بانہال//ضلع رام بن کے سب ڈویژن بانہال کے کھڑی ترگام علاقے میں ایک رابطہ سڑک کی وجہ سے جہاں ایک بڑی بستی کو خطرہ لاحق ہوا ہے وہیں اس علاقے میں سڑک کے نقصان سے دوچار ہوئے متاثرین کو پی ایم جی ایس وائی کی طرف سے کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ہے جبکہ اس بارے میں بنیادی کاغذی لوازمات چھ سات سال پہلے پوری کی گئی ہیں۔ ڈینگرہ ترگام تحصیل کھڑی کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ منڈکباس اور ترگام کے درمیان تعمیر کی جارہی رابط سڑک کی وجہ سے کلومیٹر چھ میں ڈینگرہ ترگام کی بستی کو خطرہ لاحق ہوا ہے اور سڑک کی کھدائی کی وجہ زمین کھسک رہی ہے اور کئی مکانوں کو مبینہ طور سڑک سے نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہPMGSYکی طرف سے تعمیر کی گئی اس سڑک کی تعمیر کے دوران مقامی لوگوں کے نقصانات کو نظر انداز کیا گیا ہے اور متاثرین کو معاوضہ دینے اور حفاظتی دیواریں لگانے میں محکمہ کی طرف سے آنا کانی کہ جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منڈکباس ترگام رابطہ سڑک کی تعمیر سے نقصان کی زد میں آئے محمد اکبر چوند اور محمد سلطان چون پسران عبدالسبحان چوند کے حق میں بالترتیب دو لاکھ چھبیس ہزار اور ایک لاکھ چھیاسی ہزار روپئے مالیت کے نقصان کا تخمینہ بنایا گیا تھا لیکن اب سات سال گزرجانے کے باوجود اس معاوضہ کو متاثرین کے حق میں واگزار نہیں کیا گیا یے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی کی وجہ سے ان غریب کنبوں کو جان کے لالے پڑے ہیں اور اپنے غیر محفوظ رہائشی مکانوں کو چھوڑ کر یہ دو کنبے اسپاس کے ہمسائیوں کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ انہوں کہا کہ2013 میں محکمہ تعمیرات عامہ ڈوڈہ کے سپرانٹنڈنٹ کی طرف سے نقصان کے تخمینے کی ایک رپورٹ محکمہ کو بھیجی گئی ہے لیکن اب آٹھ سال بعد بھی انہیں معاوضہ واگزار نہیں کیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں بات کرنے پر ایگزیکٹیو انجینئر پی ایم جی ایس وائی گھیان سنگھ نے پیر کی شام کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ ترگام روڈ کی تعمیر کی زد میں آنے والے تمام زمینداروں اور متاثرین کو پہلے ہی معاوضہ ادا کیا گیا ہے اور اب اس علاقے سے معاوضہ کی ادائیگی کا کوئی کیس بقایا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سڑک سے بہت دور رہنے والے چند لوگ نقصانات کا دعوی کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے اور تمام متاثرین کی ادائیگی پہلے ہی کی گئی ہے۔