کھاد اور نمک چھڑک کر درماندہ ٹریفک کو ترجیحی بنیادوںپر نکالاجارہا ہے:حکام
محمد تسکین
بانہال// جمعہ کی صبح سے ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بند جموں ۔ سرینگر قومی شاہراہ ہفتہ کو دوسرے روز بھی مجموعی طور پر بند رہی تاہم سہ پہر تین چار بجے سے بانہال اور ناشری ٹنل کے درمیان درماندہ مسافر گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر نکالنے کا عمل شام تک جاری تھا ۔ رامسو اور نویگہ ٹنل کے درمیان کئی مقامات پر سڑک پر شدید پھسلن کے باعث بڑی گاڑیوں کی نقل و حرکت دشوار رہی جس کی وجہ سے انہیں مختلف مقامات پر روک دیا گیا ہے۔برفباری کے باعث ضلع رام بن میں جمعہ کی صبح سے قریب 900مال بردار اور مسافر گاڑیاں درماندہ ہو گئی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کچھ مسافر گاڑیوں، ٹرکوں اور ٹینکروں کو نکال لیا گیا ہے اور پھنسے ہوئے ٹریفک کو مکمل طور پر نکالنے کے بعد ہی شاہراہ پر معمول کے ٹریفک کو بحال کیا جائے گا ۔اس سلسلے میں ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائی وے بانہال سریندر پال سنگھ نے بتایا کہ شاہراہ سے برف ہٹانے اور اسے مکمل طور پر بحال کرنے کا کام جاری ہے جبکہ ناشری ٹنل سے بانہال ٹنل کے درمیان پھنسے ٹریفک کو ترجیحی بنیادوں پر نکالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رامسو اور بانہال سیکٹر میں بعض مقامات پر شاہراہ پھسلن کا شکار ہے جسے ختم کرنے کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے اہلکار سڑک پر نمک اور یوریا کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک تمام درماندہ گاڑیاں نہیں نکالی جاتی ہیں تب تک سرینگر یا جموں سے کسی بھی قسم کے تازہ ٹریفک کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس دوران ڈپٹی کمشنر رامبن محمد الیاس خان، ایس ایس پی رام بن ارون گپتا اور ایس ایس پی ٹریفک راجہ عادل حمید نے ناشری اور بانہال کے درمیان شاہراہ کا معائنہ کیا اور بانہال میں مقامی لوگوں سے ملاقات بھی کی۔