نئی دہلی//مرکزی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جموں کشمیر سمیت ملک کی 14ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں پرندوں اور پولٹری میں برڈ فلو پایا گیا ہے ۔ جموں کشمیر میں اگرچہ پہلے ہی مقامی سطح پر اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ کئی اضلاع میں پولٹری اور مقامی پرندوں بشمول کوئوں میں برڈ فلو پایا گیا ہے تاہم اب مرکزی وزارت برائے پشو پالن ، ماہی گیری اور ڈیری ڈاکٹر سنجیو کمار بلیان نے راجیہ سبھا میں بیان دے کر صاف کر دیا ہے کہ جموں کشمیر کے کولگام، اننت ناگ ، بڈگام ، پلوامہ ، بارہمولہ اور اودھمپور میں پرندوں کے علاوہ پولٹری میں بھی برڈ فلو پایا گیا ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اب تک سینکڑوں کوئوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ ہریانہ ، پنجاب ، کریلا، بہار ، راجستھان، ہماچل پردیش اور نئی دلی میں بھی پولٹری اور پرندوں میں فلو پایا گیا ہے ۔راجہ سبھا ممبر آنند شرما کے سوالوں کے جواب میں بلیان نے کہا کہ موسم سرما کے دوران مہاجر پرندوں کی آمد کے سبب سردیوں کے آغاز سے قبل پولٹری فارموں میں نگرانی اور بائیو سکیورٹی بڑھانے کے لئے ریاستوں / ریاستوں کی حکومتوں کو مشورے جاری کئے گئے تھے۔ ریاستوں اور یوٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ آبی پناہ گاہوں زندہ پرندوں کی منڈیاں ، چڑیا گھر ، پولٹری فارموں وغیرہ کے آس پاس نگرانی میں اضافہ کریں ، اورمردہ پرندوں کی لاشوں کی مناسب تلفی ، پولٹری فارموں اور اس کے آس پاس کے جیو سیکیورٹی کو مضبوط بنائیں، پولٹری کی نقل و حرکت کو محدود رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات کی روزانہ پیشرفت کی نگرانی کے لئے سنٹرل کنٹرول روم قائم کرنے کو بھی کہا گیا تھا۔ ریاستوں اور ریاستوں کی حکومتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بیماری سے بچنے کے لئے متعلقہ حکام کے ساتھ موثر رابطے اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں۔ انسانوں میں اس بیماری کے لگنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔معلوم رہے کہ اس سے قبل مقامی سطح پر حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جموں کے اودھمپور میں پولٹری اور کشمیر کے باقی اضلاع میں مہاجر پرندوں اور کوئوں میں فلو کی تصدیق ہوئی ہے ۔