سائنسدانوں نے گرین لینڈ کے ساحلی خطے میں ایک نئے جزیرے کو دریافت کیا ہے جسے دنیا کا انتہائی شمال کا زمینی مقام قرار دیا گیا ہے۔ایک کمپنی نے اپنی پروٹوٹائپ فلائنگ کار کی یورپی ملک سلواکیہ کے 2 شہروں کے درمیان کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی ہے۔تفصیلات کے مطابق گرین لینڈ میں آرکٹک ریسرچ اسٹیشن کے سربراہ مورٹین راش نے بتایا کہ سائنسدانوں نے ایک نئے جزیرے کو دریافت کیا ہے۔اگرچہ ہمارا ارادہ کسی نئے جزیرے کو دریافت کرنا نہیں تھاتاہم ہم تو وہاں بس نمونے اکٹھے کرنے گئے تھے۔اس مقام پر پہنچنے کے بعد سائنسدانوں کا خیال تھا کہ وہ اووڈک نامی جزیرے پر موجود ہیں جس کو 1978 میں ڈنمارک کی سروے ٹیم نے دریافت کیا۔
مگر جب انہوں نے لوکیشن کی جانچ پڑتال کی تو انہٰں احساس ہوا کہ وہ اووڈک سے شمال مغرب میں 780 میٹر دور ایک دوسرے جزیرے پر موجود ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ ہر ایک پہلے اس بات پر خوش تھا کہ ہم نے اووڈک جزیرے کو ڈھونڈ لیا ہے، یہ ماضی کی مہمات کی طرح تھا جب لوگ سوچتے تھے کہ وہ کسی مخصوص مقام پر ہیں مگر درحقیقت انہیں نے ایک نیا مقام دریافت کرلیا ہوتا ہے۔یہ چھوٹا سا جزیرہ 30 میٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کا ابھی کوئی نام نہیں مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے لیے ناردرن موسٹ آئی لینڈ کا نام تجویز کریں گے۔امریکا کی جانب سے حالیہ دہائیوں میں متعدد مہمات کے دوران دنیا کے انتہائی شمالی جزیرے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا جزیرہ برف پگھلنے سے سامنے آیا ہے اور یہ براہ راست گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے جس کے باعث گرین لینڈ کی برفانی پٹی سکڑ گئی ہے۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ جزیرہ بہت جلد سمندر میں گم ہوجائے گا، مگر فی الحال یہ دنیا کے شمال کا آخری زمینی حصہ ہے جو بار بار ابھرتا ڈوبتا رہے گا۔
دریں اثنابہت جلد اپنی گاڑی کو سڑک پر دوڑانے کی بجائے فضا میں اڑانے کا خواب تعبیر پانے والا ہے۔ایک کمپنی نے اپنی پروٹوٹائپ فلائنگ کار کی یورپی ملک سلواکیہ کے 2 شہروں کے درمیان کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کی۔کین ویژن کی ایئر کار نامی یہ گاڑی سلواکیہ کے دارالحکومت براٹیسلاوا اور نیترا کے درمیان 35 منٹ تک پرواز کرنے میں کامیاب رہی۔ایئرکار میں 160 ہارس پاور کا بی ایم ڈبلیو انجن موجود ہے جبکہ ایک فکسڈ پروپلر سے بھی لیس ہے۔ایئر کار 3 منٹ سے بھی کم وقت میں طیارے سے زمینی گاڑی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔کمپنی کے مطابق اس پروٹوٹائپ گاڑی نے اب تک 40 گھنٹے سے زیادہ وقت کی آزمائشی پروازیں مکمل کرلی ہیں۔یہ گاڑی 8200 فٹ کی بلندی تک پرواز کرچکی ہے اور زیادہ سے زیادہ 118 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتی ہے۔سلواکیہ میں پرواز کے بعد یہ زمین پر پہنچ کر گاڑی میں تبدیل ہوئی اور شہر کے مرکز تک سفر کرکے گئی۔کمپنی کے سی ای او اسٹیفن کلین نے بتایا کہ ایئر کار اب محض کوئی کانسیپٹ نہیں سائنس فکشن سے حقیقت میں تبدیل ہوچکی ہے۔
کمپنی کی جانب سے ایئر کار پروٹوٹائپ 2 پر کام کیا جارہا ہے جس میں 300 ہارس پاور انجن ہوگا جبکہ 186 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 621 میل تک سفر کرسکے گی۔
کمپنی کی جانب سے ایئرکار کے 3 اور 4 نشستوں والے ماڈلز کی تیاری کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔متعدد کمپنیوں کی جانب سے اڑنے والی گاڑیوں کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے مگر اب کانسیپٹ یا پروٹوٹائپ سے آگے بڑھ نہیں سکی ہیں۔اگر کوئی کمپنی اڑنے والی کمرشل گاڑی تیار کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو اس کی ریگولیٹری منظوری کے لیے بھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔
�������