آخری رسوم میںمحبوبہ مفتی، دیوندر سنگھ رانا ، تاریگامی اور سینکڑوں سیاسی و سماجی شخصیات شریک
جموں //جموں و کشمیر آئین ساز اسمبلی کے واحد زندہ اور آخری رکن کرشن دیو سیٹھی جمعرات کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر فوت ہوئے ۔وہ 93برس کے تھے ۔ آنجہانی کے موت کی خبرصبح سویرے ان کے رشتہ داروں نے سوشل میڈیا پر دی جس کے ساتھ ہی جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ میر پور (مظفر آباد)کے مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے میر پورہ میں 30نومبر 1927کو جنم لینے والے کرشن دیو سیٹھی نے طویل علالت کے بعد جمعرات کی صبح 4بجے آخری ہچکی لی ۔انہوں نے اپنے پیچھے اہلیہ کانتا سیٹھی ،بیٹا انشل سیٹھی جو کہ جموں و کشمیر حکومت میں محکمہ قانون کے سیکریٹری ہیں اور بیٹی ڈاکٹر پونم سیٹھی کو چھوڑا۔بعد میں ان کی آخری رسومات جوگی گیٹ جموں میں انجام دی گئی جس میںسابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ،نیشنل کانفرنس صوبائی صدر دویندر سنگھ رانا ،سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی ،بی جے پی جموں کشمیرکے صدر رویندر رینہ،جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کے علاوہ مختلف سیاسی ،سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد کے علاوہ سابق ججوں ،وکلاء ،صحافیوں اور دیگر مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔کامریڈ سیٹھی نے 1947-48میں میر پور سے کنبے کے ہمراہ جموں ہجرت کی تھی اور جموں کے محلہ دلپتیاں میں سکونت اختیار کی۔
کرشن دیو سیٹھی تقسیم بر صغیر سے لے کر جموں کشمیر میں مسلح جد و جہد کے آغاز تک تمام اتار چڑھاؤ دیکھ چکے ۔1949 میں جب نیشنل کانفرنس کی جموں اکائی قائم ہوئی تو سیٹھی کو اس کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا تھا۔1951میں وہ پہلی آئین ساز اسمبلی کے رکن بنے۔انہوں نے 1940 میں بارہمولہ میں نیشنل کانفرنس کے پہلے سالانہ اجلاس میں بھی حصہ لیا تھا۔سیٹھی نے غلام محمد صادق، سید میر قاسم، ڈی پی دھر، گردھاری لال ڈوگرہ کے ساتھ مل کر1953میں ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس بنائی جو21ممبران کے ساتھ اسمبلی کی پہلی اپوزیشن پارٹی بنی۔بعد میں غلام محمد صادق، میر قاسم، ماسٹر ڈوگرہ اور کئی دیگر لیڈر بخشی کی قیادت والی نیشنل کانفرنس میں دوبارہ شامل ہو گئے اور پھرسیٹھی نے کیمونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ سیٹھی’’کشمیر چھوڑ دو ‘ تحریک میں متعدد مرتبہ گرفتار ہوئے اور تقریبا 2سال جیل میں گذارے ۔ 1975 میں جب شیخ محمد عبداللہ اقتدار میں واپس آئے ، تو سیٹھی نے اس حکومت میں شامل ہونے کی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔1960میںہند چین جنگ کے دوران سیٹھی زیر زمین چلے گئے۔وہ کمیونسٹ نظریہ سے زیادہ مائل تھے۔ وہ علم کا مظہر تھے اور انہیں جموں و کشمیر کی زندہ تاریخ سمجھا جاتا تھا جو معاشرے میں اتحاد اور بھائی چارے کے لئے کھڑا تھا۔1947 میں ہندوپاک تقسیم کے دوران سیٹھی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور جموں سے مسلمانوں کی ہجرت کی مخالفت کی۔انہوں نے فارسی زبان میں ماسڑس ڈگری کی تھی اور شروع میں انہوں نے اردو اخبار ’جد و جہد ‘ میں مضامین لکھے جبکہ وہ بہترین مقرر اور ادیب بھی تھے۔ انکا ہفتہ وار کالم پر مغز ہوتا تھا ،جسے انہوں نے اپنے زندگی کے آخری پڑائو تک لکھا۔
وہ جموں و کشمیر میں اردو زبان کے دیرینہ محبوں اور بہی خواہوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے آخری سانس تک اس زبان کی خدمت کی اور اسکی شمع کو فروزان رکھنے کی جدوجہد کی۔کامریڈ کرشن دیو سیٹھی کے ہفتہ وار کالم روز نامہ ’کشمیر عظمی ‘میں متواترطورشائع ہوتے تھے ۔مرحوم سوشل میڈیا پر بھی سرگرم رہتے تھے جہاں وہ اکثر اخبارات پڑھنے کی اپنی بیشتر تصاویر شائع کرتے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مرتے دم تک دنیا کے حالات و واقعات پر نظررکھتے تھے۔اردو زبان میں سیٹھی کی ’’ یادِرفتہ ‘‘ جموں و کشمیر کی ہم عصر سیاست پر ایک مستند دستاویز ہے اور اس کی دو جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔اسے ہر صبح اخبارات پڑھنے اور جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرنے کا شوق تھا۔ ممتاز صحافی اور مصنف سید حسین ملک کے مطابق کرمریڈ سیٹھی نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ لائن آف کنٹرول کے اس پار میر پورکے علاوہ پنجاب اور ہریانہ ریاستوںمیںمقبول کمیونسٹ رہنما تھے۔سیٹھی دانشور اور اسکالر وید پال دیپ جی کے ساتھ ساتھ لو پیڈ ایمپلائز صدر عبدالمجید خان کے قریبی ساتھی تھے۔ سیٹھی کی کشمیر ٹائمز کے بانی ایڈیٹر وید بھسین ، اوم صراف ، بلراج پوری اور دیگر لوگوں سے دوستی تھی جو سوشلزم کے لئے کام کرتے تھے اور جموں و کشمیر میں امن کو فروغ دینے والے فرقہ واریت کا مقابلہ کرتے تھے۔سیٹھی بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر پر بات چیت کی بھرپور حمایت کرتے تھے ۔