۔20سے 40فیصد مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے:ماہرین
پرویز احمد
سرینگر //امراض قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے بی پی آئی(Ankle Branchail Pressure index) ٹیسٹ کے ذریعے حرکت قلب بند ہونے کے دوران 40فیصد مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ اے بی پی آئی ٹیسٹ سے چھوٹی نسوں میں چربی اور کیلشیم جمع ہونے سے پی اے ڈی (چھوٹی نسوں میں سکڑن)نامی بیماری کا پتہ چلتا ہے جو سٹروک اور دل کے عارضہ میں مبتلامریضوں میں پائی جاتی ہے ۔ وادی میں ماہر امراض قلب کہا کہنا ہے کہ سٹروک اور ہارٹ اٹیک کے40فیصد مریضوں میںدیگر بیماریوں کے علاوہ نسوں کی سکڑن بھی موجود ہوتی ہے تاہم یہ سکڑن صرف مریض کو لاحق خطرے سے آگاہ کرتی ہے ۔ آپ یہ جانکر حیران ہونگے کہ متواتر طور پربازئوں اور ٹانگوں کے بلڈ پریشر پر نظر رکھنے سے کافی حد تک سٹروک اور حرکت قلب بند ہونے کے خطرے کو پہلے ہی جان لیا جاسکتاہے اور ایسا ٹیسٹ کی مدد سے ہوسکتا ہے جس کو ABPIیا ABIکہتے ہیں۔ اے بی پی آئی بلڈ پریشر میں فرق پتہ کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ بالکل آسان ہے اور عام آدمی بلڈ پریشر مشین سے اس ٹیسٹ کو گھر پر بھی کرسکتا ہے۔ جب بلڈپریشر، شوگر، خون میں چربی اور کیلشم جمع ہونے کی نسوں کی سکڑن پیدا ہوتی ہے تو یہ سٹروک اور ہارٹ اٹیک ہونے کی خطرے کی بڑی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اسلئے شوگر اور کولسٹرال کے شکار مریضوں کو یہ ٹیسٹ گھر میں متواتر طور پر کرنا چاہئے۔ اے بی پی آئی ٹیسٹ کا یہ آسان طریقہ دو مرحلوں میں پورا ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میںایک بازو کا بلڈ پریشر چیک کیا جاتا ہے اور بعد میں اسی طرف کی ٹانگ کا بلڈ پریشر بھی چیک کیا جاتا ہے۔پھر بازو کے systolicپریشر کو ٹانگ کے systolic پریشر سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ٹانگ اور بازو کے بلڈ پریشر کو تقسیم کرنے سے جو نتائج سامنے آتے ہیں وہی مریض کا اے بی آئی ہوتا ہے جو نسوں میں سکڑن یعنی Peripheral Artrial Disease کی جانکاری دیتا ہے۔ چھوٹی نسوں میں سکڑن وہ بیماری ہے جس میں جسم کے ہر حصے کی چھوٹی نسوں میں چربی اور کیلشم جمع ہوتا ہے ۔ یہ سکڑن سٹروک اور ہارٹ اٹیک کے شکار مریضوں میں ایک علامت کی طور پر پائی جاتی ہے۔ ماہر امراض قلب کے مطابق اگر کسی بھی مریض میں اے بی آئی 1.0سے 1.4تک ہوتا ہے تو اس کا ٹیسٹ نارمل ہے، جس مریض میں اے بی پی آئی 0.90سے0.99تک ہو تواس میں نسیں سکڑنے کی بیماری کی شروعات ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ یہ بیماری صرف نسیں سکڑنے سے ہو بلکہ ایسا شوگر کے مریضوں میں بھی ہوتا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں شعبہ امراض قلب میں تعینات ڈاکٹر شوکت احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’اے بی پی آئی حرکت قلب اور سٹروک سے جڑا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اے بی پی آئی سے نسوں کی سکڑن کا پتہ چلتا ہے جوکولسٹرال اور شوگر کے مریضوں میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شوکت نے کہا کہ اے بی پی آئی کے بجائے عمومی طور پر ای سی جی وغیرہ کیا جاتاہے ۔ انہوں نے کہا ’’سٹروک اورہارٹ اٹیک کے 20سے 40فیصد مریضوں میں نسوں میں سکڑن کی بیماری ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ ورزش اور علاج کے ذریعے نسوں کی سکڑن کو کم کیا جاسکتا ۔