۔887 مقدمات درج، 308 کیس’ پوکسو قانون ‘کے تحت، 1339 مقدمات زیرِ تفتیش
بلال فرقانی
سرینگر// جموں و کشمیر میںبچوں کیخلاف جرائم کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے۔جموں و کشمیر میں 2024 میں بچوں کے خلاف جرائم کے 887 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتے ہیں۔ اس کمی کے باوجود، خطہ بچوںکیخلاف ایک بڑی تعداد میں سنگین مقدمات خاص طور پر POCSO ایکٹ کے تحت اغوا اور جنسی زیادتی کے واقعات کا مقابلہ کر رہا ہے۔دنیا بھر میں 4 جون کو ’’جارحیت کے شکار معصوم بچوں کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے تاکہ جنگ، تشدد، استحصال اور جرائم کا شکار ہونے والے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے، تاہم جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم اور جنسی استحصال کے واقعات اس دن کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔جنوری 2018 میں کٹھوعہ ضلع کے رسا نہ جنگلات میں پیش آئے آصفہ بانو عصمت دری و قتل کے واقعہ کے بعد بچوں کے تحفظ، فوری انصاف اور جنسی جرائم کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ پر زور دیا گیا، تاہم گزشتہ برسوں کے دوران سامنے آنے والے متعدد واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کا مسئلہ اب بھی سنگین نوعیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں بڈگام کے گلوان پورہ علاقے میں کمسن بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر عوامی تشویش میں اضافہ کیا ہے اور بچوں کے تحفظ کے لئے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کی تازہ ترین ’’کرائم اِن انڈیا 2024‘‘ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 2024 کے دوران بچوں کے خلاف جرائم کے 887 مقدمات درج کئے گئے۔
اگرچہ یہ تعداد 2023 میں درج 910 اور 2022 میں 920 مقدمات کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اب بھی تشویشناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم کی شرح 18.1 فی لاکھ بچوں کی آبادی ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اغوا اور بچوں کی گمشدگی کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں جن کی تعداد 243 رہی۔ اس کے علاوہ پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز (پی او سی ایس او) ایکٹ کے تحت 308 مقدمات درج کئے گئے۔ ان میں 228 مقدمات سنگین جنسی حملوں، 65 جنسی استحصال، 7 جنسی ہراسانی اور 5 مقدمات بچوں کو فحش مواد کے لئے استعمال کرنے سے متعلق تھے۔ اسی دوران کمسن بچوں کے ساتھ عصمت دری کے 9 مقدمات بھی درج کئے گئے جبکہ لڑکیوں کے اغوا برائے جبری شادی کے 8 معاملات سامنے آئے۔این سی آر بی کے مطابق سال 2024 کے دوران بچوں کے خلاف جرائم کے مجموعی طور پر 1339 مقدمات زیرِ تفتیش رہے جن میں گزشتہ برسوں سے زیرِ التوا 449 کیس، نئے درج شدہ 887 مقدمات اور 3 دوبارہ کھولے گئے کیس شامل تھے۔ پولیس نے سال کے دوران 802 مقدمات نمٹائے جبکہ 537 کیس سال کے اختتام تک زیرِ تفتیش رہے، جس کے نتیجے میں زیرِ التوا تحقیقات کی شرح 40.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی عرصے کے دوران 444 مقدمات میں چارج شیٹ پیش کی گئی جبکہ فرد جرم عائد کرنے کی شرح 55.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔عدالتی سطح پر بھی صورتحال تشویشناک رہی۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق 2661 مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت رہے۔ سال بھر کے دوران صرف 12 مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں جبکہ 112 مقدمات میں ملزمان بری ہوئے۔ 2500سے زائد مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں جس سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے حصول میں تاخیر کا سامنا ہے۔سینئر وکیل ایڈوکیٹ اعجاز ڈار کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ’ پی او سی ایس او ‘ایکٹ متاثرہ بچوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی، سماجی بدنامی کا خوف اور عدالتی تاخیر اب بھی انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ سال 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ ’’پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز ایکٹ اِن جموں و کشمیر: این اوور ویو‘‘ کے مطابق دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں پی او سی ایس او ایکٹ مکمل طور پر نافذ ہوا اور خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اپریل 2024 سے اپریل 2025 کے درمیان بچوں کے جنسی استحصال کے 310 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جن میں زیادہ تر کیس جموں اور سری نگر اضلاع سے تعلق رکھتے تھے۔دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کشمیرکی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں قانون سے متصادم نوعمر افراد کی تعداد قومی رجحان کے برعکس رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق 2022 میں 361، 2023 میں 358 جبکہ 2024 میں 275 نوعمر افراد قانون سے متصادم پائے گئے۔ان کا ماننا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلئے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، سماجی اداروں اور حکومتی مشینری کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔