سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے گھمبیرمغلاں جنگلات کے دھوری مہل علاقے میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی آپریشن پیر کے روز مسلسل سترہویں دن میں داخل ہو گیا۔ اس دوران گھنے جنگلاتی علاقے سے ایک بار پھر شدید فائرنگ اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔یہ وسیع پیمانے کا آپریشن 23 مئی کو اس وقت شروع کیا گیا تھا جب سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر دھوری مہل جنگلاتی علاقے میں تلاشی مہم شروع کی۔ سرچ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کا مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ رابطہ ہوا جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا اور انکاؤنٹر کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
اس کے بعد سے فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ ٹیمیں مسلسل جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ علاقے کی جغرافیائی صورتحال انتہائی دشوار گزار بتائی جا رہی ہے جہاں گھنے جنگلات، اونچی پہاڑیاں اور دشوار راستے سیکورٹی فورسز کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود فورسز نے پورے جنگلاتی علاقے کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے تاکہ ملی ٹینٹ فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔اتوار کے روز کچھ وقت کے لیے صورتحال نسبتاً خاموش رہی تھی، تاہم پیر کی صبح دوبارہ فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوںکے درمیان رابطہ ابھی بھی برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق فورسز جدید ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی اور تربیت یافتہ دستوں کی مدد سے جنگلات میں چھپے ملی ٹینٹوںکا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔سیکورٹی اداروں نے پورے علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ قریبی دیہات میں بھی چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کو جنگلاتی علاقوں کی طرف جانے سے منع کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ادھر اس آپریشن کے دوران ہفتہ کی شام ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا تھا جس میں فوج کے ایک نوجوان افسر لیفٹیننٹ بیرشور گوسوامی اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ آپریشن کے دوران پہاڑی ڈھلوان سے گر گئے تھے جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔ ان کی وفات پر فوجی حلقوں اور مقامی عوام کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے اور ملی ٹینٹوںکی تلاش کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق آپریشن اْس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دے دیا جاتا۔مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سیکورٹی فورسز جلد ہی اس آپریشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کریں گی تاکہ علاقے میں دوبارہ امن و امان کی صورتحال بحال ہو سکے۔