محمد بشارت
کوٹرنکہ //خطہ پیر پنچال کے مختلف علاقوں میں ان دنوں دھان کی پنیری لگانے کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ کسان صبح سویرے ہی کھیتوں کا رخ کر رہے ہیں اور روایتی انداز میں دھان کی پنیری لگانے میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔ حالیہ بارشوں اور موسم کی سازگاری کے باعث کسانوں میں خوشی کی لہر پائی جا رہی ہے اور وہ اس سال اچھی فصل کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔راجوری ضلع کے کوٹرنکہ ،بدھل ،نوشہرہ ،تھنہ منڈی ،منجا کوٹ و دیگر علاقوں کیساتھ ساتھ پونچھ ضلع کے مینڈھر، منکوٹ، بالاکوٹ، سرنکوٹ، بفلیاز اور ملحقہ دیہی علاقوں میں کھیتوں میں کسانوں، خواتین اور مزدوروں کی بڑی تعداد کام میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔
دیہی علاقوں میں دھان کی کاشت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اسی فصل پر انحصار کرتے ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ اس سال وقت پر بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے کھیتوں میں پانی کی کمی محسوس ہو رہی ہے تاہم حالیہ دنوں میں کچھ جگہوں پر پارش ہوئی ہے جس سے پنیری لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر موسم سازگار رہا تو اس سال دھان کی بہتر پیداوار حاصل ہوگی۔مقامی کسانوں نے بتایا کہ دھان کی فصل علاقے کی اہم زرعی فصلوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی اچھی پیداوار سے نہ صرف کسانوں کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے بلکہ مقامی منڈیوں میں بھی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ادھر زرعی ماہرین نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ معیاری بیج، مناسب کھاد اور جدید زرعی طریقوں کو اپنائیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں۔دیہی علاقوں میں دھان کی پنیری لگانے کے دوران روایتی ثقافتی ماحول بھی دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں لوگ اجتماعی طور پر کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہیں، جس سے علاقے کی قدیم زرعی روایات آج بھی زندہ دکھائی دیتی ہیں۔