عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر پانی کے معیار کے قومی اشاریے میں ملک کے بدترین کارکردگی والے چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شامل ہو گیا ہے، جہاں اس کی درجہ بندی 36 میں سے 31ویں نمبر پر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر اس خطے کے لیے جو ہمالیائی آبی وسائل سے مالا مال سمجھا جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کو پانی کے معیار کے اشاریے میں صرف 62 فیصد اسکور حاصل ہوا، جو واضح طور پر گرتے ہوئے ماحولیاتی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فہرست میں لداخ،دادر اینڈ نگر حویلی،دمن و دیو،مہاراشٹرا،اتر پردیش اور دہلی جیسے خطے بھی نچلے درجوں میں شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ درجہ بندی اس بات کا اشارہ ہے کہ مسئلہ صرف صاف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں رہا بلکہ خود پانی کے بنیادی ذرائع — دریا، جھیلیں اور چشمے تیزی سے آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔
سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں کم از کم آٹھ آبی ذخائر کو آلودہ قرار دیا گیا ہے، جن میں دریائے جہلم کے کئی حصے شامل ہیں۔ سری نگر کے علاقے چونٹ کول میں بایولوجیکل آکسیجن ڈیمانڈ 11.2 ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ جہلم کے ایک حصے میں یہ شرح 7.8 ملی گرام فی لیٹر ہے، جو شدید آلودگی کی علامت ہے۔ماہرین کے مطابق نہانے کے قابل پانی کے لیے ’بی ائو ڈی‘کی حد 3 ملی گرام فی لیٹر سے کم ہونی چاہیے، جبکہ پینے کے پانی کے لیے یہ 2 ملی گرام فی لیٹر سے بھی کم ہونی چاہیے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سری نگر میں روزانہ 163 ملین لیٹر سیوریج پیدا ہوتا ہے، جبکہ اس کی صفائی کی صلاحیت محض 60 ملین لیٹر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 63 فیصد گندا پانی بغیر صفائی کے براہ راست آبی ذخائر میں شامل ہو جاتا ہے۔