بانہال//نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر اور ضلع صدر رام بن سجاد شاہین نے دفعہ 370اور 35اے کو ہٹائے جانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے منائی جارہی خوشی پر اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خوشی کیلئے بھارتیہ جنتا پارتی کوجواب دینا چاہئے کہ انہوں نے ریاست کیلئے دو سال میں ایسا کیا ہے جس پر وہ تقاریب اور جشن منا رہے ہیں۔ وہ بانہال میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایسی جھوٹی ہوا تیار کی گئی ہے جس سے ریاست میں تعمیر و ترقی کی گمراہ کن باتیں کی جا رہی ہیں جبکہ زمینی سطح پر لوگ تنگ ائے ہیں بیروزگاری اور ملی ٹینسی بڑھ گئی ہے ، صنعتی پالیسی بھلا دی گئی ہے اور لوگوں کو اپنے جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے عدم اعتمادیت کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں بانہال میں فورلین تعمیراتی کمپنی کے آحاطے میں ایک پراسرار دھماکے کے بعد بانہال پہنچے بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر راجیو چاڑک کا یہ بیان مزاحیہ خیز ہے جس میں انہوں نے اس دھماکے کیلئے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا نام لیکر اس دھماکے کو ان کی کارستانی قرار دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر راجیو چاڑک جی کو کسی نفسیاتی ڈاکٹر سے علاج کرانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم جی تعمیراتی کمپنی کے احاطے میں کئے گئے پراسرار دھماکے کی تحیقیقات اے این ائی سے کرائی جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ یہ دھماکہ کسی نے مبینہ طور اپنے مفادات کے حصول کیلئے کرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کے بچکانے بیانات سے لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست جموں و کشمیر میں میں سٹریم سیاست کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ آخر بھاجپا کس کیلئے جگہ بنانا چاہتی ہے ؟۔ سجاد شاہین نے کہا کہ لوگوں اور سایسی کارکن میں عدم تحفظ کی فضا قائم ہے اور زمینی سطح پر لوگ مشکلات اور مصائب سے دوچار ہیں ۔