کورونا وائرس کی عالمگیر وباء کے بیچ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں خود انحصار بھارت کا تصور پیش کیا۔اس کے بعد وزیرخزانہ کی جانب سے پانچ اقساط پر ایک نام نہاد جامع معاشی پیکیج کااعلان کیاگیا۔ 20 لاکھ کروڑ روپے پیکیج (جی ڈی پی کا 10فیصد) کی بات کی گئی۔ اعداد و شمار کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیسوں کا ایک بہت بڑا خزانہ ہے لیکن تفصیلات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ حقیقت میں صرف 2.5 لاکھ کروڑ (جی ڈی پی کا محض 1.5فیصد) ہے۔ عام لوگوں کو بے وقوف بنانے کی خاطر اس پیکیج کو چالاکی سے ترتیب دیکر ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیا۔پیکیج کے اعدادو شمار اور تفصیلات میں جائیں تواصل کہانی معلوم ہوجاتی ہے ۔علاوہ ازیں شاید ہی اُس مسئلہ سے نمٹنے میں مدد دے سکے گی جس کا اس وقت ملک کو سا منا ہے اور وہ ہے مفلوج طلب یعنی ڈیمانڈ کا سیکٹر ۔
حکومت کے اصل اخراجات اور پیکیج کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے آئیے ایک ایک کرکے وزیر خزانہ کے پانچوں اعلانات کا تجزیہ کریں۔ یہ اصل میں اعدادوشمار کا ایک طرح کا پوسٹ مارٹم ہے جس سے چالاکی سے مرتب شدہ20لاکھ کروڑ روپے کا مذاق بے نقاب ہوجائے گا۔
پہلا اعلان
اس بھاری بھرکم پیکیج کا پہلا حصہ 5.9 لاکھ کروڑ روپے مالیت کاہے۔ اس کی نیو مائیکرو ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو 3 لاکھ کروڑ روپے کے بغیر ضمانت قرضے ہیں۔اگر اس کو ایک جامع شکل میں ڈالیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بنک چھوٹے کاروباروں کو25کروڑ روپے تک بغیر کسی ضمانت یا سیکورٹی کے قرضہ دیں گے اور حکومت اپنی ضمانت سے ان قرضوں کا احاطہ کرے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نادہندہ ہونے کی صورت میں قرض دہندہ کی بقایا رقم خود ادا کرے گی۔ لیکن یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ حکومت نہیں ہے جو ان کاروباری اداروں کو رقم فراہم کررہی ہے۔ یہ لوگوں کا پیسہ ہے جو بینک قرضوں کی صورت میں دیتے ہیں اور اس رقم کو سود کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔ حکومت کی طرف سے حقیت میں اس مد پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیاجارہا ہے ۔
اس کے برعکس یہ قرضوں کے خوفناک چکر کو اور گہرا کردے گا۔ بہت زیادہ قرض دینا اور وہ بھی بغیر سکیورٹی کے طویل مدتی طور بینک اور قرض لینے والے، دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا تجر بہ کہتا ہے کہ اس طرح کی اسکیم ہر ایرے غیرے کو قرضہ ہڑپنے کے ارادے سے بینکوں سے رجوع کرنے کی ترغیب دیگا کیونکہ بنک سیکورٹی یا گارنٹی طلب نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ انتہائی نقصان دہ ہوگا۔
اسی طرح ، حکومت نے خیراتی ٹرسٹوں،شراکت داریوں،ملکیتوں ،ٹرسٹوں ،غیر کارپوریٹ بزنسوں ،کواپریٹیوز وغیرہ کے واجبات کی ادائیگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں بھی ایک دفعہ پھر حکومت خود کچھ خرچ نہیں کررہی ہے۔ یہ حکومت کا قرضہ تھا۔یہ اصل میں حکومت کی طرف سے اس طرح کے اداروں کو واجب الادا رقم کی واپسی ہے۔ اسے کس طرح پیکیج کہاجاسکتا ہے ؟
حکومت نے نسبتاً تنخواہوں کے کم حصہ کو ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈکے مد میں کٹوتی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اب صرف 10 فیصد بیسک اور مہنگائی بھتہ (ڈی اے) کی ای پی ایف کے لئے کٹوتی ہوگی۔ اب تک یہ 12فیصد رہا ہے۔حکومت نے بینک کی جمع شدہ ادائیگیوں پر ٹیکس کاٹنے کی مہم میں بھی کچھ ما ہ کی چھوٹ دی ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ابھی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گالیکن بعد میں دینا ہی پڑے گا۔ انہی خطوط پر بجلی کی تقسیم کاری کمپنیوں کو اُن رقوم کے عوض قرضے دیئے جائیں گے جو حکومت کے پاس واجب الادا ہیں۔ بجلی تقسیم کاری کمپنیوں کی واجب الادا رقم تقریبا90ہزار کروڑ روپے بنتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کمپنیوںکو اپنے ہی پیسہ کے عوض قرضہ فراہم کیاجائے گا۔اس کے علاوہ اس نئے نام نہاد پیکیج میں اُن1.7لاکھ کروڑ روپیوں کو بھی شامل کیاگیا ہے جن کا اعلان حکومت کی جانب سے26مارچ2020کو راحت کاری اقدامات کے طور ہوا تھا۔
دوسرااعلان
دوسرا مرحلہ بنیادی طور پر سود پروری کی سکیم سے متعلق ہے۔ اس میں خوانچہ فروشوں اور کسانوں کو قرض دینے کی سہولیات بھی شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) رکھنے والوں کورعایتی قرضہ دینے کا بھی اعلان کیا۔ مکانات کی تعمیر کے لئے حوصلہ افزائی کے لئے قرضوں کی دیگر سہولیات بھی پیش کی گئیں۔ اس دوسرے اعلان میں مہاجر مزدوروں ، کے سی سی اور چھوٹے سے چھوٹے کاروباروں کو قرضہ دینے پر اہمیت دی گئی ہے۔ ایک بار پھر حکومت یہاں بھی اپنی جیب سے کچھ بھی ادا نہیں کررہی ہے۔ یہ بینک کاری نظام ہے جس کونہ صرف قرضے دینے ہیں بلکہ سود میں بھی رعایات دینی ہیں۔
تیسرااعلان
1.5 لاکھ کروڑ روپئے کے تیسرے جزو میں مستقبل میں زرعی انفراسٹریکچر ، ماہی گیری ، فوڈ پروسیسنگ ، پشوپالن ، شہد کی مکھیوں کے کاروبار وغیرہ میں کی جانے والی سرمایہ کاری شامل ہے۔ یہ مستقبل کیلئے حکومت کے منصوبے ہیں۔ اس وقت کچھ بھی سرمایہ کاری نہیں کی جارہی ہے۔زرعی سیکٹر کے موجودہ مخدوش منظرنامے کو ایڈر کرنے کے لئے کوئی واضح اقدامات نہیں ہیں۔
چوتھا اعلان
کان کنی ، دفاعی پیداوار ، ایئر سپیس ، معاشرتی انفراسٹریکچر ، سپیس وغیرہ میں قانون سازی ، مالی اور اصلاحی اقدامات اس جزو کی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے لئے تقریباً50ہزار کروڑروپے رکھے گئے ہیں۔
پانچواں اعلان
وزیر خزانہ نے جو پانچواں اور آخری پیکیج اعلان کیا، وہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس میں تعلیم اور صحت بھی شامل ہے۔ اس مرحلہ کیلئے مزید 1 لاکھ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
پانچ دن میں اعلان کردہ مختص کئے گئے رقوم اور پیکیجز کے علاوہ حکومت نے غیر منطقی طور پر ابتدائی راحت رسانی اقدامات کیلئے مختص 1.7 لاکھ کروڑ روپے اورریزرو بینک آف انڈیا کے 8 لاکھ کروڑ روپے کے راحت کاری اقدامات کو اس پیکیج میں شامل کیا ہے ۔آر بی آئی کے اقدامات وہ تھے جن میں بینکوں سے متعلق مختلف پیمانوںکے لئے سود کی شرخوںمیں کمی کی گئی تھی۔ ایک بار پھر حکومت نے یہاں جیب سے کوئی رقم خرچ نہیں کی۔ یہ آر بی آئی ہی تھا جس نے کچھ بینکنگ شرحوں میں کمی کرکے شرح سود میں کمی کے ذریعے معیشت میں زیادہ سے زیادہ رقم کے داخلہ میں آسانی پیدا کردی۔ حکومت اس طرح کے پیکیج کو 20 لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج کیسے کہہ سکتی ہے جب وہ حقیقت میں ڈھائی لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ نہیں کررہے ہیں؟۔یہ ہماری شرح نمو یعنی جی ڈی پی کا محض1.5فیصد بنتا ہے
حاصل کلام
کووڈ۔ 19 وبائی بیماری نے بے شمار پریشانیوں کو جنم دیاہے۔ معیشت کو اس نے طلب کے سیکٹر میں سخت ترین کمی کے سب سے سخت ضرب لگائی ہے۔ لہٰذا جب تک ڈیمانڈ یا طلب کے خاتمہ کے مسئلے پر توجہ نہیں دی جاتی ہے ، اس طرح کے اعلانات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اصل حل طلب یعنی ڈیمانڈ کے سیکٹر کو مراعات دینے میں مضمر ہے۔تب ہی ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوکر خوشحال اورخود انحصاربن سکتا ہے۔
( بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرس ڈگری یافتہ مصنف ایک پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ کے مڈل مینجمنٹ میں کام کرتے ہیں۔ آراء خالصتاً ذاتی ہیں)