آج سے چودہ سوسال قبل ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بیگمات(ازواج مطہراتؓ) کے بارےمیں یہ حکم دیاگیا کہ وہ پردہ کریں ۔آپ یہ سوچئےکہ اس زمانے کی معززخواتین سے اللہ مخاطب ہے، یہ ان کو احساس دلاناتھا کہ تم ساری امت کی مائیں ہوں، اسلئے اپنے مرتبے کاخیال رکھنا ۔اُن سے یہ بھی کہاگیا کہ’’ تم عام خواتین نہیں ہو، تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان میں بات نہ کرنا کہ دل کی خرابی کاکوئی شخص لالچ میں پڑجائے بلکہ صاف اورسیدھی بات کیاکرو، اپنے گھروں میں ثابت قدم رہو اورسابقہ دورِجاہلیت کی طرح سج دھج کراپنے آپ کو نہ دکھاتی پھرو‘‘۔(سورہ احزاب)اُس وقت کے سب سے معززین مرد حضرات کےسامنے سب سے معززخواتین نے پردےکااہتمام کیا،یہ ہماری شریعت اور دین کااہم حصہ ہے۔اگر کوئی اس کو عمل میں نہیں لائے تویقینا وہ گنہگاراور شریعت کیخلاف ہے۔پردہ کوئی ایساقیدخانہ نہیں ہے جس کومغربی تہذیب کی بنیادپر ایک واویلاکھڑاکیاجائے ۔آج یقینا ًپردےکےنام پر مغرب کی وادیوں میں ایک ہنگامہ خیز خوفناک طریقے سے پیش کیاجارہاہے ،ایک دکھاواہے ۔اسلام ایک ایسامذہب ہے جس نے خواتین کو وہ عزت دی ہے کہ آج وہ اپنا سرفخرسے اونچا کررہی ہیں۔ اسلام سے قبل کی تاریخ اٹھاکردیکھیں خواتین کس زمرے میں شمارکی جاتی تھی اور کس حیثیت سے ان کو مقام دیاجاتاتھا، لیکن آج اسی اسلام کو دقیانوسیت کااڈہ قراردیاجارہاہے۔اور کہاجارہاہے کہ اسلام نے عورت کو قیدکررکھاہے،اس کے حقوق کو سلب کرلئے ہیں اور گھرمیں ایک قیدی بناکر اُسےچہاردیواری میں رہنےپرمجبورکیاجاتاہے۔ان سے یہی کہاجاسکتاہے کہ تعصب کاچشمہ ہٹاکر اسلامی تعلیمات کامطالعہ کیجئے،اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فیصلہ متعصبانہ طورپرپیش کیاگیا ہے ۔اگرہم آئین ہندکامطالعہ کرتےہیں تو اس چیز کی ہمیں اجازت دی گئی ہے، ہر مذاہب کے ماننے والوں کو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ اپنے مذاہب پر عمل کریں۔ تلنگانہ کے وزیراعلی چندرشیکھرراؤنے بہترین پیرائے میں بات کہی ہےکہ کوئی دھوتی پہنتاہےتوکوئی شیروانی،اس سے حکومت کاکیاتعلق؟اسلئے کہ آئین ہند ہے۔ لیکن کیاکیاجائےجب نگاہیں اور دل ودماغ تعصب کاشکارہوجائے تو حق اورواضح قوانین بھی دُھندلےنظرآتےہیں، چاہے شریعت کاکوئی مسئلہ یامسلمانوں کے تعلق سے کوئی معاملہ ہو۔ بابری مسجد کامعاملہ اسی کانتیجہ ہے تمام ثبوت ہونےکےبعد بھی فیصلہ کا کونسارخ پیش کیاگیا اورجج صاحب کو راجیہ سبھاکی سیٹ ہدیتاً پیش کی گئی۔ خیر یہ مسلمانوں کی اعلی ظرفی ہےکہ انہوں نے دنیاوی فیصلےکےاعتبارسے اس فیصلے کوقبول کرلیا اور ایسے کسی واقعہ کو انجام دینا مناسب نہیں سمجھا، جس سے ملک ِعزیز کا ماحول خراب ہو۔یہی معاملہ طلاق ثلاثہ میںہواجوشریعت کامسئلہ ہے ۔اگرچہ اللہ کےنزدیک ناپسندیدہ عمل ہے لیکن شریعت کا ایک حصہ ہے،جیسے پورے گھر میں عالیشان سنگ مرمر اور بہترین نقاشی کی گئی ہو مگر بیت الخلاء نہ ہوتو وہ گھر نامکمل شمارکیاجاتا ہے۔بیت الخلامیں کون جاتا ہے، اس کی خوبصورتی دیکھنے یا خوشبو سونگھنےکیلئے،لیکن اس کارہناضروری ہے۔ٹھیک اسی طرح طلاق کامسئلہ ہے شریعت میں ہے لیکن ناپسندیدگی کے طورپر،کیوں کہ اس سے کئی خاندان اُجڑتےہیںمگر اس پر کیسے شورمچایاگیا ۔چند خواتین کو جمع کرکے ان کی زبان سے بیان درج کرانا کیا عقلمندی کاکام ہے؟ جب کہ وہ خود شریعت سے دورہی نہیں بلکہ شکوک وشبہات کے تحت مسلم ہیںبھی یا نہیں!اسلئے کہ مختلف مواقع پر غیرمسلم مہذبانہ طورپردیکھی گئیں ،کبھی مندرمیں دیکھاگیا ،تو ہاتھ کی کلائیوں میں علامتی دھاگا بھی دیکھا گیا،تو کبھی پیشانی پر مخصوص ٹیکہ بھی نظرآیا لیکن ہندوستان کی لاکھوں کی تعدادمیں سڑکوں ، میدانوں ، گلی کوچوں میں احتجاج کرتی ہوئی خواتین سے صرفِ نظرکرکے حکومت اورقوت کی بناپر فیصلہ سنادینا کہاں کی حکمت عملی ہے؟
ابھی فی الوقت موجودہ تنازعہ کرناٹک کاہے جہاں کالج کی طالبات کو اس کے حجاب میں وہاں کی انتطامیہ کالج کی چہاردیواری میں داخل ہونے سےمنع کردیتی ہے ،انہیں مجبورکیاجاتاہے کہ وہ حجاب کے بغیر کالج میں داخل ہوں لیکن وہ طالبات شریعت کی پابندی کولازمی قراردیتےہوئے اس بات پر راضی نہیں ہوئیں کہ حجاب کے بغیر کالج میں آئیں ،ان طالبات نے احتجاجاً گیٹ کےپاس ہی بیٹھ کر پڑھنا شروع کیایہاں تک کہ کتنی طالبات امتحان سے بھی محروم ہوگئیں۔ چنانچہ معاملہ طول پکڑتاگیا اورحالات بدسے بدتر ہوتےگئے ،پھر کالج کے طلباء وطالبات دوجماعتوں میں تقسیم ہوگئے،ان کی تعلیم کا کتنانقصان ہوا،اُن کا ذہن کتنامنتشرہو ا،ایک ساتھ کالج کی چہاردیواری میں اخوت ومحبت کیساتھ تعلیم حاصل کرنیوالے ایک دوسرےکے دشمن بن گئے۔ان تمام امورکولےکرکئی مرتبہ شورشرابہ بھی ہوا اورناگہانی حالات بھی پیش آئیں ، پوری دنیا نے جس منظرکو دیکھا وہ کسی سے چھپانہیں ہے۔کالج کی ایک طالبہ مسکان جو اپنی ضروریات کیلئے کالج جارہی تھی تو چند سرپھرے نوجوانوں نے انہیں کس طرح تنگ کیا، انہیں حجاب اُتارنے کو کہامگروہ نہیں اُتاری اور جب وہ حجاب کیساتھ کالج میں داخل ہوئی تو ان ہی سرپھروں نے نعرہ بازی کی ،ڈرانے دھمکانے جیسااہم رول اداکیا ۔لیکن وہ غیرت مند عزم سے مزین ہوکر نعرۂ تکبیر بلند کیا، یہ منظر آناًفاناً پوری دنیا میں پہونچ گیا، عالمی میڈیانےاسے اپنی سرخیاں بنائی،جب یہ معاملہ اور طول پکڑگیاتو طالبات نے انصاف کی لڑائی کیلئےکرناٹک ہائی کورٹ کا رخ کیا مگرجس چیز کوکورٹ نے حوالے کےطورپریہ کہتےہوئے پیش کیاکہ حجاب اسلام وشریعت کالازمی جزنہیں، یہ بالکل قرآن مقدس کیخلاف ہے۔ حالانکہ طالبات نے ابھی سےحجاب پہننا شروع نہیں کیا تھایا طالبات نے حجاب پہن کر پہلی بار احتجاج کیا تھا، یہ تو ایک زمانے سے بغیرکسی چوں چراں کے حجاب کااستعمال کررہی تھی اور حجاب پہن کر اسکول آرہی تھیں ،پھر ہماراآئین بھی اس کی اجازت دیتاہے۔اسی طرح کاواقعہ ممبئی میں پیش آیاتھا کہ ایک میڈیکل کالج کی طالبہ جب حجاب میں کالج گئی تو انتظامیہ نے اسے منع کردیا، اُس طالبہ نے بھی اپنےحقوق کیلئے ممبئی ہائی کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایااور اپنی بات پیش کی کہ مجھےحجاب میں رہ کرتعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے دیں اگر نہیںتو مجھےکسی دوسرےکالج میں منتقل کردے تاکہ میں اپنی تعلیم کیساتھ مذہب کی بھی پابندرہ سکوں۔اس وقت بامبےہائی کورٹ نے انتظامیہ کویہ فیصلہ سنایاکہ کسی دوسرےکالج میں منتقل کرنےکی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں اپنے حجاب میں تعلیم حاصل کرنے دیا جائے ،یہ۲۰۱۸ءکا فیصلہ ہے ۔ جبکہ حالیہ فیصلہ جو اِسی بنیادپر کرناٹک ہائی کورٹ کاہے، بالکل اس کے برعکس ہے۔ قرآن میں پردے کا ذکر صاف واضح الفاظ میں ہے ۔کورٹ کا صرف یہ کہہ دینا کہ حجاب اسلام کالازمی جز نہیں ہے، تویہ انصاف سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ سب سے پہلےتوہم یہ سمجھیں کہ حجاب کیاہے؟حجاب اپنے آپ کو حفظ وامان میں رکھنےکا ایک لباس ہےاورشریعت الہٰی کی نظرمیں اس کو استعمال کرنیوالی خواتین پابندشریعت ہے۔دوسری چیزحکومتِ ہندتسلسل کیساتھ یہ آواز بلندکرتی ہے کہ ہماری حکومت خواتین کی حفاظت منظم طورپرکرتی ہےاورکرےگی اورہر اسٹیج سے یہ نعرہ بلند کیاجاتاہے ’’بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ‘‘لیکن حکومت کے اس غلط رویےنے اُن نعروں میں جکڑی ہوئی بیٹی کو اپنے تحفظات کیلئے سڑکوں پر ، یامیدانوں میں آواز بلند کرنا پڑرہی ہے، اگر یہ مسلمان لڑکیاںہیں تو ان کیلئے بھی حکومت کانعرہ ہے’’ سب کاساتھ سب کاوکاس‘‘،مزید اس نعرہ کو تقویت دیتےہوئے لفظ سب کاوشواس بھی بڑھایامگرشاید یہ الفاظ کی لفاظی ہی سمجھی جائے کیوں کہ مسلسل ان کیساتھ ناانصافی کاکھیل کھیلاجارہاہے جو رُکنے کانام نہیں لیتا۔ایک مسئلہ کوحل نہیں کیاجاتاکہ دوسرے مسائل کاشوشہ چھوڑکر انہیں ذہنی طورپراُلجھادیاجاتاہےاور اس کے بعدانہیں مکمل ثبوت کےبعد بھی انصاف سے محروم کردیاجاتاہے،یقیناً یہ فیصلہ بھی اسی سطح پرمبنی ہے جسے قبول کیاجانا اسلام اور قرآن حدیث کیخلاف ہوگا۔ ہائی کورٹ سےفیصلہ ناحق آنےپر طالبات نے اب عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعاءہےکہ اللہ ان طالبات کے عزم وحوصلوں کوقبول فرمائیں ، اور تمام شروروفتن وحاسدین کی حسدسے حفاظت فرمائیں ۔