محمد تسکین
بانہال // سب ڈویژن رامسو کے دور افتادہ علاقے دردہی میں ایک خراب ٹرانسفارمر کے باعث دردہی وارڈ نمبر 2 گزشتہ تقریباً تین ہفتوں سے مکمل طور پر بجلی سے محروم ہے، جبکہ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ بارہا اطلاع دینے کے باوجود محکمہ بجلی اور ضلعی انتظامیہ نے مسئلہ حل کرنے میں غیر معمولی غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق ٹرانسفارمر خراب ہونے کے باعث ڈیڑھ سو سے زائد گھروں پر مشتمل آبادی گھپ اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ شام ڈھلتے ہی پورا علاقہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے اور لوگوں کو موبائل فون چارج کرنے سمیت روزمرہ ضروریات کے لیے دوسرے دیہات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ تحصیل رامسو کے کھوڑا، دردہی، اہمہ، براڑ گڑی، کچھلہ، باٹسول اور کھلن مرگ جیسے وسیع پہاڑی علاقے آج بھی سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبے میں شدید مشکلات درپیش ہیں ۔ اگرچہ مکرکوٹ۔دردہی سڑک کا ٹینڈر جاری ہو چکا ہے، تاہم فارسٹ کلیئرنس میں تاخیر کے باعث تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا، جس پر مقامی آبادی نے سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔دردہی وارڈ نمبر 2 کے رہائشیوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پوری آبادی کے لیے صرف 63 کلوواٹ کا ایک ٹرانسفارمر نصب کیا گیا ہے، جو ضرورت سے کم صلاحیت کا حامل ہونے کے باعث بار بار خراب ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے تمام صارفین کو سمارٹ میٹر فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے نہ تو اضافی ٹرانسفارمر نصب کیا گیا اور نہ ہی موجودہ ٹرانسفارمر کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے محکمہ بجلی، تحصیل انتظامیہ اور ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین کو متعدد بار آگاہ کیا، لیکن اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کے بل اور دیگر واجبات تو باقاعدگی سے وصول کر رہی ہے، مگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مسلسل ناکامی عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔متاثرہ عوام نے ضلع انتظامیہ، محکمہ بجلی اور رکن اسمبلی بانہال سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خراب ٹرانسفارمر کو فوری تبدیل کیا جائے اور مستقبل میں اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے دردہی وارڈ نمبر 2 میں الگ ٹرانسفارمر نصب کرنے یا موجودہ ٹرانسفارمر کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ لوگوں کو بار بار اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔