سرینگر// حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑکا یوم شہادت نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا ۔ اس سلسلے یں مختلف مساجد ، زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں تقریبات کا انعقاد ہوا ۔ جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ہمدانی نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ مسلمانوں کے دلوں میں اہلبیت کی محبت تا قیامت برقرار رہے گی۔ آستان عالیہ علم صاحب نرورہ ،خانقاہِ معلی، زیارت مرزا اکمل الدین بدخشی، آستان شاہ کلندر لار اور آستان عالیہ حضرت شیخ محمد ابراہیم جمالٹہ میں بھی مجالس منعقد ہوئیں جہاں درود ازکار ا ورختمات المعظمات کی مجالس آراستہ ہوئیں اور تبرکات کی نشاندہی کی گئی ۔مرزا اکمل الدین بدخشیؒ کی زیارت گاہ پر منعقدہ تقریب پر مولوی خورشید احمد قانونگو نے امام حسن مجتبیٰ ؓ اور حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کی سیرت پر خطبہ دیا۔دریں اثناء حضرت مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کا عرس مبارک بھی عقیدت و احترام کیساتھ منایا جارہا ہے۔ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے حضرت مجددّالف ثانیؒ کے عرس پر اپنے پیغام میں کہا کہ شیخ احمد سرہندیؒ بے مثال و بے حد مخیر اور غریب پرور تھے ۔ حقانی میموریل ٹرسٹ نے حضرت امام حسنؑ کو ان کے یوم ولادت پر گلہائے عقیدت پیش کیا ہے۔بیان کے مطابق آستانہ عالیہ حضرت میر سیدشاہ قاسم حقانی نرپرستان میں ماہانہ مجلس منعقد ہو ئی جس میں ذکر و اذکار اور درود و سلام کا اہتمام کیا گیا۔ ٹرسٹ کے سر پرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی اور جنرل سکریٹری بشیر احمد ڈار نے حضرت امام حسنؑ کو خراج عقیدت پیش کرت ہوئے کہاکہ اہلبیتؑ کی فضیلت قران پاک اور احادیث سے عیاںہے ۔انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسن ؑ نے صلح جو ئی کی خاطرجو اقدامات کئے ہیں وہ قیامت تک امت کیلئے مشعل راہ ہیں ۔انجمن حمایت الاسلام کے سربراہ مولانا خورشید احمد قانونگو نے کہا کہ آنجناب ؓ کی عظیم خدمت اسلام اتحاد و بین المسلمین جس کی پیشگوئی خود حضور اقدس ؐ نے حضرت امام حسن ِ مجتبیٰ ؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ شاید یہ سید مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان مصالحت و مفاہمت کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو خون ریزی سے بچائے گا۔ حضرت امام حسنِ مجتبیٰ ؓ کی عظمت اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ حضور ؐ کے حالت ِ سجدے میں سوار ہوجاتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ اے اللہ میں اس سے محبت کرتاہوں ، آپ بھی اس سے محبت کر۔ حضور ؐ انہیں اپنے کندھوں پر سوار کرکے ان کی عظمت سے اُمت ِ اسلام کو آگاہ فرمارہے تھے ۔ آپ سخاوت میں بے مثال تھے تین بار آدھا مال راہ خدا میں اور دو مرتبہ پورا مال اللہ کے راستے میں خرچ فرمایا ۔ آپ بہت بڑے برد بار اور حلیم الطبع تھے ۔ مروان کی بے تحاشا گستاخیوں کے باوجود تحمل اختیار فرمایا لیکن خلاف سنت دائیں ہاتھ سے مروان کو اپنی ناک صاف کرتے ہوئے فرمایا ، افسوس تجھے اتنا بھی معلوم نہیں کہ داہنا ہاتھ اس کام کے لئے نہیں ہے یعنی اپنی برائی سُن کر خاموش ہوئے مگر خلافِ سنت دیکھ کر فوراً تنبیہ فرمائی ۔ آج خانقاہ اکملیہ ؒ حول میں آنجناب ؓکے سیرتِ مبارک پر بیان ہوگا۔