سمت بھارگو
؎راجوری// ضلع راجوری میں جنگلاتی آگ کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کئی مقامات پر آگ لگنے کے تازہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سب سے بڑا واقعہ ساونی اور بتھونی جنگلاتی علاقے میں پیش آیا، جہاں خوفناک آگ نے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ساونی جنگل میں لگی آگ تیزی سے پھیلتی ہوئی راجوری قصبہ کے نزدیک واقع بتھونی جنگل تک جا پہنچی، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ خشک موسم اور جنگلات میں نمی کی کمی کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب آگ نے قریبی حساس مقامات اور بارڈر روڈز آرگنائزیشن (BRO) کے اہم کیمپوں کے لیے خطرہ پیدا کر دیا۔آگ کی شدت بڑھتے ہی محکمہ جنگلات کی فاریسٹ پروٹیکشن فورس، جموں و کشمیر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، برو اہلکاروں اور مقامی دیہاتیوں کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔
آگ پر قابو پانے کے لئے پوری رات مشترکہ طور پر بڑے پیمانے پر آپریشن جاری رکھا گیا تاکہ شعلوں کو حساس تنصیبات تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ مسلسل جدوجہد اور سخت محنت کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس بھیانک آگ سے جنگلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ متعدد درخت، جھاڑیاں، پودے اور جنگلی حیات کے قدرتی مسکن متاثر ہوئے ہیں، جس سے ماحولیاتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ادھر مراد پور-بتھونی علاقے میں بھی بی آر ائوکی ایک اہم تنصیب کے قریب اچانک جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی، جس نے سبزہ زار کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے برو تنصیب کے لیے خطرہ پیدا کر دیا۔ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر فائر ٹینڈرز اور برو ٹیموں کو فوری طور پر تعینات کیا گیا، جنہوں نے رات بھر جاری آپریشن کے دوران آگ کو قابو میں کرکے اہم تنصیب کو نقصان سے بچا لیا۔ضلع راجوری میں بار بار پیش آنے والے جنگلاتی آگ کے واقعات نے ماحولیاتی ماہرین اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف جنگلاتی رقبہ مزید متاثر ہوگا بلکہ جنگلی حیات اور ماحولیات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔