بنت حوا کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلانے کے واقعات آئے روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں جو کہ سماج کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ قومی خاندانی بہبود و صحت محکمہ کے سروے رپورٹ کے مطابق سال 2021-20 جموں و کشمیر میں خواتین کے تئیں تشدد کے معمالات میں سات فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق شہر و دیہات میں خواتین پر جسمانی استحصال اور تشدد کے زیادہ واقعات دیکھے گئے ہیں۔
تشددجبکہ مال و دولت کی ضرورت پورا کرنے کے لیے ایک نہ دوسرے بہانے شوہر یا سسرال والوں کی جانب سے تنگ طلبی، شادی کے بعد دیگر قسم کی ڈیمانڈز اور مختلف معاملات کی وجہ سے ازدواجی زندگی میں بڑھتی تلخیاں ایسے چند وجوہات ہیں جن سے تنگ آکر اب تک کئی خواتین نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا کر اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔
اگر صرف خواتین پر تشدد کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو خاصے تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔ خواتین پر تشدد کے خلاف ہمارے تمام حلقۂ فکر یکسو ہیں اور اس ظالمانہ چلن کے حق میں کوئی استدلال موجود نہیں، اس کے باوجود ہمارے ہاں اس شرم ناک معاملے سے نظریں چرائی جاتی ہیں۔
عالمی یوم خواتین پر صنف نازک کے حقوق کے لیے بڑی باتیں کی جاتی ہیں، اور معاشرے میں اس کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لیکن آج کے اس دورمیں بھی ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد اور تیزاب پھینکے جانے کے گھنائونے واقعات جاری ہیں، جس پر پورے معاشرے کو متحد ہو کر آواز بلند کرنا چاہیے، تاکہ اس انسانیت سوز باب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جاسکے۔
پچھلے دنوں ہی سرینگر کے پائین علاقہ حول سے ملحقہ عثمانیہ کالونی وانٹہ پورہ میں نامعلوم افراد نے24 سالہ لڑکی پر تیزاب سے حملہ کرکے اُسے بری طرح زخمی کر دیا، نامعلوم افراد نے مذکورہ خاتون پر اس وقت تیزاب پھینک دیا جب وہ ایک دکان سے باہر آرہی تھیں، مذکورہ خاتون کو زخمی حالت میں ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے، دوشیزہ پر تیزاب چھڑکنے والے تین نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔
این سی بی آر کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، ریپ، ان پر تیزاب سے حملے، انہیں ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور گزشتہ برس 2021 سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2021 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر تیزاب 'چھڑکنے اور ’ریپ‘ کے کیسز تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف 2020 میں بھارت بھر میں 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد خواتین کا ’ریپ‘ اور ان پر تیزاب سے حملہ کیا گیا۔رجسٹرڈ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر 30 منٹ میں ایک خاتون پر ’تیزاب ‘ سے حملہ کیا جاتا ہے۔
رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت بھر میں 6 منٹ کے اندر کوئی نہ کوئی خاتون بدسلوکی، ہراسانی اور تشدد کا شکار بنتی ہے جب کہ ہر پانچ منٹ کسی نہ کسی خاتون کو اپنا شوہر، سسر یا دیگر اہل خانہ نشانہ بناتےہیں۔
تشدد، بدسلوکی، ہراسانی اور ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین میں 6 سال کی بچیوں سمیت 60 سال تک کی خواتین شامل ہیں جب کہ زیادہ تر ’ریپ‘ اور ’تیزاب ‘ کا نشانہ بننے والی خواتین میں نوجوان 24 سے 29 سال کی لڑکیاں ہیں۔ صرف سال 2021 میں ہی بھارت بھر میں 6 سے 20 سال کی عمر کی 1580 بچیوں کو ’ریپ‘ اورتیزاب کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال 30 ہزار سے زائد خواتین کا ان افراد نے ’ریپ‘ کیا جنہیں وہ جانتی تھیں اور ان پر اعتبار کرتی تھیں۔ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور ہر طرح کے جنسی ہراسانی کے واقعات میں 97 فیصد ان کے رشتہ دار، دوست، محبت کرنے والے اور جان پہچان والے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔
وہ خواتین جو تیزاب کے حملے کے شکار ہوتے ہیں، انہیں سماج اور میڈیا کے ذریعے اکثر وبیشتر مظلوم اور نہایت مجبور افراد کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بہت سے ایسی ہیں جو تیزاب کے حملے سے جڑے ذہنی اور دماغی الجھنوں کا مقابلہ کرتی ہیں اور اپنی آزادی کو از خود لڑ کر حاصل کرلیتی ہیں۔ ان کی مثال ایک افسانوی پرندے کی مانند ہوتی ہے، جو آگ میں جل جاتی ہے اور آگ کے ڈھیر سے دوبارہ زندہ واپس آجاتی ہے۔ تیزاب کے حملے کے بعد ان خواتین کے لئے زندہ رہ جانے والے کی اصطلاح نہا یت موزوں اور مناسب ترین ہے۔
رابطہ/6005293688