سرینگر //جموں وکشمیر میں 12ہزار گلیشئروں کے پاس بنی جھیلوں کی نگرانی پرحکام کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کیونکہ تحقیق کے دوران ماہرین نے پایا ہے کہ یہاں سینکڑوں ایسی جھیلیں بنی ہیں ۔ ماہرین نے جموں وکشمیر حکام کو مشورہ دیا کہ وہ گلیشروں کے پاس بنی نئی جھیلوں پر سیلاب کے خطرہ کو ٹالنے کیلئے دھیان دیں او ر ان کی وقت وقت پر نگرانی کریں ۔ کشمیر یونیوسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ پروفیسر شکیل رامشو نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’’ماحولیات تبدیل ہونے اور درجہ حرارت میں اضافہ کے بعدگلیشروں میں جب پانی کا زیادہ دبائو بڑھتا ہے تو یہ پھٹ جاتے ہیں اور پانی سے جھیل بن جاتی ہے اور جب یہ جھیل ٹوٹ جاتی ہے تو اس کو ہم گلاف کہتے ہیں اور اسی سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ اترکھنڈ میں سیلاب کیسے آیا اور جھیل کیسے ٹوٹ گئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جب وہاں برفانی تودہ گر آیا تو وہ جھیل کا بندھ ٹوٹ گیا اور جتنا بھی پانی تھا وہ نیچے آگیا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت برفانی جھیلیں خطرناک حد تک پھیل رہی ہیں اور بہت ساری نئی جھلیں بن گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان میں پانی کی سطح ایک خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہے تو وہ پھٹ جاتی ہیں اور انسانی آبادیوں اور انفراسٹرکچر کو بہا لے جاتی ہیں، ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔انہوں نے جموں وکشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر خدانخواستہ امر ناتھ کے قریب کوئی جھیل گلیشر کے پاس بنی گئی تو اس کے ٹوٹنے سے بھی پانی کافی تیزی سے نیچے آسکتا ہے ۔رامشو نے کہا ’’ ہم نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق جموں وکشمیر میں 12ہزار گلیشر ہیں جن کے ساتھ چھوٹے چھوٹے جھیل بن گئے ہیں، لیکن اس سے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ کشمیر میں جھیلوں کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہیں، البتہ چناب خطہ ،جہاں پر کافی تعداد میں پروجیکٹ تعمیرہو رہے ہیں اور زنسکار اور لداخ میں گلیشروں کے پاس کافی جھیل بنیں ہیں اور ان کا خطرہ کسی حد تک ہو سکتا ہے۔جموں وکشمیر ڈزاسٹر منیجمنٹ کے ڈائریکٹر عامر علی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پہاڑی اور اوپری علاقوں میں لینڈ سلائڈ اور برفانی تودوں کے آنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے، البتہ سونہ مرگ، ڈوڈہ ،کشتواڑ اور لداخ کے کچھ ایک علاقوں میں اس کے خطرات موجود ہیں ۔عامر علی نے کہا کہ اگر کسی اونچی جگہ پر نالہ معمول کی طرح بہتا ہو اور اچانک اس میں دو سے تین روز تک پانی بند ہو جائے تو وہاں اس کی علامت ہو سکتی ہیں تاہم یہاں ایسا کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے ۔