گوکہ بر صغیر کے آسمان پر چھائے جنگ کے بادل ابھی پوری طرح چھُٹے نہیں ہیں، لیکن پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی بلوغت نے ایک اُمید پیدا کردی ہے کہ شایدآنے والے دن کچھ نہ کچھ بہتری کا عندیہ لے کر آئیں گے۔ توپوں اور میزائیلوں کی گن گرج کے بیچ ایکدم امن کے تار بج اُٹھے جب عمران خان نے بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن کو بغیر کسی شرط و شرایط کے بھارتی حکومت کو لوٹا دینے کا اعلان کردیا۔ عمران خان کے لئے یہ بہت ہی مشکل ترین فیصلہ تھا۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر حملہ ہوا تھا، وہاں کے لوگ غصے میں تھے، وہاں کا میڈیا اپنے بھارتی ہم منصبوں کی طرز پر جنگ و جدل کی ڈفلی بجا رہا تھا۔ ایسے میں ابھینندن کو واپس کرنے کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو عمران خان کی سیاسی ساخت اور شہرت کے لئے سم قاتل بھی ثابت ہوسکتا تھا۔ لیکن خان نے یہ فیصلہ لیا اور ڈنکے کی چوٹ پر لیا۔ یہ فیصلہ جہاں بر صغیر کے لوگوں کے لئے ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح آیا وہیں اس مدبرانہ فیصلے نے اقوام عالم میں عمران خان کا سیا سی قد کافی بلند کر دیا۔ گو کہ ایل۔او۔سی اور سرحد پر ابھی بھی کشیدگی کا ماحول قایم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنگ کے نقاروں کے بیچ امن کی سرگوشیاں بھی سنائی دینے لگی ہیں۔
بھارت میں انتخابی موسم شروع ہو چکا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس موسم میں امن کی ہوائیں راس نہیں آسکتی ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اپنی انتخابی ریلیوں کو جنگی ریلیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ بھارت کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار ملک کی افواج کو ایک انتخابی نعرے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بالا کوٹ حملے کے بارے سوالات اُٹھانے والوں کو نہ صرف دیش دروہی جتلایا جا رہا ہے بلکہ اُنہیں براہ راست پاکستانی Poster Boys کا نام دیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں حزب مخالف سے وابستہ سیاسی جماعتیں جوں جوں نزدیک آتی جا رہی ہیں، نریندر مودی بھی اپنے جنگی نعروں میں شدت لاتے جارہے ہیں۔ ’چُن چُن کے ماریں گے، گھروں میں گھس کے ماریں گے‘، یہ فلمی ڈائیلاگ، فلموں کے سکرینوں سے اُتر کر وزیر اعظم نریندر مودی کے ہونٹوں پر آگئے ہیں۔ الیکشن کی گرماگرمی میں مودی امن کی بات کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے ملک بھر میں جنگ کی حمایت میں ایسا ماحول قایم کر دیا ہے کہ امن کی بات کرنا گناہ سا لگنے لگا ہے۔ اس ماحول کے بنانے میں کچھ بھارتی الیکٹرانک میڈیا چینلوں نے بھی نہایت گھنائونا کردار اد کیا۔ اپنی چینلوں کی ٹی۔آر۔پی بڑھانے کے چکر میں یہ چینل پورے ملک کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کے در پے ہیں۔ لیکن کیا بھارت الیکشن کے بعد بھی اس جنگی ماحول کو قایم رکھنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟
بالا کوٹ حملے کے بعد جو کچھ بھی ہوا، وہ اپنے آپ نہیں ہوا۔ اس میں لازمی طور کچھ بین الاقوامی طاقتوں کا ہاتھ تھا۔ کرگل جنگ کی تاریخ گواہ ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں ہند۔پاک کو اپنے حال پر نہیں چھوڑ سکتیں۔ دونوں نیو کلیائی ممالک ہیں اور دونوں میں سے کسی ایک کا بھی پاگل پن دنیا کی بر بادی کا سبب بن سکتا ہے۔ آج کی تاریخ میں تو بین الاقوامی طاقتیں کچھ زیادہ ہی محتاط ہیں کیونکہ جہاں ان کو ایک جانب اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستانی فوج کسی بھی حد تک جاسکتی ہے وہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بھارت کی موجودہ حکومت بھی پاکستانی فوج کی طرح انتہا پسند ہے۔ ایسے ماحول میں اگر بین ا قوامی طاقتیں اپنے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال نہ کریں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ انہی خدشات کے مد نظر بین الاقوامی طاقتوں نے در پردہ کوششیں شروع کر دی ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کو کم کیا جائے۔
بین الاقوامی طاقتیں سر گرم ہو چکی ہیں اس کا عندیہ اس بات سے بھی ملتاہے کہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت نے عسکریت سے جُڑے گرہوں کے خلاف کاروائی شروع کر دی ہے۔ حافظ سعید، جن کو بھارت ممبئی حملوں میں ملوث مانتا ہے، کی تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون شروع ہو چکا۔ ان کے دفاتر سیل کئے جارہے ہیں اور ان کی مالیاتی سرگرمیوں کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا۔ جیش محمد، جس نے پلوامہ خود کش حملے کی ذمہ داری لی تھی، کے اراکین کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ، شاہ محمد قریشی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جیش محمد کے چیف مسعود اظہر پاکستان میں ہیں لیکن کافی علیل ہیں۔ ان سب باتوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کچھ بیرونی طاقتیں ہیں جو در پردہ کام کر رہی ہیں اور یہی اشارے امن کے قیام کی امید با ندھتے ہیں۔
اس ساری صورتحال میں جو حقیقت واضع طور اُبھر کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ کشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ آج چہار طرف سے بھارت اور پاکستان کو مشورے دئے جا رہے ہیں کہ وہ رسہ کشی کا راستہ چھوڑ کر امن و تفہیم سے مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کی خاطر ایک دوسرے سے بات چیت شروع کر دیں۔ عالمی برادری کا ما ننا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا زیادہ دیر تک حل طلب رہنا نہ صرف بر صغیر بلکہ پوری دنیا کے امن و امان کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی حقیقت کے مد نظر در پردہ سفارتکاری شروع ہو چکی ہے۔ لیکن یہ بیرونی طاقتیں بھی اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ بھارت کی طرف سے انتخابات سے پہلے اور نئی سرکار بننے تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی اس لئے ان طاقتوں کی یہی کوشش ہے کہ جب تک بھارت میں نئی سرکار چُن کر نہیں آتی، عمران خان بھارت مخالف عسکری تنظیموں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھیں تاکہ بھارت میں جو بھی نئی سرکار بر سر اقتدار آتی ہے، اُس کے پاس بات چیت سے فرار کا کوئی راستہ نہ ہو۔
بھارت۔پاکستان کے بیچ سمجھوتہ ایکسپریس کا پھر سے شروع ہونا، پاکستان کی جانب سے اپنے بھارتی سفیر کو واپس دہلی بیجنے کا فیصلہ اور کرتار پور کاریڈور کے حوالے سے بات چیت کا فیصلہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ جنگی بادلوں کے چھُٹنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔اور اگر ایسا ہو تا ہے تو کشمیر اور کشمیری عوام کے لئے اس سے بڑی خوشخبری اور کوئی نہیں ہو سکتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بھارت اور پاکستان کے مابین بات چیت ہوئی ہے تو حالات میں لازمی طور سدھار آیا ہے۔ اور اس سدھار کا براہ راست فائدہ کشمیر اور کشمیریوں کو ہوا ہے۔ جب جب ہند و پاک بات کرتے ہیں، کشمیر میں تشدد کا گراف نیچے گرتا ہے اور امن کی خوشگوار ہوائیں چلنا شروع ہوجاتی ہیں۔
ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر