جموں// بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر اکائی نے روایتی حریف کانگریس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رافیل سودہ معاملہ پر سال 2019انتخابات سے قبل مودی حکومت کا گھیراؤ کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے جس کے لئے من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن مہم شروع کی گئی ہے ۔ بی جے پی نے کہاکہ کانگریس جس نے یوپی اے دوم دور میں گھوٹالوں کے ریکارڈ بنائے، وہ اب جان بوجھ کر بی جے پی کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔پارٹی صدر دفتر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بھاجپا ریاستی ترجمان بریگیڈر انیل گپتا، ایس ایس بجرال اور بلبیر رام رتن نے 526کروڑ روپے کے ائرکرافٹ 1670کروڑ میں خریدنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اس کے لئے عالمی بولی دسمبر2012میں یوپی اے دوم میں کھلی تھی،2014تک یو پی اے حکومت مینوفیکچرر کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ ہندوستان ایرناٹیکس لمیٹیڈ(ایچ اے ایل)سے متعلق آر ای پی کی شرائط میں چند اختلاف رائے تھی۔ انہوں نے کہاکہ 526کروڑ روپے ’پیشکش قیمت‘تھی اور یہ حتمی قیمت نہ تھی۔36ائر کرافٹ کی خریداری میں متعدد چیزیں شامل ہیں، مزید یہ کہ 2012سے2016کے درمیان ڈالر کی قیمتوں میں فرق ہوا۔ انہوں نے کانگریس کو مشورہ دیاکہ سیبوں کاسنگتروں سے موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ کانگریس جوکہ کرؤ یا مرؤ کی پوزیشن میں ہے، وہ لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ بتادیں کہ 26اگست کو یہاں جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران راجیہ سبھا ممبر اور پنجاب کانگریس کے سابق سربراہ پرتاپ سنگھ باجواہ نے اتوار کو نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر ملک کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مالی فوائد کے لئے حکمران اتحاد ملکی مفادات کا سودا کر رہا ہے۔ انہوں نے رافیل سودا کو 1947کے بعد سب سے بڑا گھوٹالہ قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ مرکزی سرکار ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے بجائے منظور نظر صنعتکاروں پر ٹیکس دہندگان کا پیسہ لٹا رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ جس جہاز کو کانگریس 526کروڑ میں حاصل کر رہی تھی اسی کے لئے موجودہ بی جے پی سرکار 1670کروڑ روپے ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے قیمتوں میں اس قدر اضافہ کی وجہ جاننا چاہی لیکن مرکزی سرکار جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ بی جے پی کے سابقہ نائب وزیر اعلیٰ اور سابقہ اسمبلی اسپیکر کاویندر گپتا نے کہا ہے ہ اس معاملہ پر پارلیمنٹ کے اندر بحث ہوچکی ہے اور کوئی بھی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔یو این آئی