چار اگست2019 کو نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ گپکار پر ہند نواز سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا ۔یہ 70 سالہ تاریخ میں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی اپنی نوعیت کی پہلی بیٹھک تھی جس میں سوائے بھارتیا جنتا پارٹی کے جموں و کشمیر میں وجود رکھنے والی سبھی سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ اس میٹنگ میں 7 سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ اٹھارہ سیاسی لیڈران شریک ہوئے۔اجلاس کے آخر میں اتفاق رائے سے تین نکات کو حتمی شکل دی گئی؛
اول:۔ ریاست میں وجود رکھنے والی سب سیاسی جماعتیں ریاست کی خصوصی پہچان، خود مختاری اور ریاست کو حاصل خصوصی درجے کیخلاف کسی بھی مہم جوئی کیخلاف یکجا ہیں ۔
دوئم :۔ دفعہ 370 و 35 اے کو کسی صورت بھی منسوخ نہیں کیا جاسکتا اور مزید یہ کہ ریاست کسی بھی تقسیم کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ جموں و کشمیر اور لداخ کی عوام پر چڑھائی کے مترادف ہوگا۔
سوئم:۔ صدر ہند و وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاستی و مرکزی آئین کے تحت حاصل حقوق کی پاسداری یقینی بنائیں۔
4 اگست کو گپکار میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے گن گرج نے تہلکہ مچا دیا اور اس ڈیکلریشن کے نقطہ نمبر 2 کو جواز بنا کر سب سیاسی رہنماؤں کو یا تو انکے گھروں میں نظر بند کیا گیا یا جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا اور اسطرح تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کا الم بلند کرنے والے و الحاق ہندوستان کی بات کرنے والے سبھی لیڈران سے بھی بلا امتیاز تمام آزادیاں چھین لی گئیں۔اب جبکہ جموں و کشمیر کی یہ خصوصی پوزیشن ختم کئے ہوئے سال ہونے کو ہے لیکن کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ اب آگے کیا ہو گا۔ لوگ بے یار و مدد گار پڑے ہیں، کوئی پرسانِ حال نہیں۔ مرکز کی جانب سے ڈومیسائل قانون کو نافذالعمل بنانے کے لئے دن رات ایک کئے جا رہے ہیں۔ لوگوں پر کور ونا کے بجائے نیا ڈومیسائل بنانے کی فکر طاری ہے۔ کورونا کے اس بھیانک دور میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے لوگوں کو ڈومیسائل بنوانے کے لئے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔
ادھر دوسری طرف جموں و کشمیر بھر میں زمین کے حوالے سے لوگ خوف میں مبتلا ہیں، دہائیوں سے آباد لوگوں کو کہا جا رہا کہ وہ جنگلات کی زمینیں خالی کر دیں ۔ سوال ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ کیا یہ لوگ بے گھر رہیں گئے؟ مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر سٹیٹ ری آرگنائزیشن ایکٹ میں یہ بات واضح طوردرج ہے کہ زمینوں کے حوالے سے قانون کا استحقاق جموں و کشمیر میں منتخب ہونے والی حکومت کے پاس ہو گا۔
اس وقت ضرورت تھی لوگوں کو سیاسی رہنمائی کی ۔کیا حالات کی زنجیروں نے سیاسی جماعتوں بالخصوص نیشنل کانفرنس و پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے ہیں یا یہ پراسرار خاموشی انکی طرف سے کوئی سیاسی مصلحت ہو سکتی ہے یہ فیصلہ ابھی کرنا مشکل ہے۔بہرحال سسکیاں بھرتی عوام ضرور کسی اوتار کے انتظار میںہے ۔ مانا کہ کچھ سیاسی قیادت ابھی بھی قید و بند کی صعوبتوں میں ہے لیکن اگر وقت پر انہوں نے اگر اپنی جماعتوں میں جمہوریت کو پنپنے دیا ہوتا، ورکرز کو مفاد پرستی کے بجائے نظریاتی سیاست سکھائی ہوتی تو آج ان کی غیر موجودگی میں عام سیاسی ورکر بھی لوگوں کی مدد کے لئے میدان میں ہوتے اور یوں لوگ بے یار و مدد گار نہ پڑے ہوتے۔
(کالم نگار کا تعلق پونچھ سے ہے اور آپ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ہیں )