واشنگٹن //امریکی انتظامیہ پاکستان اور افغانستان کے لئے اپنی نئی پالیسی کا اعلان جلد کرنے والی ہے تا کہ جنوبی ایشیاء کے مسائل کو حل کرنے کے لئے زیادہ موثر حکمت عملی بنا ئی جا ئے۔ ایک طرف امریکہ پھر سے ہزاروں فوجی افغانستان بھیج رہا ہے تا کہ وہاں داعش اور القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائی میں تیزی لائی جا ئے۔دوسری طرف پاکستان کو بھی دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لئے تعاون دیا جا ئے گا ۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آرمس میک ماسٹر نے کہا کہ ایک ا یسی پالیسی بنا ئی جا رہی ہے جس کا اطلاق پاکستان اور افغانستان دونوں پر کیا جا سکے گا ۔ اگلے چند ہفتوں کے دوارن ہمارے پاس افغانستان ،پاکستان اور خطے کے مسائل کے حل کے لئے کہیں زیادہ موثر حکمت عملی موجود ہوگی ۔ اس سلسلے میں مزید فوجی کمک بھیجنے پر بھی غو ر کیا جا رہا ہے چونکہ امریکہ صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب روانہ ہورہے ہیں۔ وہاں وہ شاہ سلمان کے علاوہ مختلف مسلم رہنمائوں کے ساتھ انسداد ہشت گردی پالیسی پر بھی تفصیلی بات چیت کریں گے۔ پاکستان کے وزیراعظم کو بھی اس سلسلے میں سعودی عرب سے ٹرمپ سے ملاقات کرنے کے لئے جا ئیں گے۔ قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ صدر ٹرمپ روم میں نیٹو اجلاس میں اپنے اتحادیوں کو نئے افغان پالیسی سے آگاہ کریں گے۔ اس کے علاوہ داعش اور القاعدہ سے نمٹنے کے لئے پلان کے بارے میں روشنی ڈالیں گے ۔ مسٹر میک ماسٹر نے کہا کہ اکثر مسلم ممالک بنیاد پرستی کے خلاف ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان کے اورافغانستان کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوگئے ہیں دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کو بڑھا وا دیتے ہیں۔ اور ا سکے نتیجے میں کئی بار سرحد بھی بند کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوںکو اپنے گھر واپس جانے میں مشکلات پیدا ہوئے۔ حال ہی میں پاکستان کے کئی شہروں میں دہشت گردی کے جو واقعات پیش آئے اس کے بارے میں اسلام آباد نے کہا کہ یہ جنگجو سرحد پار کرکے آئے افغانستان کے صدر اشرف غنی کو بھی یہی گلا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کرتے اور اس لئے انہوں نے یہ اعیادہ کیا وہ تب تک پاکستان نہیں جا ئیں گے جب تک کہ وہ اپنے جنگجوٹھکانوں کو بند نہیں کریں گے۔