جموں و کشمیر میں موسلادھار بارشوںکا سلسلہ فی الحال تھم گیا
بلال فرقانی
سرینگر// جمعرات کی شب دریائے جہلم کے پانی کی سطح پانپور میں خطرے کے نشان جبکہ رام منشی باغ مانیٹرنگ اسٹین پر فلڈ ڈیکلریشن (انتباہ)کی سطح عبور کرگئی۔ جس کے بعد محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول نے تازہ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے فلڈ ڈیوٹی کے عملے کو بلا تاخیر اپنے مقررہ مقامات پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔رات بھر وادی کشمیرمیں موسلادھار بارش کے بعد جمعرات کو دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ سنگم مانیٹرنگ اسٹیشن پر دریائے جہلم انتباہ کی سطح چھونے کے قریب تھا۔جھیل ولر، رمبی آرہ ، رومشی نالہ پوہو، ویشو نالہ، لدر نالہ بٹکوٹ، آڈو نالہ پہلگام میں سطح آب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہاہے،تاہم آری پل نالہ پستونی ترال، داچھی گام نالہ،ارن نالہ پاپہ چھن بانڈی پورہ، میں پانی کی سطح میں کمی دیکھنے کو ملی۔ دودھ گنگا اور نالہ مدو متی سنر ونی بانڈی پورہ میں پانی کی سطح نیچے رہی۔ بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک سنگم میں پانی کی سطح میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دن بھر دریا میں مسلسل اضافہ جاری رہا۔ رام منشی باغ اورعشم میں بھی پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا، اگرچہ اس کی رفتار نسبتا کم رہی۔تاہم پانپور میں5بجے کے قریب سیلابی وارنگ کے نشان کو پانی نے عبور کیا۔حکام نے بتایا کہ پانی کی سطح میں یہ اضافہ مسلسل بارشوں اور بالائی علاقوں سے آنے والے پانی کے باعث ہوا ہے۔ اگرچہ رات دس بجے تک دریائے جہلم کے حوالے سے کوئی فلڈ الرٹ جاری نہیں کیا گیا، تاہم متعلقہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
پانی داخل
سرینگر کے کرسو راجباغ بنڈ سے ملحقہ بعض علاقوں میں پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا، جس کے بعد ایس ڈی آر ایف اور جموں و کشمیر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ امدادی ٹیموں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر متاثرہ علاقوں میں کشتیاں تعینات کر دیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری ریسکیو کارروائیاں انجام دی جا سکیں۔انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پرزیرو برج سے لال چوک تک بنڈ پر قائم تمام عارضی کیوسک بھی بند کرا دیے تاکہ پانی کی سطح میں مزید اضافے کی صورت میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔انتظامیہ نے دریا کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پوری طرح چوکس رہیں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ محکموں کے ساتھ تعاون کریں۔ادھربجہامہ، اوڑی بڑے پیمانے پر بادل پھٹنے سے بڑے بڑے پتھر نیچے کی طرف لڑھک گئے اوڑی کے مایان، بجہامہ میں زبردست بادل پھٹنے سے سیلاب آیا جو بڑے پتھروں اور ملبے کو ساتھ بہا گیا۔بادل پھٹنے کے بعد بارش کے شدید سلسلہ شروع ہوئے جس نے دوپہر کے آخر میں اوڑی کے کچھ حصوں کو متاثر کیا۔
وارننگ
محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول نے جمعرات کو جنوبی اور وسطی کشمیر میں سیلاب کی ڈیوٹی پر مامور تمام افسران اور اہلکاروں کو فوری طور پر اپنے مقررہ ڈیوٹی مقامات پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ایک ایڈوائزری میں، چیف انجینئر کشمیر نے کہا کہ دریا میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح نے سیلاب سے نمٹنے کے طریقہ کار کو فعال کرنے کی ضرورت پیش کر دی ہے۔محکمہ نے اپنی عوامی ایڈوائزری میںرہائشیوں پر زور دیا کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں اور دریائوں، ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر کے قریب جانے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ مسلسل خراب موسم کی پیش گوئی کے درمیان حساس علاقوں میں سیلاب کی تیاری کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تینوں بڑے گیج اسٹیشنوں پر دریا خطرے کی سطح سے نیچے رہا۔ انہوں نے کہا کہ پانپور میں جہلم کی سطح الرٹ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اگلے ہفتے بڑے پیمانے پر بارشیں متوقع
ریاسی اور قاضی گنڈ میں سب سے زیادہ بارشیں
ریاسی اور قاضی گنڈ میں سب سے زیادہ بارشیں
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی)نے جمعرات کو صبح 820 بجے پر جاری کردہ صبح کے بلیٹن میں، ہماچل پردیش، جموں وکشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفر آباد، پنجاب، ہریانہ-چندی گڑھ-دہلی اور اتر پردیش کے کچھ حصوں اور آنے والے ہفتے کے لیے وسیع بارش کی پیش گوئی کی ہے۔آئی ایم ڈی نے ان میں سے کئی علاقوں میں الگ تھلگ بہت بھاری بارش کا بھی انتباہ دیا ہے۔آئی ایم ڈی نے 23 سے 28 جولائی تک جموں و کشمیر- لداخ- گلگت- بلتستان- مظفر آباد، اور اتراکھنڈ میں بڑے پیمانے پر بارش کی توقع ظاہر کی ہے۔ادھرجموں و کشمیر میں ریاسی میں سب سے زیادہ بارش 119.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جب کہ قاضی گنڈ وادی کشمیر کا سب سے زیادہ گیلا مقام تھا جس میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 73.3 ملی میٹر بارش ہوئی۔ موسمیاتی مرکز سری نگر کے ذریعے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ریاسی میں 102.5 ملی میٹر، کٹرہ میں 97.4 ملی میٹر، رام بن اکھرال میں 71.5 ملی میٹر، جموں بکور میں 71 ملی میٹر، جموں میں 60.6 ملی میٹر، بٹوٹ میں 60.4 ملی میٹر، پہلگام میں 60.2 ملی میٹر، رام بن اور بانہال میں 53 ملی میٹر، کوکرنا گ میں 49 ملی میٹر ، راجوری 36 ملی میٹر، امرناتھ گھپا 32 ملی میٹر، بارہمولہ 30.5 ملی میٹر اور پونچھ 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اوڑی اور جموں میں پانی کے ریلے
خاتون سمیت3کو بچا لیا گیا
خاتون سمیت3کو بچا لیا گیا
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// بارہمولہ ضلع کے بونیار کے مایاں لچھی پورہ علاقے میں جمعرات کو بادل پھٹنے سے سیلاب آنے کے بعد ایک خاتون کو بچا لیا گیا، ۔ حکام نے بتایا کہ بادل پھٹنے سے مقامی ندی میں پانی اور ملبے کا اچانک اضافہ ہوا، جس سے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام نے بتایا کہ تحصیلدار بونیار، ایس ڈی پی او اڑی اور ایس ایچ او بجہامہ نے امدادی ٹیموں کے ساتھ موقع پر پہنچ کر خاتون کو بحفاظت باہر نکالا، جو سیلاب کی وجہ سے اپنے گھر میں پھنس گئی تھی۔ادھر اسی طرح کے مربوط ریسکیو آپریشن میں، جموں پولیس نے جمعرات کو پانی کی سطح میں اچانک اضافہ کے بعد پرمبلی، پھلیان منڈل کے قریب دریائے توی میں پھنسے دو افراد کو کامیابی کے ساتھ بچایا۔بازیاب کرائے گئے افراد کی شناخت 25 سالہ فرمان علی ساکن الورہ اور 28 سالہ فاروق احمد ساکنہ سوہنجانہ کے طور پر ہوئی ہے۔ایک پولیس اہلکار کے مطابق، دونوں صبح کے وقت اپنے مویشیوں کے ساتھ دریا کے قریب چرنے کے لیے گئے ہوئے تھے کہ پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی، جس سے وہ دریا کے بیچ میں پھنس گئے۔
جموں سرینگر قومی شاہراہ دوسرے روز بھی بند
ناشری سے بانہال تک 10مقامات پر پسیاں گریں
ناشری سے بانہال تک 10مقامات پر پسیاں گریں
محمد تسکین
بانہال//گزشتہ تین روز سے جاری موسلادھار بارشوں کے باعث جموں سرینگر قومی شاہراہ جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند رہی ۔ ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ناشری ٹنل سے لے کر بانہال تک کم از کم ایک درجن مقامات پر بھاری پسیاں اور پتھر گرآئے، جس کے باعث شاہراہ بری طرح متاثر ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بحالی کا کام مسلسل جاری ہے، تاہم وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں اور پتھروں کے گرنے کا سلسلہ رکاوٹ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ مقامات میں رام بن کے نزدیک مہاڑ اور کیلا موڑ کے کٹ اینڈ کور ٹنلیں، سمرولی، ترشول موڑ، سیری، منکی موڑ، بیٹری چشمہ، ماروگ، انوکھی فال اور ہنگنی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھارپورہ بانہال سے شیر بی بی تک تقریبا ًنو کلومیٹر طویل شاہراہ کاایک ٹیوب بھی ملبہ گرنے کے باعث بند ہے۔ ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ ایس ایس پی اور ایس ایس پی ٹریفک کے ہمراہ شاہراہ کی بحالی کی نگرانی کر رہے ہیں اور شاہراہ کے متعدد متاثرہ مقامات کو صاف کیا جا چکا ہے جبکہ باقی مقامات پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل پتھر گرنے کے خطرے کے باعث موسم میں بہتری کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔