اس وقت سوشل میڈیا اپنے بام عروج پر ہے جسے مختلف قسم کے سوچ رکھنے والے لوگ مختلف انداز میں استعمال کرتے ہیں۔کوئی اپنے شعبے کی ترویج و اشاعت میں مشغول ہے تو کوئی اپنے فن میں، کوئی اس پر مفید معلومات دستیاب رکھ کر دوسروں کے لیے اضافہ علم کا باعث بن جاتا ہے، کوئی دین اسلام کی سربلندی کے لیے دعوت دین کا پیغام چلا رہا ہے تو کوئی سماج میں پنپنے والے جرائم کو سامنے لاتا ہے – کوئی شعر و شاعری سے لطف اندوز کرتا ہے تو کوئی طنز و مزاح کرتا ہے۔ غرض ہر کوئی شخص اپنی انفرادی سوچ رکھنے کے مطابق اس سے استفادہ حاصل کرتا ہے ۔لیکن خیال رکھیں کہ جو کچھ بھی ہم یہاں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں یہ سارا بطور ریکارڈ درج ہے اور کل روز محشر میں ہمارے خلاف یا تو باعث عذاب یا نجات کا سبب ہوگا۔اب یہ اختیار ہمارے ہاتھوں میں دیا گیا ہے کہ ہم اس سے اپنی بہتری کے لیے استعمال کریں یا تباہی کے لئے۔
مزاح یا دل لگی سے مراد پرکیف اور سرور والی کیفیت ہے جس کے دوسرے معنی خوش مزاجی یا ہنسی مذاق کرنے یا تفریح طبع کے طور پر بھی ہے۔یہ ہر ایک انسان کے اندر موجود ہوتی ہے اور یہ انسانی فطرت کا ایک باقاعدہ حصہ ہے لیکن حد سے زیادہ مزاح ممنوع ہے جو دل کو مردہ اور اللہ کی وحدانیت سے دور کر دیتی ہے۔ بعض اوقات بڑے بڑے فتنوں و فسادات کا جڑ بن جاتی ہے۔ اور یہ خیال رکھیں کہ اس سے سامنے والے سے دل شکنی، ایزاء رسانی یا تکلیف پہنچانا قطعاً مقصود نہ ہو۔
انسانی حقوق کے دفعہ نمبر 10 کے تحت ہر ایک شخص کو اپنے خیالات کے اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے ۔ اسی طرح آئین ہند میں دفعہ 19 کے تحت ہر ایک شخص کو اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ دیگر آزادانہ حقوق حاصل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم جو چاہیے وہ بولیں یا لکھ ڈالیں بلکہ ایسے آزاد حقوق کچھ مناسب پابندیوں کے تابع ہیں، جنہیں ریاست کی جانب سے ان پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ آزادی کی جس قسم کو محدود کرنا مقصود ہو اس کے مطابق پابندیوں کو نافذ کرنے کی بنیادیں مختلف ہوتی ہیں، ان میں قومی سلامتی، عوامی نظم و نسق، شرافت اور اخلاقیات، توہین عدالت، جرائم پر اْکسانا اور بدنامی شامل ہیںلہٰذاقانون کی نظر میں بھی یہاں ہمیں شرافت و اخلاقیات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے سماج کے تئیں ایسا کچھ بولنے یا لکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے کسی کی دل آزاری ہو جاتی ہو۔
دوسری جانب دین اسلام نے ابتداء ہی سے اپنے ماننے والوں کیلئے ایسے رہنما اصول تفویض فرمائے ہیں جو سماج کے اندر ایک انسان کو واقعی میں مہذب بنا دیتے ہیں ۔ ان اصولوں کو رب العالمین نے سورت الحجرات میں اپنی شان کریمی بخشی ہے۔ قرانِ کریم کے اندر سورۃ الحجرات میں مختلف مواقع پر نازل شدہ احکام و ہدایات کا مجموعہ نازل فرمایا گیا ہے۔ اس سورت کا موضوع مسلمانوں کو ان آداب کی تعلیم دینا ہے جو اہل ایمان کے شایان شان ہیں۔ مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ اس سورت کے ابتدائی پانچ آیتوں میں وہ ادب سکھائے گئے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے معاملے میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " اے ایمان والو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، کیا عجب ہے کہ وہ اْن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، کیا عجب ہے کہ وہ اْن سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو ، اور نہ ایک دوسرے کو بْرے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام دینا بْرا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔" ( الحجرات ۔ ۱۱ )
مذکورہ آیت مبارک میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے سے اجتناب کرنے کو فرمایا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو عام طور پر کسی کی کم عقلی، عیب جوئی اور نقص پر ہنسا جاتا ہے، ہنسنے والے اپنے آپ کو اس سے بہتر سمجھتے ہیں گویا ہنسی اور مذاق کا مطلب اس کی ایزاء رسانی، تکلیف، تحقیر و تذلیل ہوتی ہے ۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ ہم جس کی حقارت کر رہے ہوں اور جس کو اپنے سے کمتر اور ادنیٰ سمجھتے ہوں، حقیقت میں وہ اللہ کے نزدیک بڑا مقام و مرتبہ رکھتا ہو اور ہماری اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔ اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے کہ کون افضل اور کون گھٹیا ہے، کس کا درجہ بلند اور کس کا پست ہے۔
یہ دراصل ہماری سماج کے تئیں ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھیں بلکہ دوسروں کو اپنے سے بہتر جانیں۔ ہمارے یہاں آج کل ہر طرف ایک دوسرے کے مذاق اڑانے کی عادت بری طرح سے لگی ہوئی ہے۔ جہاں مذاق اڑانے والے کو ایک ہنر مند انسان گنواتے ہیں جس سے اس انسان کو اپنے کیے پر ذرا بھی افسوس نہیں ہوتا۔ یہ مذاق چاہیے ہمارے سماج میں نظر آرہا ہو یا سوشل میڈیا و دیگر پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے سننے میں آ تا ہو۔ ایسے لوگوں کا بس یہی کام ہے کہ لوگ انہیں سن کر ہنسنے لگنے چاہئیںاور انہیں سماج کے ہر طبقے سے خوب پذیرائی حاصل ہو۔ لوگ انہیں پسند کر کے ان کی اس چینل کو شئیر و سبسکرائب کرتے ہوں ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب اگر کوئی دوسروں کو ہنسانے کے لیے کرتا ہو تو اس میں کیا ممانعت ہے ؟ اس پر آخر دوسروں کو اعتراض کیوں ہے ؟ یہ سوال شاید ہی کسی مسلمان کے ذہن میں پیدا ہو جائے جب کہ خیر الانام سرور کونین حضرت محمد مصطفی ؐ نے ہمیں ہروقت راہ نمائی فرمائی ہو۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمدؐ بھی مزاح خوش طبعی فرمایا کرتے تھے ۔آپؐ کی خوش طبعی کا معمول بھی منفرد تھا جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور دوسرے بھی اس سے لطف اندوز ہوں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر سواری طلب کی۔اس پر آپؐ نے فرمایا کہ " میں تجھے اونٹنی کے بچہ پہ سوار کروں گا ! "۔اْس صحابی ؓ نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کے بچہ کو لے کر کیا کروں گا ؟ مجھے سواری کے لیے بڑا اونٹ دلوائیے – اللہ کے رسول ؐ نے پھر سے فرمایا کہ " نہیں ! تجھے اونٹنی کا بچہ ہی دیا جائے گا" ۔جب وہ صحابیؓ پریشان ہو گئے اور باقی مجلس میں موجود مسکرانے لگے تو آپ ؐ نے فرمایا کہ " ہر اونٹ چاہیے جوان ہو یا چھوٹا ، اونٹنی ہی کا بچہ ہوتا ہے !"۔
قربان جائیں ایسی خوش طبعی پر جو نہ خلاف واقعہ تھی نہ کسی کو ایزاء رسانی پہچاتی۔ایسا انداز اختیار فرمایا کہ سب نے لطف اٹھایا ۔ہر اونٹ حقیقت میں اونٹنی کا ہی بچہ ہوتا ہے۔
ایک اور دلچسپ اور لطف انداز خوش طبعی اس طرح ہوئی کہ جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپؐ سے عرض کرنے لگیں کہ " دعا کریں کہ رب العالمین مجھے داخل ِ جنت فرمائے! " اس پر اللہ کے آخری نبیؐ نے فرمایا کہ "کوئی بھی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی"۔ یہ سن کر صفیہ ؓروتی ہوئی واپس چلی گئی۔ رسول اللہؐ نے فرمایا " بڑھیا جنت میں بڑھاپے کی حالت میں نہیں بلکہ نوجوان دوشیزہ بن کر جائے گی "۔اسی طرح ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کے عرض کرنے پر آپ ؐ نے فرمایا کہ " کوئی اندھا، اندھا ہونے کی حیثیت سے جنت میں داخل نہیں ہوگا بلکہ سب کی آنکھیں روشن ہوں گی " ۔یہ دونوں خوش طبعی کے واقعات حقیقت پر مبنی ہیں جہاں بڑھیا، جوان ہوکر اور اندھا، انکھیار ہوکر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
آج کل عموماًہر قسم کے مختلف مسابقتی امتحانات میں عقل (Reasoning) کی جانچ کی غرض سے سوال پوچھے جاتے ہیں ۔ اسی طرح کا ایک سوال خوش طبعی کے طور پر رسول اللہ ؐنے ایک شخص سے اس طرح پوچھا کہ " بتاء و ! تمہارے ماموں کی بہن تمہاری کیا لگی ؟"۔وہ شخص جب سر جھکا کر کافی سوچنے لگا تو آپ ؐنے فرمایا کہ " کیا تجھے اپنی ماں بھول گئی ؟ " حقیقت میں وہی اس شخص کے ماموں کی بہن ہے۔ یہ جواب سنتے ہی وہ شخص کافی مسکرایا – لیکن آپؐ کا یہ منفرد انداز اختیار کرنا ادب کے اعلیٰ مقام پر فائض کرتا ہے۔
اللہ کے محبوب نبیؐ نے کثرتِ مزاح سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور نہ ان سے مزاح و مذاق کرو‘‘…(ترمذی)
یہاں بہترین انداز میں قبل از وقت مزاح و مذاق جیسے بْرے قول سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے نہیں تو اس کا نتیجہ جھگڑے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل ہم بِنا کسی علم و تحقیق کے ایسے لوگوں کے مددگار بنتے ہیں جو چند پیسوں کے عوض دوسروں کا مذاق اڑا کر اپنی اس بے ہودگی کو فن و ہنر کا نام دے دیتے ہیں۔ ہم انہیں شاباشی دیتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم اللہ رب العالمین اور رسول اللہؐ کے مقدس فرمان کی توہین کرتے ہوئے اپنے اوپر مصیبت نازل ہونے کو دعوت دے رہیں ہیں۔ حالانکہ ہمیں چاہیے کہ ایسے لوگ جو اللہ رب العالمین کے اس فرمان سے شاید غافل ہیں، اْنہیں جگائیں تاکہ وہ کسی دوسرے انسان کا مذاق اڑانے سے اجتناب کریں کیوں کہ اس قسم کا وطیرہ رکھنا اسلام کو قطعاً پسند نہیں۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، طعن کرنا، برے نام رکھنا، بد گمانیاں کرنا، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا، لوگوں کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرنا، یہ وہ افعال ہیں جو بجائے خود بھی گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نام بنام ان کا ذکر فرما کر انہیں حرام قرار دے دیا ہے۔ اللہ رب العالمین ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
پتہ۔ہاری پاری ترال
رابطہ۔9858109109
�������