موجودہ جدید دور میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے مختلف خطوں میں انسانوں کے ہاتھوں دوسرے انسانوں پر ظلم و جبر کے جو مناظرسامنے آتے ہیں،اُنہیں دیکھ کر ہر باضمیر انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوجاتا ہےکہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟کس لئے کیا جارہا ہے؟ اور کون کررہا ہے؟اور جہاں کہیں بھی اس ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے یا ظالم کے خلاف نفرت کااظہار کیا جاتا ہے،اُسے دیکھ کر یہ احساس اُبھر تا ہے کہ ابھی بھی انسانیت زندہ ہے اور بلا مذہب و ملت انسانوں کی اکثریت انسانیت کی پیروکار ہے،جو مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا اپنی انسانی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ظاہر ہے کہ عالمی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن اس امر کو یقینی بنانے کے لیے وضع کئے گئے ہیں کہ جنگ و جدل کی ہولناکیوں کے باوجود انسانی اقدار پامال نہ ہونے پائیں،نیز ان قوانین کے تحت شہریوں، بچّوں اور خواتین کا تحفّظ ہر حال میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اِسی طرح اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور میں بھی صراحت کے ساتھ یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی حالت میں غیر مسلح افراد کو نشانہ بنانا ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ چنانچہ اس قانونی اور اخلاقی پس منظر میں جب ہم غزہ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہوجاتی ہے کہ یہ معاملہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور انسانی ضمیر کے لئے ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے۔بغور دیکھا جائے توغزہ کی صورت حال کا منظر نامہ دیکھ کر بجا طور پر کہا جاسکتا کہ اب غزہ صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا ہے بلکہ انسانی تاریخ کے اُن المیوں میں شامل ہو چکا ہے جو صدیوں تک یاد رکھے جاتے ہیں۔ یہاں کی تباہ شدہ عمارتیں، اُجڑے ہوئے گھر اور خون میں لتھڑی گلیاں انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا داغ ہیں، جسے محض سیاسی بیانات سے دھویا نہیں جا سکتا۔ یہاں مرنے والے صرف افراد نہیں بلکہ انسانیت کی اُمیدیں ہیں، یہاں بہنے والا خون صرف جسموں کا نہیں بلکہ عالمی انصاف کے دعووں کا بھی ہے۔حق تو یہی ہےکہ فلسطین کا مسئلہ محض حالیہ واقعات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ تاریخی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کی جڑیں بیسویں صدی کے اوائل میں ہونے والی نوآبادیاتی سیاست اور تقسیم کے منصوبوں میں پیوست ہیں، جنہوں نے اس خطے کے فطری توازن کو بگاڑ دیا۔گذشتہ78 سال سے جاری تنازعات نے اس سر زمین کو عدمِ استحکام، خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ زخم مزید گہرے ہوتے چلے گئے ہیں۔ اسی تسلسل میں غزہ آج اس پوری تاریخ کا سب سے المناک اور دلخراش باب بن کر اُبھرا ہے، جہاں ماضی کی ناانصافیاں حال کے المیوں میں ڈھل کر انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔رواں سال کے دوران بھی دنیا کے مختلف گوشوں میںظلم کے خلاف کئی مناظردیکھنے میں آئے ہیں۔ سڑکوں پر نکلنے والے احتجاج، سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازیں اور کچھ انفرادی واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ انسانیت کا ضمیر ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہواہے۔جس سے اس بات کا غماز ہورہا ہے کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے خلاف اُٹھنے والی آوازیں تاریخ کا رُخ موڑ سکتی ہے۔ حالیہ عرصے میں لندن، نیویارک، پیرس، استنبول اور دہلی میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے ضمیر کی آواز بلند کی اور یہ محض وقتی احتجاج نہیں تھے بلکہ ایک گہری انسانی بے چینی اور اخلاقی اضطراب کا اظہار تھے،یہ مظاہرے اس حقیقت کی واضح دلیل بن کر سامنے آتے ہیں کہ یہ مسئلہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ہمہ گیر عالمی انسانی مسئلہ کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس نے سرحدوں، قومیتوں اور مذاہب کی حد بندیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مظلوم کی حمایت صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے اور یہی وہ اصول ہے جو ہمیں نہ صرف غزہ بلکہ دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔یاد رہے کہ اگر ہم کسی ایک مظلوم کی فریاد کو نظر انداز کرتے ہیں تو درحقیقت ہم پوری انسانیت کے ضمیر کو کمزور کر رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم تعصبات، مفادات اور وقتی جذبات سے بلند ہو کر حق اور انصاف کو اپنا معیار بنائیں۔