عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// قومی صارفین تنازعات ازالہ کمیشن نے ایئر انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک بزرگ مسافر کو بزنس کلاس کا مکمل کرایہ واپس کرے اور جسمانی و ذہنی اذیت کے ازالے کیلئے 20 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔ کمیشن نے قرار دیا کہ خراب بزنس کلاس سیٹ فراہم کرنا ایئرلائن کی جانب سے خدمات میں سنگین کوتاہی ہے۔ معاملہ ایک 73 سالہ ریٹائرڈ عدالتی افسر سے متعلق ہے، جنہوں نے اپنی طبی حالت کے پیش نظر دہلی سے سان فرانسسکو اور واپسی کے لیے اکنامی کلاس ٹکٹوں کو اضافی رقم ادا کرکے بزنس کلاس میں اپ گریڈ کرایا تھا۔ تاہم 22 ستمبر 2022 کو سان فرانسسکو سے دہلی آنے والی تقریباً 15 گھنٹے طویل پرواز کے دوران انہیں جو بزنس کلاس سیٹ فراہم کی گئی، وہ خراب تھی اور پوری طرح پیچھے نہیں جھک سکتی تھی۔
شکایت کے مطابق مسافر نے دورانِ پرواز کئی مرتبہ کیبن کریو سے سیٹ تبدیل کرنے یا مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی، لیکن انہیں بتایا گیا کہ دیگر خالی بزنس کلاس نشستیں بھی خراب ہیں جبکہ فرسٹ کلاس میں کوئی نشست دستیاب نہیں۔ نتیجتاً انہیں پوری پرواز شدید جسمانی تکلیف، کمر اور گردن کے درد، چکر (ورٹیگو) اور دیگر طبی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وطن پہنچنے پر انہیں طبی علاج، ادویات، آرام اور فزیوتھراپی کرانی پڑی۔ بعد ازاں مسافر نے ایئر انڈیا کے خلاف اتر پردیش اسٹیٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن سے رجوع کیا، جس نے بزنس کلاس اپ گریڈ کا تقریباً 1.69 لاکھ روپے کرایہ سود سمیت واپس کرنے، 20 لاکھ روپے بطور ہرجانہ اور 20 ہزار روپے عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف ایئر انڈیا اور شکایت کنندہ دونوں نے قومی کمیشن میں اپیل دائر کی۔ قومی صارفین تنازعات ازالہ کمیشن نے دونوں اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ریاستی کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا۔