سرینگر //مرکزی سرکار نے جموں و کشمیر میں 60آیوش ویلنس سینٹر قائم کرنے کو منظوری دی ہے اوران آیوش ویلسنس سینٹروں پر کام 31مارچ تک مکمل ہوجائے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ آیوش ویلنس سینٹر وہ آیورویدک طبی مراکز ہیں جہاں غریب مریضوں کو یونانی طرز علاج اور ادویات مفت فراہم کی جاتی تھیں لیکن اب ان سینٹروں کوپورے ملک میں فٹنس سینٹروں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ڈویژنل نوڈل آفیسر آیوش ویلنس سینٹر ڈاکٹر مشتاق احمد پرے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ’’ مرکزی سرکار نے پورے ملک میں 2023تک 12ہزار 500آیوش یونیٹوں کو ویلنس سینٹروں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں جموں و کشمیر میں موجود 500آیوش یونٹوں کو ویلنس سینٹروں میں تبدیل کیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ سال ہم نے 31آیوش یونیٹوں کو ویلنس سینٹروں میںتبدیل کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان ویلنس سینٹروں میں مریضوں کوصحت مند رکھنے کی تمام ترسہولیات دستیاب ہونگی جن میںجسمانی ورزش کرنے کیلئے جم،مفت ادویات کی فراہمی،جڑی بوٹیوں کی کیاریاں (Herbal garden (اورعلاج و معالجہ کیلئے طبی عملہ اور آشا ورکروں کی خدمات بھی دستیاب رہینگی‘‘۔ انہوں نے کہا’’یہ آشا ورکر گھر گھر جاکر علاقوں میں ذیابطیس ، تھائرائیڈ اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے متعلق اعداد و شمار جمع کریں گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سروے مکمل کرنے کے بعد ان مریضوں کو بیماریاں قابو کرنے کے طریقے سکھائے جائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ پروگرام کے مطابق نزدیک کے پرائمری،مڈل اور ہائی سکولوں میں بھی جڑی بوٹیوں کی کیاریوں کے باغوں کاقیام عمل میں لایا جائے گا جہاں بچوں کو ایسے تمام پودوں اور جڑی بوٹیوں کی جانکاری دی جائے گی جو ادویات بنانے کے کام آتے ہیں‘‘۔ انڈین سسٹم آف میڈیسن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر موہن سنگھ نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا ’’مرکزی سرکار نے امسال 60ویلنس سینٹروں کے قیام کو منظوری دی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ 31مارچ تک ہم مزید 60 ویلنس سینٹر قائم کرنے میں کامیاب ہونگے‘‘۔ ڈاکٹر موہن سنگھ نے کہا کہ’’ ہم نے مزید 123ویلنس سینٹر کا قیام عمل میں لانے کیلئے مرکزی سرکار کو منصوبہ بھیجا ہے اوراُ مید ہے کہ منظوری کے بعد آئندہ سال مزید 123ویلنس سینٹر قائم ہونگے‘۔