سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر میں جاری طویل خشک سردی نے موسمی تبدیلی کے سنگین اثرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ بالائی علاقوں میں دسمبر کے وسط تک برف باری نہ ہونا اور میدانی علاقوں میں بارش کی شدید کمی نے عام زندگی، زراعت اور ماحولیات پر منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین ماحولیات اس غیر معمولی موسمی صورتحال کو عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کا براہِ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں شدید آبی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو) راجوری کے سینٹر فار بایو ڈائیورسٹی سٹیڈیز کے ڈائریکٹر اِنچارج اور ماہرِ حیاتیاتی تنوع ڈاکٹر شری کانت پنت نے اس صورتحال کو ’انتہائی تشویشناک‘‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں میں دسمبر تک برف باری بالکل نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ہمالیائی سلسلے شمالی بھارت کے لئے قدرتی ’واٹر ٹاورز‘ کا کردار ادا کرتے ہیں اور برف باری نہ ہونے کی صورت میں دریاؤں، ندی نالوں اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر برا اثر پڑے گا۔ڈاکٹر پنت نے کہاکہ ’اونچائی والے علاقوں میں برف باری کی کمی موسمی پیٹرن میں بڑی تبدیلی کی واضح علامت ہے۔ اس سے نہ صرف ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہوگا بلکہ انسانی روزگار اور زرعی معیشت بھی شدید دباؤ میں آ جائے گی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں چند مواقع پر نومبر تک برف باری نہ ہونے کی مثالیں ضرور ملتی ہیں، مگر اس سال خشک موسم کا غیر معمولی طور پر طویل ہونا انسانی زندگی اور پودوں دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل نومبر کے مہینے میں خوبانی جیسے درختوں میں بے موسم شگوفے آنا بھی ریکارڈ کیا گیا تھا، جو موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی حدت کا واضح ثبوت ہے۔پیر پنجال پہاڑی سلسلے کے قریب رہنے والے لوگ بھی برف باری کی عدم موجودگی پر افسردہ ہیں۔ راجوری ضلع کی کوٹرنکہ تحصیل کے گاؤں دھار ساکری کے رہائشی کالا رام نے کہاکہ ’یہ سچ ہے کہ برف باری کے بعد شدید سردی سے نمٹنے کے لئے اضافی انتظامات کرنے پڑتے ہیں، لیکن برف باری موسم کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ درجہ حرارت کو متوازن رکھتی ہے، آبی ذخائر کو ری چارج کرتی ہے اور مجموعی ماحول کو بہتر بناتی ہے۔ اس سال جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ غیر معمولی ہے‘۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس خشک موسم کا خاتمہ ہو اور انسانیت کو بارش اور برف باری سے نوازا جائے۔جموں و کشمیر حکومت نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر برائے جنگلات، ماحولیات اور ایکولوجی جاوید احمد رانا نے بدلتے موسمی پیٹرن کو اجتماعی تشویش کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسمی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے سماج کے ہر طبقے کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ادھر راجوری، پونچھ اور ریاسی اضلاع میں طویل خشک موسم کے باعث کسان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی نئی بوائی متاثر ہوئی ہے، بیجوں کی اْگاؤ رک گئی ہے اور فصلوں کے ناکام ہونے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے، جس سے زرعی معیشت کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔