ایک عمر کتا ب بینی میں گزری ہے ۔پہلے پہل صرف ایک کتاب اور فرصت درکار ہوتی تھی ۔کتاب ہاتھ میں لی اور پڑھنا شروع کردی ۔کتاب کا اکثر نفس ِ مضمون دل و دماغ میں محفوظ ہوکر تحت الشعور کا حصہ بن جاتا تھا ۔کسی خاص فکری نکتے ،تاریخی واقعے ،مثالی شخصیت یا افسانوی کردار سے مرتب ہونے والے تاثرات لاشعور کا حصہ بننے کے بعد زندگی میں کہیں نہ کہیں سوچ اور قول و فعل کی شکل میں اپنی شکل میں اپنی جھلک دکھا جاتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ حافظے کی کمزوری کی وجہ سے کتاب پڑھتے وقت خاص خاص نکات کو نوٹ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔کمپیوٹر کی کتابت کا دور آیا تو کتابیں پڑھتے وقت کبھی کبھی کتابت اور املا کی غلطیوں کی بھر مار نے مجبور کیا کہ ان کی ایک فہرست تیار کرکے ممکن حد تک مصنف یا ناشر وغیرہ تک پہنچانے کی کوشش کی جائے تاکہ آئندہ کے لئے تصحیح ہو جائے ۔نظر کی کمزوری کی وجہ سے عینک بھی ایک لازمہ بن گئی ۔اب اکثر یوں ہوتا ہے کہ کتاب پڑھتے وقت عینک ،کاغذ اور قلم بھی ساتھ ہوتے ہیں۔
’’دہشت زادی‘‘ پڑھی تو اوپر بیان کئے گئے لوازمات میں رومال کا اضافہ بھی ہوگیا ۔کتاب کے اکثر حصوں کو پڑھتے ہوئے جذبات آنکھوں کو مسلسل نم آلود کرتے رہے ۔بار بار چشمہ اُتار کر آنکھوں بلکہ دھندلائے ہوئے چشمے کو بھی خشک کرنے کی ضرورت پڑتی رہی ۔کبھی کبھی تو یوں لگا کہ میں ایک ہلکی ہلکی پھوار میں ایسی گاڑی چلا رہا ہوں جس کے وائپر (Wipers)کام نہیں کررہے ۔مجھے تھوڑے وقفے کے بعد گاڑی روک کر سکرین ہاتھوں سے صاف کرنی پڑرہی ہے۔
اوپر بیان کیا گیا تجربہ اس لئے پیش آیا کہ ’’دہشت زادی ‘‘ میں بیان ہونے والے حالات و واقعات وہ تاریخی زخم ہیں جن سے مسلسل خون رِس رہا ہے۔ ایسا خون جو کسی پھاہے ،مرہم پٹی یا کسی دوا سے رکنے کا نام نہیں لے رہا ۔ایسا ناسور جو مسلسل پھیلتا جارہا ہے ،جس کا کرب ہر آنے والے لمحے کے ساتھ زیادہ ہوتا جارہا ہے ۔خون کی فطرت میں بہہ کر جم جانا شامل ہے لیکن اہل ِکشمیر کے خون میں نہ جانے کیا خاص بات ہے کہ صدیوں سے مسلسل بہنے کے بعد بھی اس کے جمنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ تی۔
تاریخی لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو کشمیر یوں کی داستان ِ الم کا ایک اہم موڑ 1586ء میں ایک سلطنت کے سقوط کا واقعہ ہے ،جب کشمیری بادشاہ کو اکبر نے اپنے دربار میں طلب کرکے سفارتی آداب کو پس ِپشت ڈالتے ہوئے گرفتار اور جلا وطن کردیا ۔یوسف شاہ کی ملکہ حبہ خاتون ،جس کی ابتدائی زندگی دکھوں سے بھری ہوئی تھی ،چند سالہ شاہانہ زندگی کے عیش و آرام کے بعد پھر اس ذاتی اور قومی سانحے کی تاب نہ لاتے ہوئے نیم دیوانگی کے عالم میں بستی بستی پھرتی رہی اور ادھیڑ عمری میں انتقال کرگئی۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو حبہ خاتون کی زندگی اور تاریخ ِ کشمیر میں ایک عجیب مماثلت نظر آتی ہے ۔حبہ کے حسن و جمال ،ذہانت و لیاقت ،حسن فطرت سے شاعرانہ لگائو ،درد دل کی فراوانی اور خطۂ کشمیر کے حسن ،کشمیریوں کی ذہانت ،چرب دستی ،سادہ مزاجی اور انسان دوستی میں ایک گہرا ربط ہے۔
مغلوں کے بعد افغانوں ،سکھوں اور ڈوگروں کے تسلط میں رہنے سے ان کے معاشی اور سیاسی اور سماجی دکھوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ۔1947ء میں برصغیر پاک و ہند نے بظاہر برطانوی سامراج سے چھٹکارا حاصل کیا تو اہل ِ کشمیر کو بھی صبح ِ آزادی کی کرنیں نظر آنے لگیں لیکن افسوس کہ جس چراغ کی لَو کے لئے انہوں نے اپنا خون پیش کیا، اسی سے گھر کو آگ لگ گئی ۔کشمیر تقسیم ہوگیا ۔اہل کشمیر مختلف آقائوں سے وفاداریوں کے بوجھ تلے دبتے گئے ،کراہتے رہے اور جبر ہے کہ ہزاروں لاکھوں قربانیوں کے باوجود مسلسل بڑھتا ہی جارہا ہے ۔1947 ء سے کشمیر کے سیاسی ’’یوسف شاہوں‘‘ کو مسلسل سبز باغ دکھاکر ان سے دھوکے کئے جارہے ہیں اور ’’حبہ خواتین‘‘ یعنی بے کس و بے بس عوام نیم دیوانگی کے عالم میں ہر نئی صبح ِ کاذب کے بعد کسی صبح ِ صادق کی امید میں مزید اندھیروں میںدھکیلے جارہے ہیں ۔
1846ء میں گلاب سنگھ(سنگھ بمعنی شیر)نے پوری کشمیری قوم کو بھیڑ بکریوں کی طرح خریدا۔اس کے خاندان نے ایک سو ایک سال تک ان پر حکمرانی کی او ر 1947ء میں ’’شیر کشمیر‘‘ نے ان بھیڑ بکریوں کو اپنے افسانوی’’آدرشوں‘‘ کے گھیرے میں لے کر درندوں کی کچھار تک ہانک دیا ۔بھیڑ بکریاں ہیں کہ مسلسل ممیائے جارہی ہیں ۔کوئی پُرسان ِ حال نہیں۔
بیچا مِرے اجداد کو افرنگ نے اِک بار
ہر روز ہمیں بیچتے ہیں اپنے یہ سردار
1947ء میں ہونے والے ظلم و ستم کی داستان کو ادبی اظہار دینے والے محمود ہاشمی نے اپنی کتاب کا نام’’کشمیر اداس ہے‘‘ رکھا ۔مصنف نے اپنے اعتدال پسندانہ رویے اور دھیمے مزاج کی وجہ سے چھ نومبر1947ء اور اس سے ملتے جلتے واقعات کو محض ’’اداسی‘‘ سے تعبیر کرنے پر اکتفا کیا لیکن1990ء تک یہ اداسی ایک کھلم کھلا دہشت بن گئی،دیوانگی اور درندگی کی آخری حدود کو عبور کرگئی ۔نعیمہ احمد مہجور نے جبر اور دہشت کے حالات کی تصویر کشی اپنے نیم صحافتی رپورتاژ ’’دہشت زادی‘‘ کی شکل میں کی ہے ۔آپ بیتی اور جگ بیتی کا بہترین امتراج اور مرقع۔
’’دہشت زادی‘‘ مصنفہ نعیمہ احمد مہجور نے صیغہ واحد متکلم استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی لاکھوں مائوں ،بہنوں ،بیٹیوں اور بیویوں کے گھریلو،سماجی اور سیاسی استحصال کی تصویر کشی کی ہے ۔گم شدہ جوانوں کی مائوں یا بیویوں کو ہر آہٹ پر اپنے پیاروں کی واپسی کی اُمید اور مایوسی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔کشمیر کے الم ناک حالات کے بارے میں کشمیری اور غیر کشمیری شعراء کا ایک وسیع ادبی ذخیرہ ہے۔افسانوی ادب اور صحافتی اظہاریوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔حقیقت یہ ہے کہ منٹو ،کرشن چند اور دوسرے صف اول کے مصنفین نے اپنے محسوسات بڑے اچھے انداز میں بیان کئے ہوں گے لیکن وہ بہر حال مشاہدات و تاثرات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ۔’’کشمیر اداس ہے‘‘کے مصنف محمود ہاشمی اس معرکۂ کارزار کا ایک حصہ تھے اس لئے ان کے اظہار یے میں زیادہ اثر ہے ۔مسلسل دہشت کے جس ماحول میںنعیمہ احمد مہجور ذاتی ،خاندانی اور وسیع تر سماجی اذیت سے گزری ہیں، اس کے اظہار میں فنی چابک دستی سے قطع نظر جو درد و کرب کی گہرائی ہے، وہ شاید بڑے بڑے نام ور قلم کاروں کو نصیب نہیں ہوسکتی۔یہ ایک آپ بیتی ہے ،تڑپتی ہوئی روح کی تصویر کشی ہے ۔سہمی ہوئی قوم کا ایک ایک فرد کسی قریبی عزیز پر بھی اعتماد نہیں کرسکتا کہ نہ جانے وہ مدد اور تحفظ دے گا یا مخبری کرکے خون خوار ظالموں کے پنجوں تک پہنچادے گا ۔پوری قوم ہمہ وقت خوف کا شکار ہے ۔گھر کے اندر خوف ،کوچہ و بازار میں خوف ۔اس اذیت کے اظہار پر بھی کسی کی ہمدردی ملنے کی بجائے اذیت و کرب میں اضافے کا خوف ۔
نعیمہ احمد مہجور تاریخی ستم ظریفیوں کا متعدد مرتبہ اظہار کرتی ہیں ۔وہ لکھتی ہیں کہ:
’’ہماری کوئی اپنی تاریخ نہیں رہی ہے ۔کرایہ کے مورخوں نے ہماری تاریخ ہی مسخ کردی ہے ۔میں نے ان مورخوں کی تمام کتابیں مکان کے باہر لکڑی کے بنے سٹور میں رکھی ہیں ۔شیخ محمدعبداللہ کی آتش ِ چنار بھی ان میں پڑی ہے ۔‘‘(صفحہ117)
حقیقت یہ ہے کہ شیخ محمد عبداللہ کے کردار اور’’ آتشِ چنار ‘‘دونوں کا مقام کاٹھ کباڑ والا سٹور ہی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ تاریخ کا یہی ملبہ ہی ہمارا ورثہ ہے ،جسے سنبھال کر رکھنا یا پھینک دینا ہمارے بس میں نہیں ۔’’آتش چنار‘‘ کا نصف سے زیادہ موا د’’اپنے منہ میاں مٹھو ‘‘ کی ذیل میں آتا ہے ۔ہاں بعض مقامات پر نہ جانے کیا سوچ کر شیخ محمد عبداللہ نے وہ پیش گوئیاں کی ہیں جو آج تاریخی سچائیاں بن کر ہمارے سامنے ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیری قوم کو ’’اٹوٹ انگ‘‘اور ’’شہ رگ ‘‘کے گول قرار دے کر ایک سیاسی فٹ بال بنادیا گیا ہے جس پر دونوں اپنی اپنی سکورنگ کی خاطر مسلسل لات ماری کررہے ہیں ۔عجیب اٹوٹ انگ ہے جس پر خود ہی مسلسل زخم لگائے جارہے ہیں اور عجیب شہ رگ ہے جس سے مسلسل خون بہہ رہا ہے اور باقی جسم میں بسمل کی تڑپ نہیں بلکہ ٹس سے مس نہیں ہورہا۔رسمی سی بیان بازی ہورہی ہے۔اس کرب ناک تاریخی سچائی کو نعیمہ یوں بیان کرتی ہیں:’’سکول میں بھارت نے اپنی پسند کی تاریخ پڑھاکر ہمیں ہندوستانی بنانے کی بڑی محنت کی ۔جب کہ پاکستان نے کشمیر کو اپنی شہ رگ بتاکر ہمیں آرام سے بیٹھنے دیا نہ صحیح معنوں میں مدد کی۔جب آزادی کی لمبی پُر امن تحریک کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو کشمیری نوجوانوں نے پاکستان جاکر اسلحہ کی تربیت حاصل کرکے بھارت کے خلاف مسلح تحریک کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں کشمیر کا ہر گھر ،ہر خاندان اور ہر فرد متاثر ہوا بلکہ سات لاکھ بھارتی فوج نے پوری آبادی کوذہنی طور پر مفلوج بنادیا ۔’‘۔۔۔(صفحہ120؍121)
اگر درج بالا اقتباس کے ضمیمہ کے طور پر یہ سطور بھی ساتھ ملادی جائیں تو بات میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے:
’’فوج گاجر مولی کی طرح ہمارے نوجوانوں کا کاٹ رہی ہے ۔ہماری نسلیں برباد کررہی ہے ،کوئی آواز نہیں اٹھاتا ۔اسلحہ دینے والوں نے ہماری آواز اٹھانے کی تہذیب سیکھی ہوتی یا ہمیں اپنے حال پر چھوڑ ا ہوتا تو حالات اتنے خراب نہیں ہوتے۔۔۔(صفحہ157)
اس تلخ سچائی سے مربوط کتنی بڑی زمینی حقیقت کو وہ ایک جگہ یوں بیان کرتی ہیں:
’’پہاڑوں پر غیر معمولی برف باری سے وادی کی اہم شاہراہ بند ہوگئی ۔یہ واحد سڑک ہے جو کشمیر کو بھارت سے ملاتی ہے ۔ہم دعا کرتے ہیں کہ شاہراہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے۔ہم دل سے شاہراہ بند ہونے کی دعا نہیں مانگ سکتے ۔ہماری تمام ضروری اشیاء اسی راستے سے وادی پہنچتی ہیں اور یہ ہماری شہ رگ کی مانند ہے ،ویسی شہ رگ نہیں جو کشمیر پاکستان کے لئے ہے‘‘۔۔۔۔(صفحہ154۔155)
دعا انسانی زندگی کا سب سے بڑا نفسیاتی اور روحانی سہارا ہے۔یہ جسمانی تشدد اور قانونی بندشوں سے روکی نہیںجاسکتی ۔یہ لفظوں کی محتاج نہیں بلکہ براہِ راست دل کی گہرائیوں سے نکل کر عرشِ معلی تک پہنچتی ہے ۔آہ! اس قوم کے روحانی درد و کرب کی انتہا دیکھئے جو دعا مانگتے ہوئے بھی تذبذب کا شکار ہو کہ وہ مجیب الدعوات سے کیا مانگے اور کیا نہ مانگے۔