عظمیٰ نیوزسروس
جموں //جموں ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر دیویندر یادو نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جموں ایئرپورٹ نے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، مسافروں کی سہولیات، فضائی رابطے، سکیورٹی نظام اور کارگو خدمات کے شعبوں میں نمایاں ترقی اور جدید کاری دیکھی ہے۔ہفتہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ زیر تعمیر نئے ٹرمینل کی عمارت کا تقریباً 60فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ اسے رواں سال کے اختتام تک عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ نئے ٹرمینل کے فعال ہونے کے بعد ہوائی اڈے کی مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت تقریباً دوگنی ہو جائے گی اور سالانہ تقریباً 50 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ایئرپورٹس اتھارٹی (اے اے آئی) اور بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) کے مشترکہ انتظام میں چلنے والاجموں ہوائی اڈہ شمالی ہند کے اہم اسٹریٹجک ہوائی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ 15جون کو یہاں ’’یاتری سہولت دیوس‘‘ منایا جائے گا جس کے تحت مسافروں کی سہولت، سماجی بہبود اور کمیونٹی رابطہ پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔دیویندر یادو کے مطابق 2014میں جموں ایئرپورٹ سالانہ 10لاکھ مسافروں کی گنجائش رکھتا تھا، جو اب بڑھ کر 26لاکھ مسافروں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمینل کا رقبہ 7ہزار مربع میٹر سے بڑھا کر 14ہزار 500مربع میٹر کر دیا گیا ہے، جبکہ نیا ٹرمینل مکمل ہونے کے بعد مجموعی رقبہ تقریباً 40ہزار مربع میٹر تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ایئرکرافٹ پارکنگ اسٹینڈز کی تعداد سات سے بڑھا کر 13کر دی گئی ہے، جو ایئربس اے-321طرز کے طیاروں کے لیے موزوں ہیں۔ اسی طرح 2021میں رن وے نمبر 36کی لمبائی میں تقریباً 1300فٹ اضافہ کیا گیا، جس سے بڑے طیاروں کی آمد و رفت ممکن ہوئی اور آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ڈائریکٹر نے کہا کہ کم حدِ نگاہ کے دوران پروازوں کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے لینڈنگ سسٹم کو CAT-I سے CAT-II معیار تک اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2017سے قبل جموں ایئرپورٹ پر کوئی ایرو برج موجود نہیں تھا، تاہم جدید کاری منصوبے کے تحت تین ایرو برج نصب کیے گئے۔ نئے ٹرمینل میں مزید چھ ایرو برج شامل کیے جائیں گے، جس سے مسافروں کی سہولت میں مزید اضافہ ہوگا۔دیویندر یادو نے کہا کہ دیگر اہم ترقیاتی اقدامات میں گھریلو کارگو ٹرمینل کا قیام، ہیلی کاپٹروں کے لیے مخصوص پارکنگ اسٹینڈ اور لنک ٹیکسی وے کی تعمیر، 400کلو واٹ صلاحیت کے روف ٹاپ سولر پاور پلانٹ کی تنصیب اور جدید نگرانی و حفاظتی نظام شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2024میں داخلی دروازے پر انڈر وہیکل سرویلنس سسٹم اور ایئرپورٹ کی حدود میں انٹیگریٹڈ پیری میٹر سکیورٹی سسٹم نصب کیا گیا، جس سے سکیورٹی، نگرانی اور حفاظتی انتظامات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔سالانہ امرناتھ یاترا اور سری نگر ہوائی اڈے کی مجوزہ عارضی بندش کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں دیویندر یادو نے کہا کہ جموں ایئرپورٹ اضافی مسافروں کے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹرمینل کی سالانہ گنجائش 26 لاکھ مسافروں کی ہے جبکہ گزشتہ سال یہاں تقریباً 15 لاکھ مسافروں نے سفر کیا، اس لیے سری نگر ایئرپورٹ کی ممکنہ بندش سے متاثر ہونے والے مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خاطر خواہ اضافی استعداد موجود ہے۔ادھم پور میں مجوزہ سول ہوائی اڈے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ہند کی ’’اُڑان‘‘ اسکیم کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاقائی فضائی رابطے کو فروغ دینا اور عام شہری کے لیے فضائی سفر کو مزید آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ادھم پور ہوائی اڈہ فعال ہونے کے بعد مختلف علاقوں کو فضائی خدمات کے ذریعے جوڑے گا اور جموں و کشمیر میں ہوابازی کے شعبے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔