سرینگر //کاٹھی دروازہ میں قائم ذہنی امراض کے خصوصی اسپتال میں ٹیلی فون پر ڈاکٹروں سے رابطے کرنے والے 3444افراد پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگست 2020سے لیکرجنوری2021تک ماہر نفسیات سے رابطہ کرنے والے مریضوں میں1572یعنی 45.6فیصدمریض ذہنی دبائو،636یعنی 18.5فیصد یوانگی اور342افراد اضطرابی کیفیت سے متاثر تھے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 6ماہ کے دوران طبی امداد حاصل کرنے والے مریضوں میں 1938 خواتین اور 1538 مردشامل تھے۔ طبی امداد حاصل کرنے والوں میں 396کی تعداد 20سال سے کم، 176 کی عمر 20سے 40سال، 990افراد کی عمر 40سے 60سال تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 114مریضوں کو دوائی کی ضرورت نہیں پڑی،918 کو ایک دوائی،1470 کو 2ادویات، 900مریضوں کو 3ادویات اور محض 42مریضوں کو 4مختلف اقسام کی ادویات کی ضرور ت پڑی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 234مریض ایک سے زیادہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا تھے جبکہ 3210افراد صرف ایک ہی ذہنی بیماری کے شکار تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مئی 2020میں Indian Psychiatry Sociatyاور ٹیلی میڈیسن سوسائٹی آف انڈیا نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میٹنل ہیلتھ اینڈ نیور سائنسز کشمیر کے اشتراک سے ملک میں ذہنی مریضوں کو فون پر علاج فراہم کرنے کیلئے قوائد و ضوابط ترتیب دیئے اور تمام مشکلات کو دور کیا ۔تحقیق میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ مریض کی موجودگی اور ٹیلی فون کے ذریعے علاج کرنے والے مریضوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔