راجوری میں ایک خاندان کی شکایت پر دودھ کے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے،عوام میں تشویش
سمت بھارگو
راجوری// ضلع راجوری میں مبینہ ملاوٹی دودھ کا ایک حیران کن معاملہ سامنے آنے کے بعد عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایک مقامی خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ بازار سے خریدا گیا دودھ اْبالنے پر دودھ کی بجائے پلاسٹک نما مادے میں تبدیل ہو گیا، جس کے بعد محکمہ فوڈ سیفٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دودھ کے نمونے ضبط کرکے لیبارٹری جانچ کے لیے روانہ کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اصل حقیقت لیبارٹری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی، جبکہ رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔راجوری کے رہائشی امجد میر نے محکمہ فوڈ سیفٹی کے پاس شکایت درج کراتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مقامی بازار کی ایک دکان سے تقریباً تین کلوگرام دودھ خریدا تھا۔ ان کے مطابق جب گھر میں دودھ کو اْبالا گیا تو اس میں سے بڑی مقدار میں ایک پلاسٹک نما مادہ جمع ہونے لگا، جسے دیکھ کر گھر والے حیران رہ گئے۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ یہ دودھ قدرتی نہیں بلکہ کیمیائی طریقے سے تیار کیا گیا محسوس ہوتا ہے، جس سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شکایت موصول ہوتے ہی محکمہ فوڈ سیفٹی کی ایک ٹیم متعلقہ دکان پر پہنچی اور ابتدائی معائنہ کیا۔ ٹیم نے فروخت کیے جا رہے دودھ کے نمونے اپنی تحویل میں لے کر انہیں سائنسی جانچ کے لیے مجاز لیبارٹری روانہ کر دیا۔ محکمہ کے حکام نے بتایا کہ نمونوں کی مکمل جانچ کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ دودھ خالص تھا، ملاوٹ شدہ تھا یا انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ تھا۔حکام نے واضح کیا کہ فی الحال کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ معاملہ مکمل طور پر لیبارٹری رپورٹ پر منحصر ہے۔ اگر رپورٹ میں دودھ میں ملاوٹ یا مضر صحت اجزاء کی موجودگی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد راجوری کے شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ عرصے کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں سے کیمیائی طریقے سے تیار کیے گئے پنیر، مکھن اور دیسی گھی کی بھی برآمدگی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملاوٹی اور جعلی اشیائے خوردونوش کی فروخت پر مؤثر طریقے سے قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر خوراک میں اس طرح کی ملاوٹ کا سلسلہ جاری رہا تو عوام، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور مریضوں کی صحت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ دودھ، دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات اور دیگر غذائی اشیاء کی باقاعدہ جانچ کی جائے، بازاروں میں اچانک چھاپے مارے جائیں اور ملاوٹ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ عوام کی جانوں سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر لیبارٹری رپورٹ میں ملاوٹ کی تصدیق ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شہریوں کی صحت سے کھیلنے کی جرت نہ کر سکے۔ ادھر محکمہ فوڈ سیفٹی نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی غذائی شے میں ملاوٹ یا غیر معیاری ہونے کا شبہ ہو تو فوری طور پر متعلقہ محکمہ کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔