سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے موجودہ کان کنی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ دہرایا جس کی وجہ سے لاکھوں کنبوں کا روزگار متاثر ہونے کے علاوہ جموں وکشمیر بھر نجی وسرکاری ترقیاتی کام رُکے پڑے ہیں۔ ایک بیان کے مطابق اپنی پارٹی کی طرف سے جموں وکشمیر بھر میں شروع کئے گئے احتجاجی پروگرام سے متعلق میڈیا کو جانکاری دیتے ہوئے بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی حکومت سے اپیل کی کہ موجودہ جیالوجی ومائننگ پالیسی کو واپس لیاجائے تاکہ مقامی لوگوں کوقدرتی وسائل پرموروثی حقوق کا تحفظ ملے سکے۔ پریس کانفرنس میں پارٹی نائب صدر ظفر اقبال منہاس، جنرل سیکریٹری رفیع احمد میر اور صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر بھی موجود تھے۔ بخاری نے کہاکہ قریب پانچ لاکھ مقامی کنبے جوکہ دہائیوں سے ریت وبجری اور پتھروں کی نکاسی، سپلائی، ٹرانسپورٹیشن اور تعمیری کاروبارسے منسلک ہیں ، کا کام موجودہ عوام مخالف کان کنی پالیسی کی وجہ سے بے حد متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام دوست اقدامات کے بجائے، موجودہ انتظامیہ جموں وکشمیر میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنے پرتلی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ستم ظریفی ہے کہ حکومت چھوٹے پیمانے پر کان کنی کے بدلے معمولی رائلٹی حاصل کرنے پر فخر کررہی ہے اور دوسری طرف وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لئے درکار تعمیراتی سامان کی خریداری میں بہت زیادہ قیمت ادا کر رہی ہے ‘‘۔بخاری نے کہاکہ پانچ اگست 2019کے بعد خام مال کی نکاسی سے متعلق جانکاری حکم نامہ سے جموں وکشمیر میں کان کنی کا کاروبار بے حد متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم نتائج کی پرواہ کیے بغیر مفاد عامہ کے معاملات اٹھاتے رہیں گے، اس وقت انتظامیہ خاموش ہے لیکن میں جیالوجی اور مائننگ سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرزکو یقین دلاتا ہوں کہ اپنی پارٹی اِس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچاکر اُنہیں حقوق دلا کر ہی رہے گی۔قابل ِ ذکر ہے کہ جموں وکشمیر اپنی پارٹی کی ضلع اکائیوں نے ہفتہ کے روز پوری یوٹی کے اندر مختلف مقامات پر اِس پالیسی کے خلاف پُر امن احتجاجی مظاہرے کئے جن کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بخاری نے بتایاکہ احتجاج جموں وکشمیر کے دونوں صوبوں میں کئے گئے سرینگر ضلع میں پانتھہ چوک اور ملورہ، گاندربل میں واتل باغ اور وحید پورہ، کولگام میں نیہامہ، کپواڑہ میں ٹی آر سی کپواڑہ بنہ، بارہمولہ میں شیر وانی کالونی، بانڈی پورہ میں نزدیک تعمیرات عامہ انسپکشن ہیڈ تا منی سیکریٹریٹ، شوپیان میں پڈپوان، اننت ناگ میں اسپورٹس اسٹیڈیم اننت ناگ سے ڈی سی دفتر تک جس کے بعد اشی جی پورہ میں ٹریکٹر ریلی اور پلوامہ میں سیمہ پورہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اسی طرح جموں صوبہ میں پریس کلب جموں، اکھنور میں فوارہ چوک، جموں رورل بی میں ارنیہ، دومانہ چوک، اودھم پور میں جیتھنی چوک، سانبہ میں قومی شاہراہ پر وجے پور ، کٹھوعہ میں ہیرانگر اور مچیاڑی بنی، راجوری میں کوٹرنکہ، پونچھ میں پریڈ گراؤنڈ، کشتواڑ میں مین بازار، ریاسی میں دھرماڑی اور رام بن میں مین رام بن کے مقام پر جیالوجی ومائننگ پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔