میر شوکت
داچھی گام کے جنگل پر اُس دن صبح کچھ یوں اتری تھی جیسے کسی بوڑھے صوفی نے سبز مخمل پر چاندی کی چادر بچھا دی ہو۔ دیوداروں کی بلند قامت صفیں خاموش کھڑی تھیں، پہاڑوں کی پیشانی پر دُھند کا ہلکا سا لمس تھا اور ریچھ کے قدموں سے آشنا پگڈنڈیاں آج ایک نئے قافلے کی منتظر تھیں۔ مگر یہ قافلہ سیاحوں کا نہیں تھا، سیاست دانوں کا تھا۔ وہی سیاست دان جو کبھی عوام کے درمیان دکھائی دیتے ہیں، کبھی پریس کانفرنسوں میں اور کبھی اچانک جنگلوں میں جا نکلتے ہیں تاکہ قوم کو یقین دلایا جا سکے کہ بڑے فیصلے درختوں کے سائے میں ہی جنم لیتے ہیں۔
خبری لال حسبِ معمول کہیں سے نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی لاٹھی تھی، سر پر میلی سی ٹوپی اور آنکھوں میں وہ شرارت جو ہر دور کے درباریوں کے چہروں سے نقاب اتارنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔اس نے دیکھا کہ گاڑیاں دھول اڑاتی ہوئی جنگل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ کہیں سے خبر آئی کہ گپکار میں بلائی گئی میٹنگ اچانک داچھی گام منتقل ہوگئی ہے، موبائل فون خاموش ہیں، دروازے بند ہیں، اور اندر قوم کا مستقبل زیرِ غور ہے۔ خبری لال مسکرایا۔’’واہ بھئی واہ! جب سیاست کھلے میدان میں شرما جائے تو جنگلوں میں پناہ لیتی ہے۔‘‘
وہ ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور سامنے چرنے والے ایک گدھے کو مخاطب کیا۔’’کیوں حضور! آج آپ کے گھر میں جمہوریت کی میزبانی ہورہی ہے۔ کچھ معلوم بھی ہے اندر کیا چل رہا ہے؟‘‘گدھے نے گردن اٹھائی، ایک لمحہ خبری لال کو دیکھا اور پھر گھاس چرنے لگا۔خبری لال ہنس پڑا۔’’صحیح جواب دیا۔ کشمیر کی سیاست پر خاموشی ہی سب سے دانشمندانہ تبصرہ ہے۔‘‘جو کم سے کم گدھوں میں تو ہے۔ہوا میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ خبری لال نے آنکھیں بند کیں اور یوں گویا ہوا جیسے میٹنگ کی دیواریں شفاف ہوگئی ہوں۔’’اندر شاید ایک معزز رکن کھڑا ہوا ہوگا اور بولا ہوگا: جناب عمر صاحب عوام پانی مانگ رہی ہے۔‘‘دوسرا اٹھا ہوگا۔’’جناب! نوجوان نوکری مانگ رہے ہیں۔‘‘تیسرا شاید ذرا بے باک ہوگا۔’’جناب! ہمارے حلقوں کے لوگ ناراض ہیں۔‘‘جواب ایک ہی’’ریاستی حیثیت!‘‘خبری لال نے لاٹھی زمین پر ماری۔’’ارے بھئی! ریاستی حیثیت یقیناً ایک اہم سیاسی مطالبہ ہے، مگر عوام کا چولہا تو کوئی آئینی ترمیم نہیں مانگتا۔ اسے تو صرف آگ چاہیے۔‘‘درختوں کے پتوں میں سرسراہٹ ہوئی۔ یوں لگا جیسے جنگل خود اس گفتگو سے لطف اندوز ہو رہا ہو۔اندر میٹنگ چل رہی ہے
پھر اس نے تصور میں میٹنگ کا منظر دیکھا۔ایک طرف وزیر اعلی عمر عبداللہ ہیں ، نایب ریاست سریندر چوہدری ہیں دوسری طرف وزراء بیٹھے ہیں۔تیسری طرف ارکانِ اسمبلی۔
چوتھی طرف وہ وعدے بیٹھے ہیں جو انتخابات سے پہلے کیے گئے تھے۔اور سب سے پچھلی قطار میں چند ریچھ اور کچھ گدھے بیٹھے ہیں، جنہیں حسبِ روایت بولنے کی اجازت نہیں۔
خبری لال قہقہہ لگا کر بولا۔’’کیا خوب محفل ہے! وعدے شرمندہ ہیں، جانور خاموش ہیں ،عوام غایب ہے۔ اور سیاست مطمئن۔‘‘
دھوپ اب ذرا تیز ہوگئی تھی۔ جنگل کے اوپر عقاب چکر لگا رہے تھے۔خبری لال نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا۔’’مجھے حیرت اس بات پر نہیں کہ میٹنگ ڈاچھی گام میں ہوئی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ گدھوں نے اعتراض نہیں کیا۔ریچھوں نے احتجاج نہیں کیا۔ اگر وہ بول سکتے تو شاید کہتے۔ جناب! ہم خطرے سے دوچار نسل ہیں، مگر آپ لوگ تو ہم سے بھی زیادہ نایاب وعدے رکھتے ہیں۔‘‘پھر وہ ذرا قریب جھکا اور سرگوشی کے انداز میں بولاکہ’’سنا ہے میٹنگ میں صرف ریاستی حیثیت ہی زیرِ بحث نہیں تھی، کچھ حضرات نے اپنی ہی حکومت سے شکوے بھی کیے۔‘‘اس نے لاٹھی گھمائی اور کہا۔’’کہتے ہیں سرنکوٹ کے رکنِ اسمبلی چوہدری اکرم نے اپنے حلقے کے مسائل اور ڈپٹی سی ایم سریندر چوہدری کی انتظامی بے توجہی کا ذکر کیا، جبکہ منڈی کے رکنِ اسمبلی اعجاز جان اور منجاکوٹ کے رکنِ اسمبلی مظفر احمد نے بھی عوامی معاملات میں سست رفتاری اور رابطوں کے فقدان پر ناراضگی ظاہر کی۔‘‘
خبری لال نے ایک لمبی آہ بھری۔’’یہ سیاست کا سب سے دلچسپ لمحہ ہوتا ہے جب حکمران خود شکایت کنندہ بن جائیں۔ یعنی حکومت بھی ہماری، وزیر بھی ہمارے، اختیار بھی ہمارا، اور شکایت بھی ہماری۔‘‘پھر ہنس کر بولا۔’’عوام برسوں سے شکایت کر رہی تھی تو اسے اپوزیشن سمجھا جاتا تھا، اب اگر شکایت حکومتی بنچوں سے اٹھنے لگے تو پھر اسے کیا نام دیا جائے؟‘‘
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔’’لگتا ہے ڈاچھی گام کے جنگل میں صرف گدھے ہی خاموش نہیں تھے، کچھ منتخب نمائندے بھی اپنے سیاسی مسکن کی تلاش میں تھے۔‘‘ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک گھلنے لگی تھی۔داچھی گام کے درخت خاموش تھے مگر خبری لال کے جملے مسلسل برس رہے تھے۔’’مجھے تو لگتا ہے کشمیر کی سیاست ایک ایسی کشتی ہے جس میں سب ملاح ہیں اور کوئی مسافر نہیں۔ ہر شخص چپو پکڑے کھڑا ہے مگر کشتی اپنی جگہ سے ہلتی نہیں۔‘‘اس نے دور پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا۔’’یہ پہاڑ کتنے خوش قسمت ہیں۔ دہائیوں سے وہی کھڑے ہیں۔ نہ الیکشن لڑتے ہیں، نہ منشور لکھتے ہیں، نہ وعدے کرتے ہیں۔ اس کے باوجود لوگوں کے دلوں میں عزت رکھتے ہیں۔‘‘پھر اس نے فرضی میٹنگ جاری رکھی۔ایک رہنما بولا ہوگا۔’’ہم دہلی جائیں گے۔‘‘سب نے میزیں بجا کر کہا ہوگا۔’’بہت خوب!‘‘
دوسرا بولا ہوگا۔’’ہم مطالبہ دہرائیں گے۔‘‘سب نے پھر میزیں بجا دی ہوں گی۔تیسرا بولا ہوگا۔’’ہم وعدوں کی یاد دہانی کرائیں گے۔‘‘اور میزیں پھر بجی ہوں گی۔خبری لال ہنس کر بولا۔
’’کشمیر کی سیاست میں بعض اوقات میزیں عوام سے زیادہ کام کرتی ہیں۔‘‘یہ بجانے کے علاوہ وازوان کے بھی کام آتی ہیں ’’کشمیر شاید دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غم ہو تو وازوان، خوشی ہو تو وازوان، شادی ہو تو وازوان، اور مرنے والے کے چوتھے کی رسم بھی وازوان کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ یہاں حالات بدلتے رہتے ہیں مگر دسترخوان پر گوشت کی اقسام جمہوری تسلسل کے ساتھ برقرار رہتی ہیں۔‘‘
اس نے جنگل کی طرف ہاتھ پھیلا کر کہا۔’’لہٰذا مجھے کوئی حیرت نہیں کہ جب سیاست خود پریشان ہوئی تو اس نے بھی وہی نسخہ آزمایا جو کشمیری صدیوں سے آزماتے آئے ہیں۔ چنانچہ ڈاچھی گام کے جنگلوں میں سیاسی تشویش کے علاج کے لیے وازوان کا منگل منایا گیا۔‘‘خبری لال قہقہہ لگا کر بولا۔’’اندر شاید کوئی رکن عوامی مسائل بیان کر رہا ہوگا اور باہر باورچی گوشتابہ اور رستہ کی دیگوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے۔ کوئی روزگار پر تقریر کر رہا ہوگا اور کوئی روغن جوش کی مقدار پر۔‘‘
پھر اس نے آنکھ ماری۔’’کشمیر میں بعض اوقات مسئلے اتنے پیچیدہ نہیں ہوتے جتنی ان کے ساتھ پیش کی جانے والی ضیافتیں شاندار ہوتی ہیں۔‘‘اب شام کی سنہری روشنی درختوں کے تنوں پر اتر رہی تھی۔خبری لال کی آواز میں اچانک سنجیدگی آگئی۔’’مذاق اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سرزمین کے لوگ برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ کوئی ریاستی حیثیت کا انتظار کر رہا ہے، کوئی روزگار کا، کوئی انصاف کا، کوئی ترقی کا۔ اور انتظار بھی عجیب شے ہے۔ ابتدا میں امید ہوتا ہے، پھر عادت بن جاتا ہے، اور آخر میں تاریخ۔‘‘
وہ چند لمحے خاموش رہا۔پھر بولا۔’’سیاست دانوں کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ وعدہ کریں، اصل کامیابی یہ ہے کہ لوگ وعدہ سن کر بھی یقین کرلیں۔‘‘گدھوں کا ایک جھنڈ قریب سے گزرا۔خبری لال نے انہیں دیکھ کر کہا۔’’دیکھو، یہ جنگل کے باسی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ سردی آئے گی، برف گرے گی، موسم بدلے گا۔ مگر انسان واحد مخلوق ہے جو ہر موسم میں ایک ہی تقریر سنتا ہے اور ہر بار سمجھتا ہے کہ شاید اس دفعہ کچھ مختلف ہوگا۔‘‘
سورج اب پہاڑوں کے پیچھے اتر رہا تھا۔
داچھی گام پھر سے اپنے اصل سکوت کی طرف لوٹ رہا تھا۔گاڑیاں واپس جانے کو تیار تھیں۔کیمروں کی روشنیاں مدھم پڑ رہی تھیں۔خبری لال اٹھ کھڑا ہوا، اپنی لاٹھی سنبھالی اور آخری بار جنگل کی طرف دیکھا۔’’آج داچھی گام نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ریچھ،گدھے، دیودار، پہاڑ، دھند اور سیاست ایک ہی تصویر میں جمع تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ جنگل کے جانور اپنے وجود کے لیے فکرمند تھے اور انسان اپنے بیانیے کے لیے۔‘‘
چلتے چلتے وہ رکا، مسکرایا اور اپنا آخری تیر چھوڑ گیا۔’’کشمیر کی سیاست بھی ڈاچھی گام کے اس جنگل جیسی ہے۔ باہر سے بے حد حسین، اندر سے بے حد پیچیدہ۔ یہاں ہر کوئی کسی نہ کسی چیز کی تلاش میں ہے۔ گدھا گھاس ڈھونڈ رہا ہے،ریچھ شکار ڈھونڈ رہا ہے، سیاح منظر ڈھونڈ رہا ہے، صحافی خبر ڈھونڈ رہا ہے، سیاست دان نعرہ ڈھونڈ رہا ہے، اور عوام ۔۔۔عوام آج بھی وہ دن ڈھونڈ رہی ہے جب میٹنگوں کے اعلامیوں سے زیادہ اس کی زندگی بدلے گی۔‘‘اور یہ کہہ کر خبری لال شام کی دُھند میں گم ہوگیا، مگر اس کی ہنسی دیر تک داچھی گام کے درختوں میں گونجتی رہی، جیسے جنگل خود سیاست پر تبصرہ کر رہا ہو۔