سمت بھارگو
راجوری//راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں میں ہونے والی غیر موسمی برفباری نے نہ صرف عوام کو حیران کر دیا بلکہ معمولات زندگی کو بھی بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ مئی کے مہینے میں جہاں عام طور پر موسم خوشگوار اور قدرے گرم رہتا ہے، وہیں اچانک ہونے والی شدید برفباری نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔اتوار اور پیر کو ہونے والی مسلسل برفباری نے راجوری اور پونچھ کے کئی بالائی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں سڑکیں برف سے ڈھک گئیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
کئی اہم رابطہ سڑکیں عارضی طور پر بند ہو گئیں جبکہ لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا،خاص طور پر خانہ بدوش طبقہ، جو اس وقت اپنی موسمی نقل مکانی کے مرحلے میں ہے، اس غیر متوقع موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ کئی خاندان راستوں میں پھنس گئے اور انہیں شدید سردی، خوراک کی کمی اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان افراد نے انتظامیہ سے فوری مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔مزید برآں، تیز ہواؤں، بارش اور ژالہ باری نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مختلف علاقوں سے مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بجلی کی فراہمی بھی کئی مقامات پر متاثر ہوئی، جس سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کسان طبقہ بھی اس اچانک موسمی تبدیلی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ مقامی کسان سنجے کمار نے بتایا کہ انہوں نے گندم کی فصل کی کٹائی مکمل کر لی تھی اور دانہ نکالنے کا عمل شروع کرنے والے تھے، تاہم بارش، ژالہ باری اور تیز ہواؤں نے فصل کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث انہیں مالی خسارے کا خدشہ ہے۔
دیگر کسانوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اگر موسم مزید خراب رہا تو فصلوں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر موسمی برفباری نے نہ صرف انہیں حیران کیا بلکہ ان کے لیے نئی مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ افراد، خصوصاً خانہ بدوشوں اور کسانوں کی فوری مدد کی جائے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ادھر انتظامیہ نے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہوئے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے سے پہلے موسم کی تازہ صورتحال معلوم کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مستعد ہیں۔ماہرین کے مطابق اس طرح کی غیر موسمی تبدیلیاں موسمیاتی تغیرات کی جانب اشارہ کرتی ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے میں بروقت احتیاطی اقدامات اور بہتر منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔