جموں// مختلف ایسوسی ایشن سے وابستہ آل جموںوکشمیر جونیئر انجینئرزنے انجینئر سچن تکو کی سربراہی میں کمشنرسیکرٹری پاورڈیولپمنٹ سے ملاقات کی اور جونیئرانجینئروں کو درپیش مسائل کو زیربحث لاکر ان کے فوری ازالہ کی اپیل کی ۔ اس موقعہ پراعجاز کاظمی جنرل سیکرٹری پی پی ای یو کے علاوہ سنجیو بالی ایسوسی ایشن کے صدر بھی موجو دتھے۔ جونیئر انجینئر وں کودرپیش مسائل پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے تکو نے کئی دیگرمدعے اٹھائے۔اس دوران تکونے کہاہے کہ جونیئرانجینئر دراصل انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن بدقسمتی کا مقام یہ ہے کہ اس طبقہ کے ساتھ امتیازی سلوک برتاؤ کیاجارہا ہے اورمحکمہ فائنانس اس طبقہ کے ساتھ غیرمناسب رویہ رکھے ہوئے ہے۔ انہوںنے تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ برسراقتدار کے دور ذمہ دار انتظامیہ نے ان کی تنخواہوںمیں تفاوت کودورکرنے کے بجائے اورکئی اڑچنیںپیدا کئے ہیں اور گزشتہ9برسوں سے مسلسل محکمہ فائنانس نے معاملہ ہی زیرالتوا میںرکھا ہے جوکہ باعث تشویش کا شدید تنقید کاحامل ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ جونیئر انجینئروں کو پورے مہینے بھرمیں سفر کا خرچہ صرف 30 روپے د یئے جاتے ہیںجو بہت ہی قلیل اورکم ہے اوران ہی 30 روپے میں انہیںکاموں جائزہ اور معائنہ کرانا وغیرہ شامل ہیں ۔علاوہ ازیں انہیں رسائی خدمات کیلئے چھٹیا ں وغیرہ بھی نہیں مل پاتی ہے اور سال کے 366دنوںمیں 365 دن کی ان کی حاضری کو یقینی بنانا ضروری بن جاتا ہے۔لہذاورک کلچر کے حساب سے جونیئر انجینئرز انتظامیہ کی ریڑ ھ کی ہڈی ہے لہذا اس طبقہ کے ساتھ امتیازی سلوک کو فوری طورپر بند کیاجائے اور غیر مستقل انجینئروں کو بھی مستقل کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے تکو نے کہا ہے کہ تجربہ کار اوربہترین خدمات سرانجام دینے والے انجینئروں کی ہی ترجیحات بنیادوں پر تقرری کی جانی چاہیئے۔