جموں// پولیس نے جموں کشمیر کے اکثریتی طبقے کے جذبات مجروح کرنے والے تیسرے مفرور ملزم کو حراست میں لیا ہے۔ پکا ڈنگا پولیس اسٹیشن میں اس معاملے پر کیس درج ہے۔توہین آمیز ریمارکس کیس میں مفرور تیسرے ملزم کو پیر کے روز گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔انسپکٹر جنرل پولیس جموں زون ، مکیش سنگھ نے بتایا’’جموں کے علاقے پکا ڈنگا کا رہائشی روہت شرما تیسرا ملزم ہے جسے گرفتار کیاگیاہے‘‘۔یہ گرفتاری توہین آمیز بیان پر خطہ پیرپنچال اور بانہال میں احتجاجی مظاہروں اور وادی چناب میں بند کے دوران ہوئی ہے۔کل شام آئی جی پی جموں زون ، مکیش سنگھ نے بتایا تھاکہ پولیس نے قابل اعتراض بیان دینے والے ست پال شرما اور دیپک نامی دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔پولیس نے ایف آئی آر نمبر 100 آئی پی سی کی دفعہ 153 اے اور 295 اے کے تحت تین افراد کو گرفتار کیاہے جن پر فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا الزام ہے۔
ڈوڈہ اور کشتواڑ میں کرفیو جیسی صورتحال
خطہ پیر پنچال میں مظاہرے، بانہال اور گول بھی بند
اشتیاق ملک+محمد تسکین
ڈوڈہ // توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے خلاف خطہ چناب اور پیر پنچال میں ہڑتال کے علاوہ احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ ڈوڈہ، بھدرواہ ،ٹھاٹھری و گندوہ میں کاروباری ادارے بند رہے جبکہ ٹریفک کی آمدورفت کچھ عرصہ تک معطل رہی۔ اس دوران متعدد مقامات پر پرامن احتجاجی جلوس نکالے گئے جس دوران مظاہرین نے گستاخ رسول کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مرکزی سیرت کمیٹی ڈوڈہ، انجمن اسلامیہ بھدرواہ ،انجمن اسلامیہ نیلی بھلیسہ، مسجد کمیٹی ٹھاٹھری، کاہرہ و دیگر مذہبی انجمنوں کی طرف سے پرامن بند کی کال دی تھی جس کے نتیجے میں ضلع بھر میں پیر کے روز مکمل ہڑتال رہی، پیٹرول پمپوں سمیت دیگر کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر بہت کم ٹریفک دیکھنے کو ملا۔ ڈوڈہ، بھدرواہ ،کاستی گڑھ ،گندنہ ،ٹھاٹھری ،کاہرہ ،ملکپورہ ،اخیار پور میں احتجاجی جلوس نکالے گئے ۔امام جامع مسجد کشتواڑ فاروق احمد کچلو نے بتایا’’ہم نے کشتواڑ سمیت پوری چناب وادی میں ایک دن پرامن بند کی کال دی ،تمام جماعتوں نے کشتواڑ کے علاوہ ڈوڈہ ، بھدرواہ ، رام بن میں بھی اس بند کی حمایت کی ‘‘۔کشتواڑ کے ایک عینی شاہد نے غیر اعلانیہ کرفیوجیسی صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں لاوڈ اسپیکر سے اعلان کرکے لوگوں سے کہاگیاکہ وہ اپنے اپنے گھروں کے اندر ہی رہیں۔
خطہ پیرپنچال
راجوری اور پونچھ اضلاع میں پیر کے روز لوگوں نے احتجاج کیا۔راجوری میں مولانا محمد فاروق نعیمی کی سربراہی میں مرکزی عید گاہ پر جمع ہوکر ایک احتجاجی ریلی نکالی جو ڈپٹی کمشنر آفس کمپلیکس پر اختتام پذیر ہوئی جہاں ڈپٹی کمشنر راجوری اور ایس ایس پی راجوری کو ایک تحریری یاداشت بھی پیش کی گئی۔تھنہ منڈی ، درہال اور بدھل میں بھی سول سوسائٹی سے جڑے افراد اور مذہبی رہنمائوں و عام عوام نے احتجاج کرتے ہوئے ملزموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔وہیں پونچھ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ سرنکوٹ میں لوگ مرکزی قصبہ میں جمع ہوئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین بس اسٹینڈ سرنکوٹ پر جمع ہوئے جس کے بعد مقامی افسران نے مظاہرین سے ملاقات کی۔مینڈھر میں بھی مذہبی رہنمائوں نے ایک پریس کانفرنس کی اور اس معاملے پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بانہال
بانہال میں لوگوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے اور ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ قصبہ بانہال میں ہوا۔ بانہال اور اس کے مضافاتی علاقوں میں پیرکی صبح سے ہی تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند تھے اور جمع ہونے کے بعد سینکڑوں لوگوں نے بانہال میں احتجاجی مظاہرے کئے اور ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین میونسپل پارک میں جمع ہوئے جہاں سے وہ پرامن طور منتشر ہوگئے۔ بٹوت قصبہ میں اتوار کے روز ہی احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور پولیس نے احتجاجی مظاہروں کو آگے بڑھنے سے روکا تھا۔ ضلع را م بن کے کھڑی مہومنگت ، شگن اور گول میں بھی احتجاجی ہڑتال رہی اور سینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔