گزشتہ برس ہمیں بتایا گیا کہ کشمیر میںتعمیر و ترقی کا ایک نیا انقلاب آچکا ہے۔ ایک سال گزرنے کو ہے لیکن کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کے دعوے ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوئے۔ رواں سال کے فروری میں فائنانشل کمشنر ، فائنانس ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے ایک دْور رس دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ 2021تک کشمیر میں تشنہ تکمیل پڑے دو ہزار تعمیراتی پروجیکٹوں کو مکمل کیا جائے گا۔جن میں ایک ہزار منصوبوں کو رواں مالی سال کے دوران مکمل کرنا مقصود تھا۔انہوں نے محکمہ پی ایچ ای (نیا نام جل شکتی ہے) کے لئے آٹھ سو نئے منصوبوں کا بھی اعلان کیا تھا۔ ظاہر ہے حالات نامساعد تھے، اور زندگی کی گاڑی پٹری پر آہی رہی تھی کہ کورونا وائرس کے پھیلائونے سب کچھ تتر بتر کردیا۔ حالیہ دنوں لیفٹنٹ گورنر جی سی مْرمو نے اننت ناگ کے دورے کے دوران وادی کی سبھی سڑکوں پر تارکول بچھانے کے لئے متعلقہ محکمہ کے لئے دو سو کروڑ روپے واگذار کرنے کا حکم دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت منصوبوں کا اعلان تو کرتی ہے، کام بھی ہوتا ہے، لیکن محض ایک برفباری کے بعد سڑکیں پھر خستہ ہوجاتی ہیں۔ اس ضمن میں ہمیں کوالٹی کنٹرول کے نظریہ کا گہرائی سے تجزیہ کرنا ہوگا۔
سڑکیں ، پل، ہسپتال ، کالجوں اور سکولوں کی عمارتیں یا سرکاری دفاتر۔ یہ تعمیرات سرکاری فنڈس سے عمل میں آتی ہیں۔ ٹینڈر طلب کئے جاتے ہیں اور مناسب تخمینہ دینے والے ٹھیکیدار کو کام سونپا جاتا ہے۔یہ سلسلہ دہائیوں سے چلا آرہا ہے۔ تعمیرات میں کام آنے والی لکٹری، ٹین، سیمنٹ، لوہا ، بجلی کا سامان، تارکول وغیرہ کا معیار طے کرنے کیلئے باقاعدہ محکمہ تھا جسکا نام سٹورز اینڈ پراکیورمنٹ ڈیپارٹمنٹ تھا۔ یہ اسی محکمہ کے ماہر انجینئروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ سرکاری تعمیرات میں کام آنے والے سازوسامان کی جانچ کرکے معیار کا معائنہ کرتے تھے اور اگر کبھی کوئی بھی سامان غیرمعیاری پایا جاتا تو سپلائیر یا ٹھیکیدار کو طلب کرکے ٹینڈر منسوخ کیا جاتا تھا۔ سابق وزیراعظم بخشی غلام محمد کے دورِ اقتدار میں یہ محکمہ ’’سینٹرل سٹورز‘‘ کے نام سے قائم ہوا تھااورشام لعل واٹھ، سید تجمل، سیف الدین درابو وغیرہ کے علاوہ سابق وزیراعلی جی ایم شاہ جیسے دیانت دار اور قابل افسروں نے اس محکمہ کی قیادت کی ہے۔اس محکمہ نے دہائیوں تک سرکاری تعمیرات کے لئے کوالٹی کنٹرول کا ایک باقاعدہ کلچر قائم کیا تھا۔ اس محکمہ کا رابطہ ملک کی بڑی لیبارٹریوں کے ساتھ تھا اور لوہا ہو یا ٹین، سیمنٹ ہو یا تارکول، لکڑی ہو یابجلی کی تاریں ہر طرح کے سامان کی تکنیکی جانچ پڑتال کی جاتی تھی۔جب تک لیبارٹری سے رپورٹ موصول نہیں ہوتی، تعمیر کا کام شروع نہیں ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے ساٹھ سال قبل جو پل یا سرکاری عمارتیں تعمیر ہوئی تھیں، اْن کی مضبوطی اور رکھ رکھائو آج بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اگر معیار پر سمجھوتہ نہ کریں تو عوامی خزانہ سے خرچ کی جانے والی ایک ایک پائی عوامی خدمت میں ہی صرف ہوجاتی ہے۔ یہ محکمہ گویا سرکاری تعمیرات کی کسوٹی تھا، جو مال یا سامان اس کسوٹی پرکھرا اْترتا تھا وہی تعمیر میں لگایا جاتا تھا۔
محکمہ سٹور پانپور میں ایک سو پچیس کنال اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور آج بھی محکمہ کے پاس چار گودام ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک میں اڑھائی لاکھ سیمنٹ کی بوریاں ایک ساتھ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ تعمیرات کیلئے خام مال کا معیار آنکنے کا یہ سلسلہ چند سال پہلے ہی ختم کیا گیا۔ محکمہ سٹور میں اب اْلو بول رہے ہیں اور تعمیرات کا معیار روز بروز گر تا جارہا ہے، کیونکہ ٹھیکیدار کے جو من میں آتا ہے وہ وہی مال استعمال کرتا ہے۔ نہ لوہے کی جانچ ہوتی ہے نہ ٹین پرکھا جاتا ہے، نہ لکڑی کا معائنہ ہوتا ہے اور نہ سیمنٹ کا معیار دیکھا جاتا ہے۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔سرکاری عمارتوں میں آگ کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں۔ ہسپتال ہو یا سکول کی عمارت، چند سال کے اندر اس کی دیواروں سے سیمنٹ اْکھڑ جاتا ہے، لکڑی بوسیدہ ہوجاتی ہے اورکھڑکی دروازے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
حکام سے یہ پوچھنے کا وقت آگیا ہے کہ تعمیر و ترقی کے نام پر جو اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں وہ معیار طے کرنے کا ضابطہ موجود نہ ہونے کے باعث ضائع ہوجاتے ہیں۔ تعمیر و ترقی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں ہے، بلکہ ایک عمل ہے اور اس عمل کو معیار کی دیکھ پرکھ کے مرحلے سے نہ گزارا گیا تو عوامی بہبود کے نام پر جو پیسہ بہایا جاتا ہے وہ افسروں اورٹھیکیداروں کی تجوریاں بھر تو سکتا ہے لیکن درست اور معیاری تعمیر و ترقی کا ضامن نہیں ہوسکتا۔
کوالٹی کنٹرول ایک بنیادی مسلہ ہے، لیکن حکام نے اس بنیادی مسلے کو ایڈریس کرنے والے ادارے کو ہی منجمد کرکے رکھ دیا ہے۔ اب محکمے تعمیروترقی یا سازو سامان کی خریداری کو آئوٹ سورس کررہے ہیں اور نتیجہ یہ کہ ہماری سڑکیں، پل ، باغ باغیچے، ہسپتال ، تعلیمی ادارے غیرمعیاری انفراسٹرکچر کا کھلا اشتہار بن کے رہ گئے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے جب حکومتی سطح پر ہونے والی تعمیرات کے معیار حال یہ ہو تو عام لوگ ، جو معیار کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتے، جب گھر بناتے ہیں انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اینٹ، سیمنٹ، لوہا اور بجلی کا سامان خریدتے وقت اس سامان کو کیسے پرکھیں۔متوسط طبقے کے لوگ بینکوں سے قرض لے کر مکان تعمیر کرتے ہیں، لیکن کیا انہیں معیاری مٹیرئیل میسر آتا ہے؟ جواب نفی میں ہے، کیونکہ حکومت جب خود اپنے کاموں میں معیار چیک کرنے میں ناکام ہے تو عام لوگوں کے لئے یہ سہولت کیسے ممکن ہوگی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایک بار اس باپت سوچے کہ سٹورز محکمہ کو مفلوج کیوں کیا گیا؟ اگر محکمہ ختم ہی کرنا ہے تو اس کا متبادل کیا ہے؟ قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مجموعی طور پر دیانت دار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر جمہوری معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا حکومت نے فرض کرلیا ہے کہ ٹھیکیدار بھی دیانت دار ہے اور سیمنٹ یا لوہا فروخت کرنے والا تاجر بھی؟ اگر حکومت سرکاری و غیرسرکاری تعمیرات کے لئے معیارسے متعلق حساس نہیں ہے تو لوگوں کی بھلائی اور معاشرے کی بہبودی کے سبھی وعدے جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔
لیفٹنٹ گورنر ، چیف سیکٹریٹری اور ڈویڑنل کمیشنر کو چاہیے کہ خزانہ عامرہ سے اربوں روپے خرچ کرکے تعمیر و ترقی کے تمار باندھنا چاہتے ہیں تو تعمیر و ترقی کے لئے جو ٹھیکیدار کام کرتے ہیں، اْن سے یہ حساب کون لے کہ انہوں نے سڑکوں، پلوں اور عمارتوں میں کس معیار کا مٹیریل استعمال کیا ہے۔ گورنر انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ سٹورز اینڈ پراکیورمنٹ محکمہ کی تجدید کرے اور اسے کنسٹرکشن کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں بدل کر سرکاری سطح پر ہورہے تعمیراتی کاموں کی دیکھ ریکھ اور معیار کی بہتری کا کام اسی محکمہ کو سونپ دے۔ اگر ماضی میں یہ سب ممکن تھا تو آج ٹیکنالوجی کے دور میں کیوں نہیں؟
رابطہ: 9469679449
�������