وسیع علاقوں کا محاصرہ ،ناکہ بندی اور نگرانی جاری
عاصف بٹ +سمت بھارگو
کشتواڑ +جموں //بدھ کو17روز کے بعد سیکورٹی فورسز کو کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں گھنے جنگلات اور مشکل ترین پہاڑی سلسلے میں چھپے ملی ٹینٹوں کیخلاف پہلی کامیابی ملی جب فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملی ٹینٹ کو مارا گیا۔ادھر ادہم پور میں منگل سے جاری آپریشن میں 2ملی ٹینٹ ہلاک کئے گئے۔ کشتواڑ ضلع کے چھاترو علاقے میں ڈولگام دیچھر میں بدھ کو تلاشی آپریشن جاری رہا۔ شام پونے 5بجے پولیس ، فوج اور سی آر پی ایف کے جوانوں کیساتھ گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں ایک عادم شناخت ملی ٹینٹ ماررا گیا۔جس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ جیش کا پاکستانی ملی ٹینٹ ہے۔چھاترو کشتواڑ علاقے میں16روز قبل ملی ٹینٹوں کے ایک گروپ کی موجودگی سے متعلق مخصوص انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد سیکورٹی فورسز کے ذریعہ شروع کی گئی تلاشی مہم دھ کو 17ویں روز بھی جاری رہی۔بدھ کو شام کے وقت فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا، جس میں ایک ملی ٹینٹ کو بے اثر کر دیا گیا ، اور گھیرا مضبوط کرنے کے لیے اضافی فورسز کو موقع پر پہنچا دیا گیا ہے، آپریشن ابھی بھی جاری ہے،” ۔
ادہم پور
ادھم پور ضلع میں بسنت گڑھ کے جوفر جنگلاتی علاقے میں آپریشن ’ کیا‘ کو کامیابی کے ساتھ انجام دیتے ہوئے فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیموں کے ذریعے شروع کیے گئے ایک مربوط آپریشن میں2ملی ٹینٹ مارے گئے۔حکام کا کہنا تھا کہ ملی ٹینٹوں کیساتھ منگل کو بسنت گڑھ علاقے میں آمنا سامنا ہوا تھا جس کے بعد ملی ٹینٹ فرار ہوئے۔لیکن ڈرون کی مدد سے ملی ٹینٹوں کو ایک غار نما ہائیڈ اوٹ میں دیکھا گیا جس کے بعد بدھ کی صبح “ایک کیلیبریٹیڈ اور مربوط کارروائی کے بعد، دو ملی ٹینٹوںکو کامیابی کے ساتھ بے اثر کر دیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا۔ تاہم علاقے کی نگرانی جاری ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، وائٹ نائٹ کور نے لکھا، “آپریشن جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے فراہم کردہ مخصوص انٹیلی جنس ان پٹ کی بنیاد پر، CIF ڈیلٹا کے دستوں نے، جوفر فاریسٹ، بسنت گڑھ میں مشتر منصوبہ بندی کی اور آپریشن انجام دیا۔”
ملی ٹینٹ کہاں سے آئے:عمرعبداللہ
عظمیٰ نیوز سروس
جموں //وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ 2019کے بعد ملی ٹینسی کا سلسل بند ہونے کے دعویٰ کیا گیا تھا لیکن اب 6سال کا عرصہ گذر گیا لیکن ملی ٹینسی بند نہیں ہورہی ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر نے ادہم پور تصادم کے بارے میں کہا ’’ملی ٹینٹ آئے کہاں سے،ادہم پور پہنچے کیسے،کب سے تھے وہاں پر، ان چیزوں کا کہیں نہ کہیں تو ہمیں جواب ملنا چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ کب تک سلسلہ رہے گا، کیونک ہمیں تو کہا گیا تھا کہ 2019کے بعد یہ سلسلہ بند ہوجائے گا، لیکن اب 2026 شروع ہوا ہے، ابھی بند نہیں ہورہا، الٹا وہ علاقے جو 2014-15سے پہلے پوری طرح سے ملی ٹینٹوں سے صاف تھے، وہاں یہ واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیر داخلہ امیت شاہ سے انکے دورے کے دوران ملاقات کرنے والے ہیں۔