جموں// سی پی آئی ایم جموں وکشمیر یونٹ نے آج مرکزی سرکار کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہاہے کہ دفعہ35اے کی تنسیخ کرنے کی اگرکسی بھی قسم کوئی کوشش کی گئی تو اس صورت میں ریاست بھرمیں برے نتائج برآمد ہوں گے ۔یہاں پرپارٹی کی جانب سے جاری پریس بیا ن میں سی پی آئی ایم نے مرکزی سرکار سے گذارش کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں چل رہے دفعہ 35 اے کی تنسیخ سے متعلق معاملے کا دفاع کرنے کےلئے فوری طورپر حلفہ بیان دائر کرے۔ پارٹی نے مرکزی سرکار قومی مفاد میں فوری طورپراس ضمن میں اقدام اٹھانے کوکہاہے۔ سی پی آئی ایم نے واضح کردیاہے کہ سال 1954ءمیں صدر ہند نے ریاست جموں وکشمیر کوخصوصی کادرجہ دینے کےلئے دفعہ 35اے کو نفاذ عمل میں لایا اور اب جبکہ اپیکس کورٹ میں صدرہند کے جاری احکامات کو چلینج کیاگیا ہے پر شنوائی کل ہوگی۔ پارٹی نے صاف طور پر کہہ دیاہے کہ دفعہ35اے کوہٹائے جانے سے ریاست کی موجودہ صورتحال میں مزید پیچیدگیاں ابھر آئیں گی جس کےلئے مرکز کی برسراقتدار ہی ذمہ دار ہوگی۔ پارٹی ور کروں سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے علاقائی سیکرٹری شیام پر ساد کیسر نے مرکزی سرکار سے گزارش کی ہے کہ وہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کےلئے قومی مفاد کی خاطر ایک مضبوط ارادے کے ساتھ معاملہ کی دفاع کےلئے سپریم کورٹ میں حلفہ بیان دائر کرے۔ کیسر نے مزید کہاہے کہ ریاست جموں وکشمیر کا اخلاق بھارت کے ساتھ دفعہ370 اور دفعہ35 اے کے تحت پختہ ارادوں کے ساتھ طے ہوچکاہے اوران دفعات کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے پرمعاملہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا لہذا ریاست کی عوام اورقومی مفاد میں سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی شنوائی کے دوران پوری مضبوطی کے ساتھ دفاع کیا جائے۔ انہوںنے بی جے پی اورآر ایس ایس پر ریاست میں صورتحال کو غیر مستحکم بنانے کا بھی الزام لگایاہے۔