محمد بشارت
کوٹرنکہ// گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری میں نصرت جان کی مبینہ موت کے معاملے پر کوٹرنکہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عوامی اور مذہبی حلقوں نے اس واقعے پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں معروف مذہبی رہنما مفتی غلام محی الدین نے مرکزی جامعہ مسجد کوٹرنکہ میں خطاب کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ نصرت جان کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے اور اگر کسی بھی سطح پر طبی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مقامی لوگوں کے مطابق نصرت جان نے جی ایم سی راجوری میں بچے کو جنم دیا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں ایک انجکشن دیا گیا، جس کے فوراً بعد ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہوگئیں۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس دوران ڈاکٹروں کی ٹیم نے بروقت توجہ نہیں دی، جس کے باعث وہ دو دن تک وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گئیں۔واقعے کے خلاف کوٹرنکہ میں نوجوانوں نے پرامن احتجاج بھی کیا تھا۔ تاہم بعد میں تھانہ کنڈی میں چار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، جن میں نصرت جان کے ایک ماموں کا نام بھی شامل ہے۔ اس اقدام پر مقامی عوام اور متاثرہ خاندان میں مزید غصہ پایا جا رہا ہے۔مفتی غلام محی الدین نے کہا کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں پر مقدمات درج کرنا افسوسناک اور غیر مناسب اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو عوامی جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور بے قصور نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات فوری واپس لینے چاہئیں۔دریں اثنا، کوٹرنکہ کے معزز شہریوں نے جامعہ مسجد کے صدر راج محمد راتھر کی قیادت میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ کو ایک میمورینڈم پیش کیا۔ وفد میں انجینئر محمد نواز، لطیف گوجر، مولوی رشید اور دیگر افراد شامل تھے۔ میمورینڈم میں مطالبہ کیا گیا کہ نصرت جان کی موت کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور پورے معاملے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانا اور عوامی اعتماد بحال کرنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوٹرنکہ نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس پورے معاملے پر ڈپٹی کمشنر راجوری سے بات چیت کریں گے اور عوامی مطالبات کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا۔