کشمیر اپنے حسین و جمیل نظاروں کی بدولت ہی دنیا میں مشہور نہیں ہے بلکہ یہ علم و ادب کا بھی گہوارہ ہے۔اس خاک سے ایسے ایسے بلند قامت مورخ ، فلسفی ، ادباء و شعراء، ناقد اٹھے ،جن کا نام تاریخ میں ہمشیہ زندہ رہے گا۔اس وقت بھی اردو ادب کو فروغ دینے میں جہاں کہنہ مشق ادیب اور ناقدین پیش پیش ہیں وہیں ایسے نوجوان کی بھی کمی نہیں، جنہوں نے تحقیق و تنقید کے میدان میں قابل تحسین کام کیا ہےاور جس خلوص ،محنت اور عرق ریزی سے کام کرتے ہیں، وہ اُن کو ادبی حلقوں میں منفرد شناخت دینے کے لیے بھی کافی ہے۔ایسے ہی جوان سالہ ناقدین میں ایک اہم نام ڈاکٹر فردوس احمد بٹ کا ہے۔
ڈاکٹر فردوس 5 جنوری 1983 ء میں کرشہامہ بارہمولہ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حاجی عبد الرحیم بٹ ہے۔ ڈاکٹر فردوس کا رحجان بچپن سے ہی لکھنے کی طرف تھا۔ ہائر اسکینڈری کے زمانے میں پہلی تحریر رسالہ"افروٹ" ہائر اسکینڈری چندیلورہ ٹنگمرگ میں ’’خواب‘‘ ( انشائیہ ) کے عنوان سے شائع ہوئی ۔ڈاکٹر فردوس کی افسانوی ادب اور تحقیق و تنقید کے ساتھ خاص دلچسپی ہے، انشائیے اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔ڈاکٹر فردوس نے 2016 ء میں"فکشن اور تاریخ ۔اشتراک و افتراق اردو کے نمائندہ تاریخی ناولوں کے حوالے سے" کے عنوان سے مقالہ لکھ کر کشمیر یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے پندرہ کے قریب نیشنل اور انٹرنشنل ادبی کانفرنسوں میں شرکت کرکے اپنے مقالات پیش کئے۔ آپ 2017 ء محکمہ تعلیم میں بحیثیت لیکچرار تعینات ہوئے۔ اب تک اُن کی دو تحقیقی و تنقیدی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور دو زیر طبع ہیں۔
ہمہ جہت شخصیت پروفیسر محمد حسن،ایک معتبر نقاد ، کامیاب ڈرامہ نگار ، شاعر ، افسانہ نگار اور صحافی تسلیم کئے جاتے ہیں۔ادب میں بحیثیت تنقید نگار اور ڈرامہ نگار ان کا خاص مقام ہے۔ڈاکٹر فردوس احمد کی کتاب" ایپک تھیٹر اور محمد حسن کے ڈرامے" 2017 ء میں منظر عام پر آئی۔اس کتاب کو ڈاکٹر فردوس نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلے باب میں ایپک تھیٹر کا تعارف اور تاریخ ، ایپک تھیٹر تکنیک اور طریقہ کار ،مغرب میں ایپک تھیٹر کا آغاز و ارتقاء اور مغرب میں ایپک تھیٹر کے نمائندہ ڈرامہ نگار پر مفصل بحث ہوئی ہے۔جرمنی میں 1920 ء میں اپیک تھیٹر کا آغاز ہوا اور اس کے بانی ارون فریڈرک کی حالات زندگی ، کارناموں ، ڈراموں اور سفر ناموں کا بھی ذکر ہوا ہے۔ برٹولٹ بریخت کو ایپک تھیٹر کا سب سے بڑا ڈرامہ نگار مانا جاتا ہے ، اس نے ایپک تھیٹر کو فروغ دینے کے لیے اتنا کام کیا ہے کہ اس کا دوسرا نام" بریختیائی تھیٹر" پڑا۔ اس کے ڈراموں کا ذکر اور خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔مغرب میں تیسرا اہم نام ایپک تھیٹر کے حوالے سے جون آرون ہے ۔اُن کی پیدائش سے لے کر ان کے ڈراموں کی خوبیوں کا ذکر بہترین انداز میں ہوا ہے۔
دوسرے باب میں اردو میں ایپک تھیٹر کی روایت پر بحث کی گئی ہے۔جہاں برٹولٹ بریخت نے جرمنی میں ایپک تھیٹر کو بام عروج تک پہنچایا وہیں اردو میں ایپک تھیٹر کے اثرات بیسوی صدی کی چوتھی دہائی سے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ڈاکٹر فردوس کے مطابق ترقی پسند تحریک کے مقاصد وہی تھے جو ایپک تھیٹر کے تھے ،کیونکہ دونوں تحریکیں مارکسی نظریات کے اثر سے وجود میں آئی تھیں۔لہٰذا ترقی پسند تحریک سے وابستہ ڈرامہ نگاروں نے ایپک تھیٹر کو ذریعہ بنا کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سعی کی۔ اردو میں ایپک تھیٹر ترقی پسند تحریک کی ہی دین ہے۔اس باب میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن ( IPTA) اورحبیب تنویر کے تھیٹر کی خدمات کو بھی زیر بحث لایا گیا ۔حبیب تنویر ،اپندر ناتھ اشک، پروفیسر محمد حسن ،ابصار عبد العلی ، امجد اسلام امجد ،اشفاق احمد کے ڈراموں نے ایپک تھیٹر کی روایت کو کس طرح مضبوط کیا ہے، اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
تیسرے باب میں محمد حسن کی ڈرامہ نگاری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس میں محمد حسن کی حالات زندگی ،ادبی زندگی کا آغاز جو افسانہ نویسی سے کیا تھا اور پہلا افسانہ " علاج " ہفتہ وار مصور میں 1940 ء میں شائع ہوا ۔ پروفیسر محمد شاہد حسین کا "وارفند" کو محمد حسن کا پہلا افسانہ قرار دینا،محمد حسن کا ڈرامے کی طرف مائل ہونا ، ریڈیو فیچر اور ریڈیو ڈرامے آل انڈیا ریڈیو لکھنو کو بھیجنا، ڈراموں کے چار مجموعوں ، پیسہ اور پرچھائیں، میرے اسٹیچ ڈرامے، مور پنکھی اور دوسرے ڈرامے ، خون کے دھبے کے علاوہ تین طویل ڈراموں کہرے کا چاند ، تماشا اور تماشائی اور ضحاک پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔ساتھ ہی ان کے مجموعے کلام زنجیر نغمہ میں شامل منظوم ڈرامہ " عمر خیام "کا ذکر ہوا ہے۔اس باب میں محمد حسن کے ڈراموں کے اسلوب ، تکنیک ، مکالموں اور محمد حسن کا جدید ڈرامہ نگاروں میں مقام متعین کرنے کی سعی کی گئی ہے۔
کتاب کا چوتھا باب ایپک تھیٹر اور محمد حسن کے ڈرامے اہمت کا حامل ہے جس میں محمد حسن کے ڈرامے ضحاک ،آتش رفتہ کا سراغ اور سچ کا زہر کا مفصل تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔مجموعی طور پر کتاب اہمیت کی حامل ہے۔جس میں تحقیقی اور معلوماتی پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر قابل تحسین مواد جمع کیا گیا ہے جو محمد حسن کی ڈرامہ نگاری کے حوالے سے نہایت مفید ہے۔بقول پروفیسر شہاب عنایت ملک ’’محمد حسن کی ڈراما نگاری اور بالخصوص ایپک تھیٹر سے متعلق کام کرنے والوں کے لیے یہ کتاب مفید ومعاون ثابت ہوگی"۔
دنیا میں رونما ہونے والا ہر واقعہ خواہ اس کا تعلق کسی شعبہ سے ہو ،تاریخ ہے۔تاریخ واقعات کو ترتیب وار ہمارے سامنے لاتی ہے۔فکشن میں خیالات و احساسات اور واقعات کو تخلیقی زبان میں اس ڈھنگ سے بیان کیا جاتا ہے کہ پڑھ کر جی خوش ہوتا ہے۔فکشن اور تاریخ الگ الگ موضوعات ہیں،فکشن میں کردار خیالی ہوتے ہیں جبکہ تاریخ میں حقیقی ۔ڈاکٹر فردوس کی دوسری تحقیقی اور تنقیدی کتاب ’’ اردو کے نمائندہ تاریخی ناول فکشن اور تاریخی استناد ‘‘ 2018 ء میں منظر عام پر آئی۔اس کتاب میں فکشن اور تاریخ کے رشتے ، مشترک اور متفرق عناصر ، فکشن اور تاریخ کے مابین اشتراک و افتراق ، ادب میں تاریخی عناصر کی نشاندہی ، تاریخی ناول کس حد تک تاریخ سے متاثر ہیں ،کو تاریخی ناولوں کے تناظر میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے باب ادب اور تاریخ میں ادب کے مقاصد ، ادب اور تاریخ کا رشتہ ، ان دونوں کا سماج سے تعلق ، ادب کے اس حصے کی نشاندہی جو تاریخی ادب کے زمرے میں آتا ہے کو زیر بحث لایا گیا ہے۔باب دوم فکشن اور تاریخ کے مشترک اور متفرق عناصر میں یہ بحث ملتی ہے کہ ان دونوں کا تعلق واقعات سے کتنا ہے، تاریخ حقیقی واقعات سے سرورکار رکھتی ہے جبکہ فکشن کے لیے حقائق کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، فکشن کی تعریف ، فکشن کے لیے اردو میں افسانوی ادب کی اصطلاح کا استعمال ، انسایئکلو پیڈیا برٹینکا میں فکشن کی تعریف ، آکسفورڈ ڈکشنری میں فکشن کی تعریف ، شمس الرحمان فاروقی اور ڈاکٹر رضوان الحق کی آرا سے اپنی بات کو مستند بنانا، تاریخ کی تعریف ، فکشن اور تاریخ کے مشترک اور متفرق عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تیسرے باب آزادی سے پہلے اردو کے تاریخی ناول اور تاریخی تناظرات کی شروعات اردو میں ناول نگاری کی ابتداء سے ہوئی ہے۔شرر کے ناول ملک العزیز ورجینا کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد منصور موہنا، فلورا فلورنڈا ، ایام عرب ، فردوس بریں، زوال بغداد اور جویائے حق کے بعد شرر کے ہم عصر حکیم محمد علی طبیب کے ناولوں جعفر و عباسہ ، خضر خان دیول دیولالوی، رام پیاری جس کا پہلا حصہ طبیب نے تصنیف کیا اور اس کا دوسرا حصہ ان کے بیٹے محمد مصطفی خان وکیل کے لکھے تاریخی ناولوں کا جائزہ پیش ہوا ہے۔ منشی امراؤ علی کا تاریخی ناول رزم بزم ، مولوی محمد عبد الرحیم خان کے مختصر ناول نیرنگ دکن ، منشی محمد مصطفے خان آفت کے دو تاریخی ناول سیلم و مہر النساء اور ماریہ سلطانہ ، سجاد نبی خان کے دو تاریخی ناول عفت آراء اور طارق فاتح اسپین ، نوبت رائے نظر کے تاریخی ناول عروج و زوال ، منشی محمد احسن وحشی کے دو ناول معشوقہ عرب اور محبوس کنشت ، سید عاشق حسین عاشق کے تارا ، کیفی کے ناول نہتارانا، سردھنوی کے ناول ہاشمی دوشیزہ اور جنگ اصفہان، نسیم حجازی کے ناول داستان مجاہد ، محمد بن قاسم ،آخری چٹان پر مفصل انداز میں محقیقانہ نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
باب چہارم 1947 ء کے بعد اردو کے تاریخی ناولوں میں تاریخی عناصر میں جن ناول نگاروں نے 1947 ء کے بعد کامیاب تاریخی ناول لکھے ان کو موضوع بنایا گیا ہے اور ان کے ناولوں میں تاریخی عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے۔نسیم حجازی کے تاریخی ناولوں داستان مجاہد ،محمد بن قاسم ، آخری چٹان ، شاہین ، خاک اور خون ، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ ،معظم علی ، اور تلوار ٹوٹ گئی ،قیصر و کسری ،قافلہ حجاز ، اندھیری رات کے مسافر اور کلیسا اور آگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔قاضی عبد الستار کے ناولوں داراشکوہ ، صلاح الدین ایوبی ، غالب ، خالد بن ولید ، عزیز احمد کے دو تاریخی ناول جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں اور خدنگ جستہ اور جمیلہ ہاشمی کے ناول دشت سوس پر گفتگو ہوئی ہے۔کتاب کے آخری باب اردو کے نمائندہ تاریخی ناول فکشن اور تاریخی استناد میں ان ناولوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے ،جن میں فکشن اور تاریخ کا امتزاج ملتا ہے۔عبد الحلیم شرر کے ناول فردوس بریں ، نسیم حجازی کے شاہین اور قاضی عبد الستار کے داراشکوہ پر محقیقانہ نگاہ ڈالی گئی ہے۔ کتاب میں ناقدین کے معنی خیز اقتباسات اپنی بات کو مستند بنانے کے لیے حسب ضرورت استعمال کئے گئے ہیں۔مجموعی طور پر کتاب میں تحقیقی طریقہ کار کا خیال رکھا گیا ہے۔یہ اپنی نوعیت کی بہترین تحقیقی کتاب ہے اور اس کے مطالعے سے ڈاکٹر فردوس کی تحقیقی جستجو ، وسیع مطالعہ ،اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ماخذات کے حوالے اور زبان و بیان کے معیار کا قائل ہونا پڑتا ہے۔پروفیسر ابن کنول اس کتاب کے بارے اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ" ڈاکٹر فردوس بٹ کی اس کتاب کے مطالعہ سے اردو میں تاریخی ناولوں کی روایت کا بھرپور علم ہوتا ہے۔تاریخ اور فکشن کے رشتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ کتاب ناول تنقید میں ایک اہم اضافہ ہے۔"
ڈاکٹر فردوس کے مضامین گل لالہ،بازیافت، ترسیل،اردو نیٹ جاپان، عالمی سہارا،اردو اسکالرس کی دنیا، دبستان علم و ادب ،اردو ریسرچ جرنل جیسے رسائل و جرائد میں اہتمام سے شائع ہوتے ہیں۔ابھی لکھ رہے ہیں اور امید قوی ہے کہ ان کے قلم سے مزید فن پارے وجود میں آئیں گے۔
رابطہ :-8493981240