان منتری آواس یوجنا گرامین کے نفاذ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا۔اس موقع پر مظاہرین کی قیادت کر رہے کانگریس لیڈر فیاض احمد سوہل نے بتایا کہ عوام کی جانب سے پیش کی جانے والی متعدد ترقیاتی تجاویز کو بلاجواز مسترد کیا جا رہا ہے، جبکہ گرام سبھا سے منظور شدہ قراردادوں اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل سے حقیقی مستحقین متاثر ہو رہے ہیں اور غیر مستحقین کو فائیدہ پہنچایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے پی ایم اے وائی گرامین کے مستحقین کی فہرست کی تیاری اور رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مستحقین کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ اور مقررہ اصولوں کے مطابق کیا جائے۔ اس موقع پر دیگر نے کہا کہ پی ایم اے وائی سے متعلق شکایات صرف رامسو تک محدود نہیں ہیں بلکہ گزشتہ چند روز کے دوران بانہال اور کھڑی بلاکس میں بھی اسی نوعیت کے احتجاج ہو چکے ہیں، جہاں لوگوں نے مستحقین کی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور حقیقی مستحقین کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ دیہی ترقیات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ عوامی شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، پی ایم اے وائی (گرامین) کی فہرستوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور تمام ترقیاتی و فلاحی اسکیموں پر شفاف اور منصفانہ انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔