نئی دہلی// راجیہ سبھا میں منگل کو اراکین نے ملک میں کورونا کے بڑھتے معاملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ٹیکہ کاری مہم میں تیزی لانے کی حکومت سے اپیل کی۔کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل نے وقفہ صفر کے دوران کہا کہ ملک میں ایک بار پھر کورونا کے معاملے بڑھنے لگے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو ملک کی فکر کرنے کا تبصرہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ابھی تک کووڈ ٹیکہ کاری میں صرف 0.35 فیصد لوگوں کو ہی دوسری ڈوز دی گئی ہے ۔ ٹیکہ کاری کی یہی رفتار رہی تو 70 فیصد آبادی کو ٹیکہ کاری میں 12 سال چھ مہینے اور صد فیصد آبادی کی ٹیکہ کاری میں 18 سال کا وقت لگے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ انتظام کرنا چاہئے جس سے ہر شخص کو کورونا کا ٹیکہ لگ سکے ۔سماجوادی پارٹی کے ریوتی رمن سنگھ نے وقفہ صفر کے دوران ہی اترپردیش کے پریاگ راج کے نزدیک لوگرا میں آئل ریفائنری کارخانے لگانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے لئے کافی وقت پہلے ہی زمین کی تحویل کی گئی تھی۔ وینا آئل ریفائنری کارخانے کے قیام کے بعد لوگرا میں کارخانہ لگانے کی بات کہی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک ماہ کے اندر جواب دینا چاہئے ورنہ آئل ریفائنری کارخانے نہیں لگائے جانے کی صورت میں زمین کسانوں کو واپس کردی جانی چاہئے ۔
ہندوستان 72 ممالک کو ویکسین فراہم کر رہا ہے : ہرش وردھن
نئی دہلی//وزیر صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر ہرش وردھن نے منگل کے روز راجیہ سبھا میں کہا کہ اس وقت ملک دنیا کے 72 ممالک میں کورونا وائرس (کووڈ 19) ویکسین فراہم کررہا ہے اور گھریلو ضروریات کے لئے اس کی دستیابی کو یقینی بنائی جارہی ہے ۔ڈاکٹر ہرش وردھن نے وقفہ سوال میں ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا کے ممالک کو کورونا ویکسین فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے پر ہندوستان کی تعریف کی جارہی ہے ۔ یہ ملک سرکاری و نجی اسپتالوں میں اپنی مطلوبہ ویکسین فراہم کر رہا ہے اور ساتھ ہی اس کی ذمہ داری بھی دنیا کی طرف ہے ۔ اس کے لئے پوری دنیا میں ہندوستان کی تعریف کی جاتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت ، سائنس دانوں اور پیشہ ور افراد کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ملک میں کورونا ویکسین دستیاب ہے ۔