بیروت//لبنان میں گزشتہ ہفتے ایک خاتون جج نے اْن 3 مسلمان نوجوانوں کے خلاف انوکھی نوعیت کا فیصلہ سنایا جن پر حضرت مریم علیہا السلام کی شان میں گستاخی کا الزام تھا۔ خاتون جج نے نوجوانوں کو جیل بھیجنے کے بجائے قرآن کریم کی اْن آیات کو حفظ کرنے کا حکم دیا جن میں حضرت مریم اور ان کے فرزند حضرت عیسی علیہما السلام کی بزرگی بیان کی گئی ہے۔طرابلس شہر میں خاتون جج جوسلین متی کی جانب سے اس فیصلے کو لبنان میں مثبت نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم سعد حریری نے ٹوئیٹر پر اور سابق وزیراعظم نجیب میقاتی نے فیس بک پر اس فیصلے کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔واضح رہے کہ قرآن کریم میں سورہ آل عمران کی آیت 33 سے آیت 59 تک خاص طور پر حضرت مریم اور مسیح علیہما السلام کا ذکر آیا ہے۔مذکورہ فیصلہ سنانے والی خاتون جج جوسلین متی کا تعلق لبنانی دارالحکومت بیروت سے 37 کلو میٹر شمال میں واقع قصبے "عمشت" سے ہے۔ جوسلین کے سامنے جب "اہانتِ مذاہب" کے تینوں ملزمان کو پیش کیا گیا تو خاتون جج نے نے سب سے بہتر فیصلہ یہ جانا کہ ملزمان سے سورہ آل عمران کی مذکورہ آیات کو حفظ کرنے کا مطالبہ کیا جائے تا کہ وہ حضرت مریم علیہا السلام کے حوالے سے دینِ اسلام کی روادری اور ان سے محبت سیکھیں۔جوسلین متی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "قانون صرف جیل نہیں بلکہ ایک درس گاہ کا نام ہے"۔ اور مذکورہ آیات کو زبانی سنانے سے قبل تینوں نوجوانوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔