فیاض بخاری
بارہمولہ// قصبہ بارہمولہ کا خوبصورت اور اہم علاقہ خواجہ باغ، جسے قصبے کا ’چہرہ‘ بھی کہا جاتا ہے، ان دنوں قومی شاہراہ کے کنارے کچرا جمع کیے جانے کے باعث عوامی ناراضگی کا سبب بن گیا ہے۔ مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ میونسپل کونسل بارہمولہ کی جانب سے شاہراہ کے قریب کچرا جمع کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف علاقے کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ماحول اور صحت عامہ کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ خواجہ باغ بارہمولہ میں داخل ہونے والا ایک اہم مقام ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں افراد، مسافر اور سیاح گزرتے ہیں، لیکن شاہراہ کے کنارے کچرے کے ڈھیر شہر کی بدانتظامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کچرے سے اٹھنے والی بدبو، آوارہ جانوروں کی موجودگی اور گندگی کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اگر بروقت کچرے کو مناسب مقام پر منتقل نہ کیا گیا تو بارشوں کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس سے تعفن پھیلنے اور مختلف بیماریوں کے خدشات بڑھ جائیں گے۔لوگوں نے میونسپل کونسل بارہمولہ اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہ کے کنارے کچرا جمع کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، اس مقام کی مکمل صفائی عمل میں لائی جائے اور سالڈ ویسٹ کی تلفی کے لیے ایسا متبادل انتظام کیا جائے جو شہریوں اور ماحول دونوں کے لیے محفوظ ہو۔عوام کا کہنا ہے کہ صفائی ستھرائی کسی بھی ترقی یافتہ قصبے کی بنیادی ضرورت ہے اور خواجہ باغ جیسے اہم علاقے کو کچرا جمع کرنے کی جگہ بنانا نہ صرف قصبے کے حسن کو داغدار کر رہا ہے بلکہ انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔