جموں// پنتھرس پارٹی کے بانی نے بٹھندی جموں میں نوجوان کی ہلاکت کو قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔نیشنل پنتھرس پارٹی کے بانی اور سٹیٹ لیگل کمیٹی کے سربراہ پروفیسر بھیم سنگھ نے نوجوان کی ہلاکت کو افسوسناک واقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کی جانی چاہیے ۔ جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ اور سٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایگزیکٹیو چیئرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے گورنر پرزور دیا ہے کہ موجودہ جج کے ذریعہ اس معاملہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری کرائی جائے تاکہ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کے سامنے مارے گئے نوجوان کے قاتلوں کاپتہ لگایاجاسکے۔ بھیم سنگھ نے کہاکہ ریاستی لیگل ایڈ کمیٹی نے اس حوالہ سے جوثبوت وشواہدجمع کئے ہیں اس سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ نوجوان سعید مرفاد شاہ کو بغیر کسی وجہ کے مارا گیا ہے۔ کمیٹی چیئرمین نے کئی سوالات بھی اٹھائے ہیں اور ان کا جواب طلب کرتے ہوئے کہاکہ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کاگیٹ کسی ایک فرد یا گاڑی سے کھل ہی نہیں سکتا، مقتول نوجوان کے پاس کوئی بھی ہتھیار وغیرہ نہ تھا۔ حقائق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ منصوبہ بند قتل ہے۔ بھیم سنگھ نے کہاکہ اگر جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرا اس میں آزاد انہ انکوائری کرانے میں ناکام رہے تو سٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔یاد رہے کہ سنیچر یعنی4اگست کی صبح سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ کی رہائش گاہ واقع بٹھنڈی جموں میں میں سی آر پی ایف نے مبینہ طورپر ایک غیرمسلح نوجوان کو اپنی کار سمیت اندرگھسنے کے الزام میں گولی مار کر ہلاک کر دیاتھا