بلال فرقانی
سرینگر//وادی میں ہفتہ کو اگرچہ دن بھر وقفے وقفے سے ہلکی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا، تاہم دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی جس جس کے نتیجے میں رام منشی باغ اور پانپور کے پانی پیمائشی اسٹیشن تقریبا 36 گھنٹوں بعد سیلابی انتباہی سطح (فلڈ ڈکلیریشن لیول) سے نیچے آ گئے جبکہ عشم میں بھی پانی کی سطح میں کمی کا رجحان تھا۔ دوسری جانب سہ پہر سے وولر، نالہ ویشو، نالہ لدر، دودھ گنگا اور نالہ سندھ کی سطح میں اضافہ شروع ہوا جو رات گئے تک جاری تھا۔۔کشمیر ویدر کے مطابق رات کے وقت دریا کے پانی کی سطح میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے کیونکہ پہلے کی بارش کا بہائو آہستہ آہستہ دریاں تک پہنچتا ہے۔ تاہم، ایک بار پھر، سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
پانی کی سطح
محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران سنگم میں 12 ملی میٹر، رام منشی باغ میں 13.5 ملی میٹر، عشم میں 12 ملی میٹر، ولر میں 7.5 ملی میٹر جبکہ بٹکوٹ پہلگام میں 7.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مسلسل بارشوں کے باوجود جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے دریائے جہلم میں پانی کی سطح بتدریج کم ہونا شروع ہوئی، جس سے مجموعی سیلابی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔اعداد و شمار کے مطابق سنگم میں جمعہ کی شب 10 بجے پانی کی سطح 19.78 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو ہفتہ کی صبح 4 بجے کم ہو کر 18.99 فٹ، دوپہر 12 بجے 16.76 فٹ، شام 4 بجے 15.56 فٹ اور رات 8 بجے مزید کم ہو کر 14.68 فٹ رہ گئی۔ اس طرح 24 گھنٹوں کے دوران سنگم میں پانی کی سطح میں مجموعی طور پر 5.10 فٹ کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح پانپو سٹیشن، جہاں جمعہ کو دریائے جہلم سیلابی انتباہی سطح سے اوپر بہہ رہا تھا، وہاں بھی پانی کی سطح میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔ یہاں رات 12 بجے پانی کی سطح 1587.774 میٹر، صبح 4 بجے 1587.724 میٹر، ہفتے کی دوپہر1587.854 میٹر جبکہ رات 8 بجے یہ کم ہو کر 1586.974 میٹر رہ گئی۔ مجموعی طور پر تقریباً 0.90 میٹر کی کمی کے بعد دریا نہ صرف خطرے کی حد بلکہ سیلابی انتباہی سطح سے بھی نیچے آ گیا۔سرینگر کے رام منشی باغ پانی پیمائشی سٹیشن پر بھی جمعہ کی شب سے پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی۔ صبح 4 بجے پانی کی سطح 19.07 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو دوپہر 12 بجے 18.75 فٹ، شام 4 بجے 18.00 فٹ اور رات 8 بجے مزید کم ہو کر 17.38 فٹ رہ گئی۔ یوں تقریباً 18 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں 1.69 فٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ سٹیشن بھی سیلابی انتباہی سطح سے نیچے آ گیا۔عشم میںبھی پانی کی سطح میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار رہا۔ یہاں صبح 9 بجے پانی کی سطح 13.00 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو دوپہر تک 12.98 فٹ، شام 4 بجے 12.92 فٹ اور رات 8 بجے مزید کم ہو کر 12.79 فٹ رہ گئی۔ اس طرح بارہ گھنٹوں کے دوران عشم میں پانی کی سطح میں 0.21 فٹ کی کمی دیکھی گئی۔محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے مطابق وادی کے معاون ندی نالوں کی صورتحال بھی مجموعی طور پر قابو میں رہی، اگرچہ بعض مقامات پر پانی کی سطح میں معمولی اتار چڑھائو دیکھا گیا۔ ولر جھیل میں پانی کی سطح 1576.560 میٹر ریکارڈ کی گئی جہاں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ ویشو نالہ (کھڈونی) میں 1591.911 میٹر، رمبی آرا نالہ(وچی)میں 1590.210 میٹر، رومشی نالہ( اگلر) میں 1867.506 میٹر، رومشی نالہ(پوہو)میں 1588.487 میٹر، دودھ گنگا (برنوار)میں 1989.720 میٹر، داچھی گام نالہ میں 1597.420 میٹر اور ارن نالہ (پاپہ چھن)میں 1597.556 میٹر پانی کی سطح ریکارڈ کی گئی۔حکام کے مطابق ولر جھیل، ویشو نالہ، رمبی آرا، رومشی نالہ، دودھ گنگا، داچھی گام نالہ اور ارن نالہ میں پانی کی سطح میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ شیش ناگ نالہ، لدر اور دریائے جہلم کے تمام مرکزی مقامات پر پانی کی سطح میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ کو وادی کے بیشتر علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا اور آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمومی دریاوی سیلاب کا خطرہ فی الحال کافی حد تک ٹل چکا ہے، تاہم مسلسل بارش کی صورت میں مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ اس کے پیش نظر فلڈ کنٹرول، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے دریائے جہلم اور دیگر آبی گزرگاہوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاط برتنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ادھر جہلم میںپانی کی سطح میں اضافہ کی وجہ سے جھیل ولر میں بھی پانی کی سطح متواتر بڑھ رہی ہے۔ جہلم اور وولر کے بڑھتے ہوئے پانی نے زرمنز، کنیاری، لہروال پورہ، صدرکوٹ پائین، اور ولر کے کنارے واقع کئی دیگر بستیوں کے لیے سیلاب کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
قومی شاہراہ پسی گرنے کے بعد جزوی بحال
یاتراپہلگام سے معطل،بالتل سے شروع
محمد تسکین
بانہال//شدید بارشوں کے نتیجے میں گر آئی پسیوں اور پتھروں کی وجہ سے تین روز تک بند رہنے کے بعد جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ہفتے کی صبح سے معمول کے ٹریفک کو بحال کیا گیا ، تاہم سہ پہر کے وقت دوباری بھاری پسی گرنے سے شاہراہ بند ہوگئی۔ ٹریفک پولیس حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہفتے کی صبح سے ہزاروں کی تعداد میں مسافر گاڑیوں نے دونوں طرف کے ٹریفک میں شاہراہ پر سفر کیا جبکہ مال بردار ٹرکوں اور ایندھن بردار ٹینکروں کو جموں سے سرینگر کی طرف آنے کی اجازت تھی۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ شام تک شاہراہ کے تمام مقامات کو معمول کے ٹریفک کے قابل بنایا گیا تھا اور درماندہ ٹریفک کو جمعہ رات دیر تک نکالا گیا تھا۔ ایس ایس پی ٹریفک کے مطابق ہفتے کی دوپہر بعد سے شروع ہوئے بارشوں کے تازہ سلسلے کی وجہ سے ادہمپور کے جھیکنی اور چیننی کے درمیان شاہراہ کی اوپری ٹیوب کے کئی مقامات پر پتھر اور ملبہ اور گنگرو رامسو میں پسی گر آئی ، جس کیوجہ سے چار بجے بعد سے ٹریفک کو عارضی طور بند کر دیا گیا ۔تاہم فوری طور پر ملبہ ہٹانے کی کارروائی شام پونے سات بجے شروع کی گئی اور حکام نے بتایا کہ ٹریفک کو بحال کیا جارہا ہے۔ادھر پوشانہ کے قریب مغل روڈ پر پتھرگرنے کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت کچھ دیر کے لیے معطل رہی۔حکام کا کہنا ہے کہ ہلکی بارش کے دوران مغل روڈ پر مٹی کا ایک حصہ گرا جس کے بعد بڑے پتھر سڑک پر گرنے سے ٹریفک کے لیے رکاوٹ بنی۔تاہم بعد میں ٹریفک بحال کیا گیا۔
یاترا
کشمیر میں حکام نے ہفتہ کو کہا کہ امرناتھ یاترا پہلگام کے محور سے “عارضی طور پر” معطل رہے گی ۔ڈویژنل کمشنر انشول گرگ نے کہا، “حالیہ بارشوں کی وجہ سے ضروری مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کے پیش نظر، یاترا بالتال محور سے ہوتی رہے گی، جبکہ پہلگام کا محور یاترا کے لیے عارضی طور پر بند رہے گا،” ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے پہلگام روٹ پر فوری مرمت اور بحالی کے کاموں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، “یاترا کے بلاتعطل تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے، یاتریوں کی محفوظ اور ہموار نقل و حرکت کے لیے بالتل کے محور پر جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔”ڈویژنل کمشنر کشمیر نے کہا کہ اس سال یاترا کے دوران اب تک 3.95 لاکھ سے زیادہ یاتریوں نے درشن کئے ہیں۔